اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان صاحب الیکشن کیوں جیتے ہیں ؟ اس کا ایک سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایک انسان گذشتہ بائیس سال
سے مسلسل لگا ہوا تھا، عمران خان میں ایک مستقل مزاجی ہے۔ باقی ہم نے دیکھا کہ کسی پر پٹواری اثرکر جاتا ہے ، کسی پر پولیس اثر کر جاتی ہے کوئی وزات لے کر سائیڈ پر ہوجاتا ہے۔ہر بندے کی ایک قیمت تھی ،لیکن عمران خان ایسے نہیں تھے۔ وہ روز ہارتے تھے اور روز ہی ایک نئے جذبے کے ساتھ آتے تھے۔ دوسرا عمران خان کی جیت میں پانامہ کا کیس بھی ایک اہم عنصر ہے۔ پانامہ کیس منظر عام پرآنے کے بعد عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں پہلا جملہ یہ کہا تھا کہ پانامہ کیس قدرت کا از خود نوٹس ہے،
حالانکہ میں اس کو نہیں مانتا تھا کیونکہ ہم نے ایسا ہوتا پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔جے آئی ٹی بنی تب بھی میں نے یہی کہا کہ کچھ نہیں ہونے والا ۔ کیونکہ ہمارے یہاں راؤ انوار باہر ہیں، خالد لانگو باہر ہیں اور عابد باکسر بھی باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جیسا کوئی شخص نہیں تھا جس کی کوئی قیمت نہ ہو، عمران خان اسی لیے عمران خان نے الیکشن جیتا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عامانتخابات 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف کو واضح اور نمایاں برتری حاصل ہوئی۔مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے سیاسی جوڑ توڑ بھی کیا جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے تاہم تاحال کابینہ کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ کابینہ کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کی وجہ پارٹی رہنماؤں کے نیب کیسز کی جانچ پڑتال ہے۔ نیب زدہ کسی بھی رہنما کو کوئی عہدہ یا وزارت نہیں دی جائے گی۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2LOpxMy
via IFTTT

No comments:
Write komentar