کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میئر کراچی کیخلاف اتنے شواہد ہیں کہ وہ میئر نہیں رہ سکتے، میئر کراچی کے خلاف 1700 کروڑ روپے کا اسکینڈل ہے، میئر کراچی کی ٹیم میں ڈائریکٹر اکاؤنٹس نایاب ،
محمد شکیب، اصغر عباس، لیاقت قائم خانی، ڈی جی پارکس اشفاق مرزا، ڈرائیور جمیل ، سیکرٹری ریحان، حسن نقوی شامل ہیں، ایک گریڈ کے مالیوں طلحہ اور فیصل کو سترہ گریڈ کی تنخواہ ، مراعات اور میڈیکل سہولتیں دی جارہی ہیں، میئر کراچی میڈیا ٹیموں کو اپنے کیے ہوئے ترقیاتی کام دکھادیں، میئر کراچی ہر فورم پر کہتے ہیں وہ سندھ حکومت کا آڈٹ مانیں گے، سندھ حکومت تو خود اس کھیل میں ملوث ہے، اس کا آڈٹ پرائیویٹ کمپنی سے کروایا جانا چاہئے، اکاؤنٹس کی ہیرا پھیری ایڈجسٹ کرنے کیلئے میئر کراچی پانچ سات دن سے دن رات کام کررہے ہیں۔میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ نیب، اینٹی کرپشن اور سندھ حکومت کو جوابدہ ہیں، نیب اگر تحقیقات کرتی ہے تو مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں۔مجھے فیصل واوڈا کے الزا ما ت کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے، فیصل واوڈا جو دستاویز دکھارہے ہیں یہ پبلک ڈاکیومنٹ ہے جو ویب سائٹ پر دستیاب ہوتا ہے، نیب کوا گر مزید دستاویز کی ضرورت ہوئی تو میں دیدوں گا، اگر میرا محکمہ کوئی غلط کام کررہا ہے تو نیب اور اینٹی کرپشن کو اسے دیکھنا چاہئے اور میں خود بھی محکمے کو دیکھ رہا ہوں، ٹینڈر کے طویل عمل سے گزرنے کے بعد جب کام مکمل ہوجاتا ہے
تو اے جی سندھ کانٹریکٹر کو چیک جاری کرتا ہے، ہمارا ترقیاتی بجٹ چار ارب سے تھوڑا زیادہ ہے ،سوا چار ارب روپے ہماری تنخواہوں میں چلا جاتا ہے جبکہ تقریباً سوا چار ارب رو پے ترقیاتی اسکیموں میں لگتے ہیں، ترقیاتی اسکیموں کیلئے پیسے حکومت سندھ جاری کرتی ہے جس کا آڈٹ ہوتا ہے، اگر ہم نے رولز کے برخلاف کوئی کام کیا ہے تو نیب، اینٹی کرپشن اور سندھ حکومت کو جوابدہ ہیں، نیب اگر تحقیقات کرتی ہے تو مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں۔ ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے کہا کہ خواتین کیخلاف جو بھی غلط زبان استعمال کرے اس کی سب کو مذمت کرنی چاہئے، بجٹ تقریر کے دوران پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی وزیرخزانہ کو ہراساں کررہی تھیں، جب ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں تو ایسے الفاظ منہ سے نکل جاتے ہیں جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوتا ہے، عمران خان نے ریزرو سیٹوں پر آنے والی خاتون اراکین اسمبلی سے متعلق واضح طور پر کہا کہ مجھے پتا ہے مخصوص نشستوں کی خواتین کیسے اور کہاں سے آتی ہیں،ن لیگ میں اپنی غلطیاں درست کرنے کا ماحول ہے اسی لئے ہمارے جلسوں میں ایسے واقعات نہیں ہوتے
جیسے پی ٹی آئی کے جلسوں میں ہوتے ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف بخوبی سمجھتے ہیں کہ تمام عورتوں کو یکساں عزت دینی چاہئے، سب سے پہلے عمران خان کو ریزرو سیٹوں پر آنے والی خواتین سے متعلق بات پر معافی مانگنی چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ جن سیاسی لیڈروں نے خواتین کی تذلیل کی ان کی naming and shaming ہونی چاہئے، ایسے سیاستدانوں میں رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف اور عمران خان سرفہرست ہیں، نواز شریف نے صنفی بنیادپر بینظیر بھٹو کی توہین کرنے کی کوشش کی، مکافات عمل دیکھئے اب نواز شریف کی صاحبزادی پارٹی عہدے کیلئے امیدوار ہیں،خواتین کو عزت نہ دینے والے ووٹ کو عزت دینے کی بات کررہے ہیں، پی پی وزیر کی طرف سے نصرت سحر عباسی کے ساتھ غلط زبان کے استعمال پر پارٹی قیادت مذمت کے ساتھ عملی قدم بھی اٹھایا، عرفان اللہ مروت نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی کوشش کی تو بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو نے اس کیخلاف پوزیشن لی، خواتین کیخلاف غلط زبان استعمال کرنے والے سیاستدانوں کو کہیں نہ کہیں سزا ہونی چاہئے۔مسلم لیگ فنکشنل کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین بہت مشکلات سے گزر کر سیاستدان یا رکن اسمبلی بنتی ہیں،
اگر خاتون سیاسی کارکنوں کیخلاف نازیبا زبان استعمال کی جائے گی تو خواتین سیاست میں آنا چھوڑ دیں گی، پرانے سیاستدانوں کی طرف سے خواتین کیلئے تضحیک آمیز جملے قابل قبول نہیں ہیں، سندھ اسمبلی میں میرے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی، اگر میں اس وقت چپ رہتی تو یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا، رانا ثناء اللہ نے خواتین سے متعلق نہایت افسوسناک الفاظ استعمال کیے، انہیں جب الیکشن میں ضرورت پڑتی ہے تو خواتین کو ووٹ دینے کیلئے بلاتے ہیں، اب کسی بھی خاتون سے متعلق غلط رویہ اختیار کیا جائے گا تو تمام سیاسی جماعتوں کی خاتون ارکان ایک ہوجائیں گی، عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ خواتین کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرنے والے لوگوں کو آئندہ ووٹ نہ دیں۔ میزبان محمد جنید نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پارلیمنٹرینز ایک طرف پارلیمنٹ کو مقدس جانتے ہیں لیکن اسی پارلیمنٹ کا حصہ ہوتے ہوئے بدتہذیبی کرتے ہیں، غیراخلاقی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، کبھی پارلیمنٹ میں موجود خواتین کیلئے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں تو کبھی پارلیمنٹ کے باہرخواتین کیلئے غیراخلاقی الفاظ استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے سیاسی مخالفین کے گھر کی خواتین کیلئے بھی معیوب الفاظ استعمال کرتے ہیں، توہین آمیز لہجہ، نازیبا زبان، بدتہذیبی، ذومعنی باتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر
ایک عجیب ماحول پیدا کررہی ہیں، یہ سب کچھ ایک عرصے سے ہوتا آرہا ہے، یہ سب کرنے والے باشعور ارکان پارلیمنٹ ہیں، ایسے کرنے والے کسی ایک جماعت کے لوگ نہیں ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان اس حوالے سے بری شہرت رکھتے ہیں، گزشتہ روز وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا ایک ایسا ہی بیان سامنے آیا، رانا ثناء اللہ نے 29اپریل کو تحریک انصاف کے جلسے میں شریک خواتین کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی، ایسے افسوسناک اور شرمناک الفاظ ایک پارلیمنٹرین ہی کو نہیں کسی کو بھی زیب نہیں دیتے ہیں، مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے رانا ثناء اللہ کے بیان پر معذرت کی ہے لیکن رانا ثناء اللہ نہ اپنے بیان پر شرمندہ ہیں نہ ہی انہوں نے معذرت کی ہے، رانا ثناء اللہ کہتے ہیں پی ٹی آئی اپنے گریبان میں جھانکے کہ انہوں نے عائشہ گلالئی کے ساتھ کیا کیاتھا، رانا ثناء اللہ کے بیان پر تحریک انصاف کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، پی ٹی آئی نے رانا ثناء اللہ کے خلاف خاتون محتسب سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، رانا ثناء اللہ سے قبل ن لیگ ہی کے رہنما عابدشیر علی نے تحریک انصاف کی خواتین رہنما شیریں مزاری کیلئے نازیبا استعمال کیے،
عابد شیر علی کا کہا گیا لفظ قابل مذمت ہے، اس میں جو کچھ کہا گیااسے ہم ٹی وی پر دکھا بھی نہیں سکتے ۔ محمد جنید نے کہا کہ ہمارے کچھ رہنماؤں کی زبان خواتین کے حوالے سے بہت بے لگام ہے، انہیں لگام ڈالنے کیلئے ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے، انہیں پابند کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ خواتین کیلئے نازیبا الفاظ کے استعمال سے باز رہیں، یہ سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا بلکہ پہلے سے چلا آرہا ہے، یکم اگست 2017ء کو تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے عائشہ گلالئی کی بہن سے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے، مارچ 2017ء میں ن لیگ کے جاوید لطیف نے مراد سعید کے گھر کی خواتین کیلئے معیوب الفاظ استعمال کیے،جاوید لطیف نے بعد میں اس پر معذرت کی لیکن ان کے الفاظ سے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہیں، 20جنوری 2017ء کو سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رہنما صوبائی وزیر امداد پتافی نے مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کیے، انہیں چیمبر میں آنے کیلئے کہا اور ڈرامہ کوئین کہا، باقی ارکان ان باتوں سے وہاں محظوظ ہوتے رہے، پیپلز پارٹی کی جانب سے بختاور بھٹو اور بلاول بھٹو نے اس کی مذمت کی،
امداد پتافی کیلئے شوکاز نوٹس جاری ہوا اور امداد پتافی کو معافی مانگنی پڑی، قومی اسمبلی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں، جون 2016ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے اپنے خطاب کے دوران شیریں مزاری کے احتجاج کرنے پر ان کیلئے ٹریکٹر ٹرالی کا لفظ استعمال کیا، ٹریکٹر ٹرالی کے لفظ پر ایوان میں قہقہے بلند ہوتے رہے جو بہت افسوسناک بات تھی، معاملہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی تک محدود نہیں ہے، جمعیت علمائے اسلام ف کے حافظ حمد اللہ نے ٹیلیویژن ٹاک شو کے دوران صحافی اور تجزیہ کار ماروی سرمد کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک کیا۔ محمد جنید کا کہنا تھا کہ ایسے عمل کو روکنے کیلئے کارروائی کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر جب تک خواتین کی توہین کرنے والے ارکان کیخلاف کارروائی نہیں کی جائے گی انہیں سزا نہیں دی جائے گی یہ سلسلہ رُک نہیں سکے گا، ہر سیاسی جماعت کی طرف سے ایسا ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ خواتین کیخلاف تضحیک آمیز رویے کا خاتمہ کیا جاسکے، خاص طور پر وہ مرد جو خواتین کے حوالے سے ایسا رویہ اپناتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، عورتوں سے متعلق فقرے بازی اور ایسا رویہ
مغرب میں بھی موجود ہے مگر فرق یہ ہے کہ مغرب میں ایسے منفی رویوں کو معاشرے سے ختم کرنے کیلئے موثر قانون بنائے جارہے ہیں، فرانس میں خواتین کی عزت نفس سے متعلق خصوصی قانون متعارف کروایا گیا ہے، اس قانون میں کہا گیا ہے کہ جو بھی عورت پر آواز کسے گا، غیرشائستہ زبان یا غیرمہذب جملہ کہے گا اسے 90یورو جرمانہ ادا کرنا ہوگا، اس ضمن میں بیلجیم میں قانون بن چکا ہے، ایک ڈرائیور کی جانب سے خاتون پولیس افسر کو یہ کہنے پر تین ہزار جرمانہ کیا گیا کہ وہ کام کرو جو عورتوں کے کرنے کے ہیں، پاکستان تحریک انصاف سے منسلک گلوکار ابرار الحق نے بھی ایک ٹوئٹ میں احسن اقبال کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اب جو کچھ ان کیخلاف ہوگا اس میں احسن اقبال کو labour pain ہوگا ، ابرار الحق کی جانب سے یہ بات کہنا انتہائی افسوس کا مقام ہے، خواتین بچے کی پیدائش کے وقت جس تکلیف دہ مرحلہ سے گزرتی ہیں یہ کسی طرح بھی مذاق یا طنز کے طور پر جملے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے،ہم امید کرتے ہیں کہ ابرار الحق اپنی ٹوئٹ بھی واپس لیں گے اور اپنے اس جملے پر معافی بھی مانگیں گے۔محمد جنید نے تجزیے میں مزید کہا کہ کراچی کی سیاست میں طویل عرصے سے ہلچل جاری ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف دھڑوں میں بٹنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتیں کراچی میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں، اسی دوران تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کراچی کے میئر وسیم اختر پر ساڑھے نو ارب روپے بدعنوانی اور سیاسی بنیادوں پر کے ایم سی میں بھرتیوں کا الزام لگادیا ہے۔ (ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HHXUDP
via IFTTT

No comments:
Write komentar