اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے حجرہ شاہ مقیم میں صفائی سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے،، عدالت نے متعلقہ سیشن جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کرتے ہوئے جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حجرہ شاہ مقیم میں
صفائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے اب حجرہ شاہ مقیم کی گلیاں صاف ہو گئی ہیں، قبرستان کی کیا پوزیشن ہے، کیا تجاوزات ختم ہو گئی ہیں؟ جس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ قبرستان سے تجاوزات کا خاتمہ ہو چکا۔درخواستگزار نے بتایا کہ تاحال اس تصویر والی گلی میں سیوریج لائن نہیں بچھائی گئی، عدالت نے متعلقہ سیشن جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرتے ہوئے جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور حجرہ شاہ مقیم ازخود نوٹس نمٹا دیا۔واضح رہے کہ گندگی سے جنازہ لے جانے والی ایک تصویر پر لیے جانے والے از خود نوٹس میں چیف جسٹس نے صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم کی انتظامیہ کو گندگی صاف کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی گندگی سے جنازہ لے جانے کی تصویر سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران میونسپل کمیٹی کے چیئرمین عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے تاہم حجرہ شاہ مقیم کے رکن صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے
کہا کہ اس علاقے سے چنا ہوارکن اسمبلی کیوں پیش نہیں ہوا تو سرکاری وکیل نے آگاہ کیا کہ ایم پی اے ملک سے باہر ہیں۔چیف جسٹس نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کے علاقے میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ جہاں سے جنازہ گزرا وہ جگہ اس قابل نہیں تھی کہ جنازہ گزر سکے’۔چیئرمین میونسپل کمیٹی نے بتایا کہ ‘حالات بہتر ہو رہے ہیں اور 2 ہفتوں میں مزید بہتری ہوگی’۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‘آپ کے علاقے میں قبضہ مافیا کی شکایات بھی ہیں’۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے حجرہ شاہ مقیم میں صفائی کے لیے انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے رواں ماہ 20 مارچ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر پر ازخود نوٹس لیا تھا، جس میں لوگ گندے پانی میں جنازہ لے جاتے دکھائی دے رہے تھے، بعدازاں اس جگہ کی نشاندہی اوکاڑہ کے علاقے حجرہ شاہ مقیم کے نام سے ہوئی تھی۔(ع،ع)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2jqi4nb
via IFTTT

No comments:
Write komentar