(تسنیم خیالی)
کئی دہائیوں سے امت مسلمہ کا حال بدستور بدسے بدتر ہوتا جارہا ہے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیںاور ہر موڑ پر سازشیں کرتے رہتے ہیں البتہ اس حال پر پہنچانے میںمسلمانوں کے اپنے اختلافات اور ایک دوسرے سے نفرت نے کلیدی کردار ادا کیا،یمن تنازعہ میں بھی ہمیں دشمنوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہم خود ہی ایک دوسرے کو تباہ کرنے پر آئے ہوئے ہیں، اتنی مشکل صورت اور سنگین حالات میں بیشتر علمائے دین اور مفتی حضرات امت کی وحدت کے لیے قابل ذکر کردار ادا نہیں کررہے اور بعض اوقات ’’بے ہودہ‘‘ اور غیر ضروری معاملات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، علماء اسلام اور مفتی حضرات کی ایک ’’غیر معمولی‘‘ تعداد ’’جنسی‘‘ اور’’ کھانے پینے ‘‘ کے معاملات اور ان سے منسلک فتوے جاری کرنے میں مصروف رہتے ہیں، آپ کو شاید معلوم ہوکہ آج کل ’’جنسی روبوٹس‘‘ کا معاملہ زیربحث ہے اور مسلمان حضرات ان سوچوں میں گم ہیں کہ ان ’’جنسی روبوٹس‘‘ کا استعمال حلال ہے یا حرام، (ویسے تو یہ بات اب عام ہوچکی ہے کہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ فحاشی کا مواد متعدد اسلامی ممالک میں دیکھا جاتا ہے، اس بات سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوان کس سمت جارہے ہیں)، خیر جنسی معاملات میں حلال وحرام اور زنا جیسے خطرناک کبیرہ پر اکثر مفتی حضرات کی توجہ ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر اس قدر نہیں جس قدر دی جارہی ہے ۔
حال ہی میں حذیفہ المسیرنامی مصری عالم دین نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ روبوٹس کے ساتھ جنسی تعلق زنا کے زمرے میں نہیں آتا مگر وہ حرام عمل ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سعودی شہریت حاصل کرنے والی ’’صوفیا‘‘ نامی مشہور روبوٹ کے ساتھ جنسی تعلق ’’زنا‘‘ نہیں البتہ حرام ہے، اس فتوے کے باعث مصر میں ہلچل مچ گئی ہے اور بیشتر المسیر کے فتوے کو درست قرار نہیں دے رہے، سوشل میڈیا پر غیر معمولی تعداد میں صارفین کا کہنا تھا کہ عالم اسلام اور عرب دنیا میں جنسی روبوٹس اور ’’صوفیا‘‘ کے علاوہ اور بہت سےضروری معاملات ہیں جن پر بات چیت ہونی چاہیے کیا مفتی صاحب کو صرف یہی موضوع ملا؟
اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک اور مصری عالم دین نے فتویٰ جارہی کیا تھا کہ شوہر کی اپنی مردہ بیوی کے ساتھ ہمبستری ’’حرام نہیں؟!! اس قسم کے عجیب وغریب موضوعات پر آئے روز فتوے سامنے آتے ہیں اور بات ہوتی رہتی ہے، ایک اور ’’اہم ایشو‘‘ بھی مسلمانوں کی دلچسپی کا حامل ہے اور ہے کھانے پینے کی اشیاء، کیا فلان گوشت حلال ہے؟ کیا فلان پینے والی چیز حرام تو نہیں ؟ کیا اس کمپنی کی تیار شدہ کردہ اشیاء کھانا حلال ہے یا حرام؟
اس قسم کے ’’بے تکے‘‘ اور غیر ضروری امور پر ہم مسلمانوں کی توجہ مرکوز ہے جبکہ متعدد اسلامی ممالک جنگوں کے باعث تباہ ہوچکے ہیں، اسرائیل اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور خود مسلمان اپنے باہمی اختلافات کو ختم کرنے کا نام ہی نہیں لےرہے اور ان اختلافات کو بہانہ بناکر دشمن کو چھوڑتے ہوئے ایک دوسرے سے دست بہ گریبان ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مفتی حضرات ’’معدہ ‘‘اور ’’ناف کے نیچے‘‘ سے اپنی توجہ کو ہٹا کر امت کے اتحاد پر توجہ دیں اور اختلافات دور کرنے کے باعث بننے والے فتوے جاری کریں، اور امت مسلمہ سے گزارش ہے کہ خدارا ’’معدہ ‘‘اور بالخصوص ’’ناف کے نیچے سے نکلیں۔
The post امت کا حال خراب اور مفتی حضرات ’’بیہودہ‘‘ معاملات پر فتوے جاری کررہے ہیں! appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2I1Hdmb
via IFTTT


No comments:
Write komentar