Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 30 August 2018

مسلم لیگ (ن) اپنے دور حکومت میں شہ خرچیاں کیسے کرتی رہی؟ فواد چوہدری نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سینٹ کو بتایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پنجاب اور مرکز میں40ارب روپے اشتہارات پرخرچ کر دیئے ہیں ،ْ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق موجودہ حکومت کی پروجیکشن پر کوئی رقم خرچ نہیں کی جائے گی ۔

بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر اعظم سواتی اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق حکومت نے ذاتی پروجیکشن کے لئے اشتہارات پر بہت زیادہ رقم خرچ کی اور سابق وفاقی حکومت نے17 ارب روپے اشتہارات پر خرچ کردیئے اور اگر اس میں پنجاب کی حکومت کی طرف سے اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم بھی شامل کرلی جائے تو یہ 40 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح ہدایات دی ہیں کہ موجودہ حکومت کی پروجیکشن پر کوئی رقم خرچ نہیں کی جائے گی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ سرکاری میڈیا پر سینسر شپ ختم کردی گئی ہے اور اب اپوزیشن جماعتوں کو بھی پی ٹی وی پر وقت دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ تین مہینے میں مختلف علاقوں میں بوسٹرز کی تنصیب کا عمل مکمل کیا جائے۔سینیٹر شاہزیب درانی، سینیٹر نعمان وزیر اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ ان مقدمات اور ایف آئی آرز کے نتیجے میں 350 ملزم گرفتار ہوئے تھے جن میں سے 65 کو سزا دی گئی جبکہ 45 بری ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ عدالتوں نے ایک کروڑ 27 لاکھ 20 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ فاٹا میں سب سے زیادہ 689 اور ملک کے دیگر علاقوں میں 176 مدارس رجسٹر ہوچکے ہیں۔ مدارس کے طلباء کو بھی قومی دھارے میں لانے، تعلیم،، ملازمت اور قومی زندگی میں کردار ادا کرنے کے لئے ریاست اقدامات کرنے کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تبدیلی کا وژن یہ ہے کہ سب کو برابر کے مواقع ملنے چاہئیں اور مدارس کے بچے بھی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں ملازمتیں دینے کے لئے اصلاحات کی جائیں گی اور مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کا عمل تیز کیا جائیگا۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ2012-13ء میں ریلوے کا خسارہ 30 ارب 50 کروڑ روپے تھا جو 2015-16ء میں 27 ارب روپے تک لایا گیا لیکن 2016-17ء میں ریلوے کے اخراجات ایک سال میں 10 ارب 80 کروڑ روپے بڑھ گئے جس کی وجہ سے پاکستان ریلوے کا خسارہ اس سال 40 ارب 70 کروڑ روپے تک بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی کل اراضی ایک لاکھ 70 ہزار ایکڑ ہے جس میں ایک لاکھ 26 ہزار ایکڑ استعمال ہو رہی ہے۔

20 ہزار ایکڑ ہم نے مستقبل کے لئے رکھی ہے جبکہ باقی اراضی لیز پر دینے یا فروخت کرنے کے حوالے سے ایک تجویز کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی اراضی پر بیٹھے غریبوں کو نہیں اٹھایا جائے گا تاہم جن لوگوں نے پلازے بنائے ہوئے ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔۔وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی پاکستان میں براہ راست یا بالواسطہ زمین یا زمین میں کوئی مفاد یا جائیداد نہیں خرید سکتا۔ماسوائے اس صورت میں جب وفاقی یا صوبائی حکومت تحریری طور پر اس کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ اگر کسی غیر ملکی باشندے نے براہ راست یا بالواسطہ زمین حاصل کی ہے تو وہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی ایماء پر کسی مجاز اتھارٹی کے سامنے اپنی ایسی زمین یا جائیداد کے مکمل کوائف اور جس مقاصد کے لئے اسے استعمال کر رہا ہے، اسے پیش کرنے کا پابند ہے۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں 2009سے اپریل 2018تک وفاقی دارالحکومت سے 171افراد لاپتہ ہوئے، جن کے مقدمات رجسٹرڈ کئے گئے، ان میں سے 111لاپتہ افراد بازیاب کروالئے گئے جبکہ 60ابھی بھی لاپتہ ہیں۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی میں ملوث 16022 افراد کو گرفتار کیا گیا، سب سے زیادہ 10993افراد کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا جبکہ سندھ سے 2728،،بلوچستان سے 147، خیبرپختونخوا سے 1967، اسلام آباد سے 61 اور گلگت بلتستان سے 126 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور فاٹا سے گرفتار افراد کی تفصیلات دستیاب نہیں، پانچ سالوں کے دوران 2525افراد پر جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائیں دی گئیں،جن میں سے 376کو سزائے موت دی گئی۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2C0BYkJ
via IFTTT

No comments:
Write komentar