Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 30 September 2018

سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیکر ماراجارہا ہے؟

 

(تسنیم خیالی)

حال ہی میں سعودی فورسز نے ایک بار پھر ملک کے مشرقی حصے میں واقع شیعہ اکثریتی علاقہ القطیف میں فوجی آپریشن شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں اب تک تین شیعہ نوجوان محسن حسن احمد آل زاید، مفید حمزہ علی العلوان اور خلیل ابراہیم آل مسلم انتہائی درندگی سے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے، قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی نیوز ایجنسی نے شہید ہونے والے تینوں نوجوانوں کودہشت گرد قرار دیتے کہا کہ سعودی فورسز القطیف میں دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف کارروائی کررہی ہیں،

جس میں اب تک دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تین افراد مارے جا چکے ہیں۔سعودی عرب آل سعود کی سیاسی اور آل الشیخ کی مذہبی حکمرانی میں ایک نسل پرست ریاست بن چکی ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ شیعہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں حالانکہ سعودی عرب کے شیعہ حضرات نے بیشمار مرتبہ یہ کہا ہے کہ وہ سعودی شہری ہیں اور سعودی عرب کے ہی وفادار ہیں،انکا موقف یہ ہے کہ سعودی نظام حکومت نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کے ساتھ ساتھ انہیں،

ان کے متعدد شہری حقوق سے محروم کیا ہوا ہے جو کہ عموماً باقی شہریوں کو حاصل ہیں، علاوہ ازیں سعودی عرب میں بسے شیعہ مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انکے علاقوں میں سعودی حکومت ترقی کے کام نہیں کرتی اور یہ علاقے خستہ حال ہوچکے ہیں، آل سعود حکومت کے اس رویے کے باعث سعودی عرب کے شیعہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرتے رہتے ہیں، البتہ آل سعود کی فورسز انتہائی بربریت اور سفاکیت کے ساتھ مظاہرین کو کچل دیتی ہے، کسی کو جیل میں بھیج دیتی ہے، کسی کو سزائے موت،

دلواتی ہے اور کسی کوخود ہی موت کی نیند سلادیتی ہے۔جنوری 2016ء میں معروف سعودی شیعہ مذہبی رہنمانمر باقر النمر کو سزائے موت کا حکم سنا کران کا سر قلم کر دیا گیا تھا، ان کے ساتھ اس دن اور بھی شیعہ شہریوں کے سرقلم کئے گئے، یہی نہیں بلکہ انہیں سزا حقیقت میں دہشت گردی میں ملوث افراد کے ساتھ دی گئی تھی تاکہ یہ تاثر قائم ہوسکے کہ النمر اور دیگر شیعہ افراد بھی دہشت گرد تھے، سعودی میڈیا نے بھی اپنی خبر میں النمر کو دہشت گرد کہا جو کہ انتہائی غلیظ اور گری ہوئی حرکت تھی۔

بات صرف شیعہ مسلمانوں کی حدتک نہیں، حال ہی سعودی حکومت نے متعدد سعودی مذہبی اسکالرز جنکا تعلق سنی مکتب فکر سے ہے کو بھی دہشت گرد قرار دیکر انہیں سزائے موت دینے کا اعلان کیا اور ان حضرات کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی اور اسے بہتربنانے کا مطالبہ کیا،جسکے جواب میں حکومت نے انہیں گرفتار کرکے دہشت گرد قرار دیکر سزائے موت کے احکامات سنادیے، کیا اپنے جائز اور قانونی حقوق کا مطالبہ کرنے والے سعودی عرب کے شیعہ دہشت گرد ہیں؟ کیا نظام کو اچھی نصیحت کرنے والے سنی مذہبی سکالرز دہشت گرد ہیں؟۔

The post سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیکر ماراجارہا ہے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2zEVsYP
via IFTTT

دہشت گرد بغدادی کا نیا ٹھکانہ

 

نگرھار (مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کا سرغنہ ابوبکر البغدادی نگرھار پہنچادیا گیا ہے، مشہورعرب اخبار الشر ق الاوسط نے رواں ہفتے اتوار کے شمار میں انکشاف کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیم دولت اسلامیہ کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کو افغانستان کے صوبے نگرھار پہنچادیا گیا ہے.اخبار نے سیکورٹی اداروں اور افغانستان میں دہشتگردگروہوں میں موجود اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ افغانستان کے مشرقی حصے میں واقعہ صوبہ نگرھار میں اس وقت داعش کا سرغنہ موجود ہے.اخبار کا کہنا ہے کہ انہیں نگرھار میں پاکستانی،

دہشتگردوں گروہوں میں سے ایک گروہ کے سرغنہ نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’’ گزشتہ چھ ماہ میں داعش کے سینکڑوں دہشتگردوں کی افغانستان میں آمد کے بعد داعشی سرغنہ ابوبکر البغدای کو بھی افغانستان پہنچایا گیا ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے افغان سرحدی علاقوں میں داعشی دہشتگردوں کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیںکہ کہیں وہ بارڈرکراس کرکے پاکستان میں داخل نہ ہوجائیں اخبار نے مذکورہ دہشتگرد سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ گزشتہ دنوں میں شام سے،

بہت سے عرب و غیر عرب دہشتگردوں کی بھی افغانستان میں منتقلی عمل میں لائی گئی ہے ۔اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشتگردوں میں موجود اس کے ذرائع کے مطابق داعش طالبان کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور ان کا ہدف افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ادھر دولت مشترکہ کے انسداد دہشتگردی مرکز کے سربراہ اینڈری نو نووف نے ایک نشست میں کہا ہے کہ افغانستان کے شمالی حصے میں داعش کی سرگرمیاں اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک ان کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر انہیں،

کافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت داعش وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنے سلیپرسیلز کو فعال کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتی ہے ۔اس نشست میں قرقزستان کے وزیراعظم نے بھی داعش کے خطرے کے پیش نظرہوشیار رہنے پر تاکید کی۔

The post دہشت گرد بغدادی کا نیا ٹھکانہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2NbuHyW
via IFTTT

سیکولرازم کا بھیانک چہرہ بے نقاب

 

(طارق سردار فرخ)

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہونے والے ملک بھارت میں اس بار ہندو شدت پسندوں نے غنڈہ گردی کی انتہا کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران مسلمان عزاداروں کو ناصرف جلوس نکالنے سے روک دیا بلکہ ان پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کرکے درجنوں افراد کو شدید زخمی کردیا۔ جلوس میں شرکت کے لئے جانے والے لوگوں کو سڑک پر گھیر کر مارا پیٹا گیا۔یہ افسوسناک واقعہ چند روز پہلے بھارتی ریاست بہار کے مشرقی ضلع چمپارن کے ایک قصبے ڈھاکہ میں پیش آیا جس کی آبادی تقریباً پچاس ہزار نفوس کے قریب ہے ۔

مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے ہندی زبان کے ساتھ ساتھ اردو بھی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر مسلمان سنی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں تاہم دوسری بڑی کمیونٹی شیعہ کہی جاسکتی ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ محرم الحرام کے جلوس پر مسلمانوں کے دونوں فرقوں میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ شیعوں کی طرف سے تعزیہ اور ذوالجناح کا جلوس نکلتا ہے تو سنی مسلمان بھی جوق در جوق اس میں شرکت کرتے ہیں۔اس سال ہندو شرپسندوں کا ایک گروہ پچھلے کئی دنوں سے علاقے کے پرامن ماحول کو کشیدہ کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔

گلف ریجن میں موجود ایک بہاری نامہ نگار عبدالحکیم کے مطابق ویسے تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے حواری پورے ملک میں ہی مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکانے کی سازش کررہے ہیں مگر بہار میں تو انہوں نے انتہا کردی۔ دس محرم الحرام کی مناسبت سے بھارتی مسلمانوں نے 21 ستمبر کو اپنے اپنے علاقوں میں تعزیہ کے ساتھ عزاداری جلوس نکالا لیکن بہار میں ہندوؤں کے دو روز ”ڈاک بم“ کی وجہ سے یہاں پر تعزیہ جلوس ملتوی کردیا گیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ ڈاک بم ہندوؤں کا ایک تہوار یا رسم ہے‘ جس میں وہ ننگے پاؤں پیدل چل کر اپنے مذہبی مقام تک جاتے ہیں۔

ماڈرن ہندو آج کل پیدل سفر کے ساتھ ساتھ بسوں‘ کاروں اور موٹرسائیکلوں کو بھی جلوس میں شامل کرلیتے ہیں۔مسلمانوں نے امن و امان کے پیش نظر اس بار محرم الحرام کا تعزیہ دس کی بجائے بارہ محرم الحرام بروز اتوار کو نکالا تو ہندو انتہاپسندوں نے ان پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کردیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کے پیچھے ہندو تخریب کار اور انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے کارکنوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے‘ جنہوں نے مختلف مقامات پر عزاداری جلوس میں شامل مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

کچھ ہندوؤں نے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہوکر سڑک سے گزرنے والے جلوس پر پتھر اور اینٹیں برسائیں‘ کچھ گروہ بازار اور چوراہوں پر کھڑے ہوکر شرکاءکے ساتھ بدتمیزی اور دھکم پیل کرتے رہے۔ بھری سڑک پر لوگوں کو گھیرگھیر کر مارا پیٹا گیا۔ایک معصوم مسلمان لڑکا جو موٹرسائیکل پر مقامی ہسپتال میں اپنے ماموں زاد کی عیادت کرنے کے بعد واپس اپنے گھر جارہا تھا اسے زبردستی روک کر جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ بچے نے ڈر کے مارے اور اپنی جان بچانے کے لئے یہ نعرہ لگا دیا تو پھر بھی اس کی جان نہیں چھوڑی اور ظالموں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

اس ظلم کی ویڈیو یو ٹیوب پر بھی دیکھی جاسکتی ہے دیگر کئی زخمیوں کی حالت بھی سنگین ہوگئی۔ کچھ عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر مسلم خواتین اور لڑکیوں کو روک کر ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی‘ انہیں زدوکوب کیا گیا اور کپڑے پھاڑ کر عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔بہار پولیس اس سارے معاملے میں بے بس نظر آرہی تھی۔ پولیس افسروں کے سمجھانے پر بھی آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے بپھرے ہوئے کارکن باز نہ آئے‘ کئی جگہ پولیس نے مسلمانوں کی جان بچانے کیلئے آر ایس ایس کے کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی کیا تاہم پولیس حملہ آوروں پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

بلوائیوں کا گروہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ کر جلوس کے راستے میں مختلف مقامات پر جا کھڑا ہوا جہاں سے شرکاءپر پتھر برسائے جاتے رہے۔ شہر کے ایک مقام پر سبز رنگ کا ایک جھنڈا لگا ہوا تھا جسے ہندو انتہاپسندوں نے اسلامی جھنڈا قرار دے کر پولیس پر اسے اتارنے کیلئے دباؤ ڈالا۔ان واقعات نے بھارت کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب نوچ ڈالا اور آر ایس ایس کے کارکنوں نے ایک مذہبی جلوس پر حملہ کر کے ثابت کردیا کہ بھارت جیسی ریاست آج بھی انتہاپسندی اور عدم برداشت کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔

وہاں اقلیتوں کو آج بھی تحفظ حاصل نہیں۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ بہار سے ایک مسلم رکن اسمبلی نے الزام لگایا کہ شہر کے مرکزی چوک پر تو پولیس نے سکیورٹی فراہم کی تھی مگر دوسرے مقامات پر سکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے شرپسندوں نے مسلمانوں کو گھیر گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
بھارت وہ ملک ہے جہاں پر اس کے اپنے ہی شہریوں کو لسانی اور مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔

کئی علاقے جہاں مسلم اکثریت ہے اور مسلمان معاشی طور پر مضبوط ہیں اگر وہاں بھی مذہبی اقلیت مسلمانوں کا جینا حرام کردے‘ انہیں مجرمانہ کارروائی کا نشانہ بنائے اور پولیس کوئی ایکشن نہ لے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ شرپسندوں کو بلاشبہ حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ آپ غور کریں کہ وہ علاقے جہاں مسلمان ویسے ہی اقلیت میں ہیں وہاں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہو گا۔ ہندو سماج اپنی تنگ نظری کے باعث مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں روزگار اور ملازمتوں میں ان کا جائز حصہ نہیں دیا جاتا۔

فوج‘ پولیس اور دوسرے اہم اداروں میں مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے ‘ان کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہے‘ چادر اور چاردیواری کا تحفظ صرف باتوں کی حد تک محدود ہو کر رہ چکا ہے۔ چند مسلمان جو منتخب ہو کر اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں انہیں اپنے سیاسی قائدین کی طرف سے اجازت ہی نہیں ملتی کہ وہ مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں اسمبلی کے اندر کوئی سوال اٹھا سکیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ کیا یہی وہ مذہبی آزادی ہے جس کا دعویٰ بھارت دنیا کے سامنے کرتا ہے؟ کم حیثیت کے,

روزگار اور چھوٹے کیڈر کی ملازمتیں مسلمانوں کیلئے چھوڑ دی گئی ہیں‘ کہاں گئے معاشی انصاف کے کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے؟ کئی اضلاع میں تو کم تر ملازمتیں بھی مسلمانوں کے نصیب میں نہیں ہیں۔ یہ ہے بھارت کا اصل چہرہ اور سیکولر ہونے کا نام نہاد ٹائٹل جسے انتہاپسند ہندو تنظیموں نے خود ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ہم یقینا اعلیٰ ترین معاشرہ ہونے کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے مگر پاکستان میں کسی مذہبی تنظیم نے ہندوؤں کے تہوار یا سکھوں کے جلوس میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ مذہبی رسومات میں شریک کسی یاتری یا عبادت گزار کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔

پاکستانی اقلیتیں پوری آزادی کے ساتھ اپنی عبادات اور رسوم ادا کر سکتی ہیں۔ معاشی طور پر کسی کو ظلم یا پھر تحقیر کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ قانون کا دباؤ تو بہت دور کی بات ہے پاکستانی معاشرہ تو اپنی اخلاقی روایات کے دباؤ سے ہی دوسری اقلیتوں کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مسیحیوں‘ ہندوؤں اور سکھوں کیلئے فراخ دلی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے۔ ایک انسان کی دوسرے سے نفرت اور جلن کا کلچر بھارت کو برباد کر کے چھوڑے گا۔ آر ایس ایس‘ بجرنگ دل جیسی تنظیمیں اور ان کے انتہاپسند لیڈر اس بربادی کے تابوت میں خود ہی آخری کیل ٹھونکیں گے۔

The post سیکولرازم کا بھیانک چہرہ بے نقاب appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2NakT8j
via IFTTT

کیا ایران امریکی پابندیوں کا سامنا کرسکتا ہے؟

 

(وقار مسعود خان)

اس سال مئی میں صدر ٹرمپ نے ایران کیساتھ جولائی 2015 میں کیے گئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔ یہ معاہدہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کیلئے برسوں کی محنت شاقہ کے بعد حاصل کیا تھا۔ اس تنسیخ سے بے شمار مسائل، بے یقینی اور پیچیدگیوں نے جنم لیا ہے۔ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہا ہے اور اس کی تصدیق وقفے وقفے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اس معاہدہ کے تحت بنائی جانے والی اپنی رپورٹوں میں کرتا رہتا ہے۔

معاہدے میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین بھی فریق تھے۔ یورپی یونین کے نمائندے نے معاہدے پر دستخط کئے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی باقاعدہ منظوری دی جس کے نتیجہ میں ایران پر عائد عالمی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔ لہذا اس سارے معاملے میں بین الاقوامی قانون کے سوالات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا ایک طریقہ کار خود معاہدے کے اندر درج ہے، جو صرف اس صورت میں قابل عمل ہے جب کسی فریق کو یہ شکایت ہو کہ ایران اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے۔

اس صورت میں باقاعدہ شکایت ایک متعلقہ دفتر میں داخل کرائی جائیگی جو اس شکایت کا جائزہ لے گا اور ضروری تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ ایک کمیٹی کے سامنے رکھے گا جس کی روشنی میں کوئی قدم اٹھانے کافیصلہ ہوگا ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، اور امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کے خلاف کوئی شکایت بھی جمع نہیں کرائی ہے۔ لیکن امریکہ نے ایران کے خلاف ایسی شکایتوں کا ایک دفتر کھول دیا جو معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ مثلاً امریکہ کا یہ کہنا کہ ایران نے مشرق وسطی میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا ہے،

وہ شام اور یمن میں مداخلت کر رہا ہے یا یہ کہ وہ اپنے میزائیل پروگرام کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوبامہ کو یہ معاہدہ کرنے پر خصوصی تنقید و تحقیر کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس معاہدے نے ایران کو ساری دنیا میں امریکی مفادات کیخلاف کام کرنے کا نہ صرف لائسنس دے دیا ہے بلکہ معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹا کر اس کو مالی طور پر اس قدر طاقتور بنا دیا کہ وہ اپنی تخریبی سرگرمیاں بلا روک ٹوک کر رہا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کیساتھ ایک دوسرا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں جو ایران کو ان سرگرمیوں سے روکے گا۔

اس پیشکش کو ایران نے یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں ہے۔معاہدے کی منسوخی نے دیگر فریقین کو شدید مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔اول، ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر امریکہ اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار نہیں کر سکتا۔ امریکی سینٹ نے ا قوام متحدہ کے چارٹر کو منظور کرکے سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرارداوں پر عملدرآمد کرنا امریکہ پر لازم قرار دیا ہے۔ امریکہ کے ویٹو کی موجودگی میں اس کے خلاف کوئی قرارداد سلامتی کونسل میں نہیں لائی جا سکتی، لہذا عالمی نظام ثالثی ایک بڑے بحران کا شکار ہوگیا ہے اور اس کا اعتبار دنیا میں کم ہوگیا ہے۔ دوم،

دیگر فریقین اس معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہوں نے امریکی علیحدگی کے بعد واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کو قائم رکھیں گے اور ایران کو معاہدے کے تحت جو آسانیاں فراہم کی گئی تھیں ان کو جاری رکھا جائیگا۔ مزید برآں، یورپی یونین نے واشگاف الفاظ میں اپنے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ایران پر عائد کی جانیوالی پابندیوں کو ناکام بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرینگے۔ سوم، معاہدہ کے تحت اگر کوئی فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریگا تو ایران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ معاہدے سے الگ ہوجائے۔

امریکی اقدام نے ایران کیلئے معاہدے سے نکلنے کا راستہ کھول دیا ہے، جبکہ دیگر فریق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ معاہدے میں موجود رہے۔چہارم، امریکہ نے تنسیخ کیساتھ ہی ایران پر وسیع پیمانے پر پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے جو 4 نومبر سے نافذ العمل ہیں اور جس کی وجہ سے عالمی معیشت ایک بڑے بحران کا سامنا کرنے والی ہے۔اس وقت مسئلہ یہ درپیش ہے کہ یورپ سے تعلق رکھنے والے ایسے بزنس گروپ جو ایران میں پابندیاں اٹھنے کے بعد جوق در جوق اس کی پرکشش مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے اور اس کی بے پناہ سرمایہ کاری کی ضرورتوں کو پورا کرنے پہنچے تھے وہ اب امریکہ کی پاپندیوں کی وجہ سے فوری طور پر اپنی سرگرمیوں کو ختم کرکے واپس اپنے ممالک جا چکے ہیں۔

کیونکہ وہ ان نقصانات کو نہیں اٹھا سکتے جن کا سامنا انہیں امریکہ میں اپنی سرگرمیوں کو بند کرنے کی صورت میں اٹھانا پڑیگا۔ لہذا یورپی یونین کس حد تک اس کوشش میں کامیاب رہے گی کہ اپنے شہریوں اور اداروں کو امریکی پابندیوں سے محفوظ رکھ سکے اس کا تعین ہونا باقی ہے۔ صدر ٹرمپ اور انکی انتظامیہ کے دیگر اہلکار پابندیوں کے اثرات اور نتائج سے متعلق سخت اور نہایت جارحانہ بیانات جاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایران کو تیل کا ایک قطرہ برآمد کرنے نہیں دینگے اور جس نے ایسی کوشش کی تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا۔

پابندیاں اسقدر سخت ہیں کہ ماضی کے برخلاف اس بار امریکہ نے کسی بھی ملک کو استثنیٰ دینے سے انکار کردیا ہے۔ جاپان اور بھارت، جن کی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایران سے درآمد ہوتا ہے اور جنہیں ماضی میں استثنیٰ حاصل تھا اس سہولت سے منع کردیا گیا ہے جو ان کیلئے بڑی زحمت کا باعث ہوگا۔ یہ واقعات عالمی مارکیٹ پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر چکی ہے اور کچھ تجزیہ کار پیشن گوئی کر رہے ہیں کہ یہ جلد ہی 90 ڈالر سے بھی اوپر چلی جائیگی۔ ایران کی معیشت، جو گذشتہ پابندیوں سے بری طرح متاثر ہوئی تھی اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد وہ ابھی بمشکل اپنی تعمیر نو کے عمل کا آغاز کر رہی تھی،

اسے پھر ایک بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ چین اور روس یقیناً کچھ راستے تلاش کر لیں گے لیکن اصل مسئلہ یورپ ہے جس کی بڑی مارکیٹ کے بغیر اس کی برآمدات میں بڑی کمی واقع ہوجائیگی۔ دوسری جانب اگر یورپ نے اس مسئلہ کا حل نہ نکالا تو ایران مجبوراً معاہدے سے علیحدہ ہو جائیگا، جو عالمی امن کیلئے شدید خطرات کا باعث ہوگا۔ اس صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے، یورپ نت نئی تدبیریں (The out of slution box) سوچ رہا ہے گو ابھی ان تدبیروں کی تاثیر اور پائیداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اصل مسئلہ دنیا میں ڈالر کی بحیثیت ذریعہ ادائیگی ( of medium exchange حکمرانی ہے۔ جب بھی ڈالر میں ادائیگیاں ہوتی ہیں ان کی آخری کلیرنس نیو یارک میں امریکہ کے مرکزی بینک میں ہوتی ہے۔ پابندیوں کے اجراء کے بعد ایران سے جس نے بھی تجارت کی وہ امریکی مالیاتی نظام سے نکال دیا جائیگا۔ کیونکہ تیل کی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، لہذا ایرانی تیل مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوسکتا۔ چند دن پہلے یورپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے عالمی مالی ترسیلات کے نظام کا متبادل بنا لیا ہے جو امریکی تسلط سے آزاد ہوگا اور اس کو استعمال کرنے والوں کے کوائف امریکی نظام کو نہیں معلوم ہونگے۔

یہ ایک بڑی پیش رفت ہے اور اگر یہ کامباب ہوجاتی ہے تو اس سے امریکی ڈالر کی موجودہ حکمرانی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس پیش رفت پر امریکی وزیر خارجہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ وہ یورپ کے اس رویے سے نالاں ہے جبکہ خود انہوں نے یورپ کی معاہدے کو برقرار رکھنے کی سب درخواستیں مسترد کردی تھیں۔آنیوالے چند ہفتے عالمی امن اور مارکیٹ کے استحکام کیلئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ عالمی طاقتوں کے ایک بڑے اتحاد کے درمیان ایک بڑا اختلاف سامنے آرہا ہے۔

امریکی تسلط پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کو یورپ نے چیلنج کردیا ہے۔ یقیناً تاریخ عالم میں یہ ایک نئے موڑ کی آمد ہے، لیکن اس کے آگے کیا مقامات اور حالات آنے والے ہیں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس خطے میں امن قائم رہے۔ آمین

The post کیا ایران امریکی پابندیوں کا سامنا کرسکتا ہے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2OZ28GJ
via IFTTT

خون ریزی اور مذہبی تعلیمات(2)

 

(سید اسد عباس)

جیسا کہ گذشتہ تحریر میں ہم نے دیکھا کہ روحانی منازل کے حصول کے لئے جسمانی ایذا رسانی یا نفسانی کنٹرول کے لئے مختلف ریاضتیں اور ان کے مختلف طریقہ ہائے کار رائج تھے اور ان روشوں کو مذہبی تعلیمات کی بھی پشت پناہی حاصل رہی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جسمانی ایذا رسانی کا آخری درجہ خون ریزی تھا۔ فقط ہندو دھرم میں مرن بھرت یعنی تا موت بھوکے رہنے کا رواج ہے۔ اب کچھ جدید معاشروں میں اجتماعی خودکشی کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ افریقہ کے قبائلی کلچر میں انسانی جسم کو کاٹ کر اس پر مختلف طرح کے نقش و نگار بنانا، چہرے، کمر، بازؤں کو زخمی کرنا وغیرہ جیسے امور آج بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

بعض افریقی قبائل نوجوان شکاریوں کے جسموں کو بلیڈ سے اس انداز سے کاٹتے ہیں کہ ان کا جسم مگرمچھ کی مانند دکھائی دیتا ہے، اسی طرح کان چھیدنا، ہونٹوں کو چھیدنا جیسے امور بھی افریقی تہذیب میں عام ہیں۔لبرل معاشروں میں ٹیٹو سازی اب ایک فیشن کا روپ دھار چکی ہے، جس میں مختلف طرح کی تصاویر انسانی جلد کی نچلی تہ پر بنائی جاتی ہیں، جو مذہبی وابستگی، محبت، بہادری اور طرح طرح کے امور کی غمازی کرتی ہیں۔ ٹیٹو سازی کا عمل بھی ایک طرح کی جسمانی ایذا رسانی ہے،

بعض اوقات یہ ٹیٹو انتہائی حساس مقامات پر بھی بنوائے جاتے ہیں، جن کو بنانے کے لئے شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح جسم کو کاٹنے، چھیدنے اور اس میں کنڈے ڈالنے کا عمل بھی اب یورپی معاشروں میں عام ہوچکا ہے، جسے piercing کہا جاتا ہے، یہ عمل بھی ایک طرح کی خود اذیتی ہے، جس میں زبان، ناک، کان، اعضائے مخصوصہ، پیٹ،نپل پر زیورات ٹانکنے کے لئے اس میں سوراخ کیا جاتا ہے۔ ہندو معاشروں میں یہ ایک مذہبی رسم ہے جبکہ جدید معاشروں میں یہ عمل معاشرتی پابندیوں سے بغاوت کا استعارہ بن رہا ہے۔

برازیل کی ایک خاتون کا نام فقط اس لئے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا کہ اس کے جسم پر 426 ایسے چھید کئے گئے تھے، جن میں مختلف طرح کی چیزیں آویزاں تھیں۔ملائشیاکا ایک قبیلہ پینانگ نو شہنشاہ خداؤں کے میلے میں آگ پر ننگے پاؤں چلتا ہے، جس کا مقصد نجاسات سے پاک ہونا، شیطانی اثرات سے بچنا اور گناہوں کو دھونا ہے۔ جنوبی ہندوستان کے آدیواسی ہر سال آگ پر چلتے ہیں، جس کا مقصد اپنے بھگوان شیو کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ کے مقامی پاشندے جنھیں ریڈ انڈین کہا جاتا ہے،

زمین کی روح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سورج کا رقص انجام دیا کرتے تھے، جس میں کیل کو سینے کی جلد میں داخل کرکے اسے کسی لکڑی سے باندھ دیا جاتا تھا، جس سے یقیناً خون جاری ہوتا تھا۔ پیسیفک جزائر میں اونچی جگہ سے کودنے کی رسم کو بھی مذہبی درجہ حاصل ہے، جس میں ایڑیوں سے رسی باندھ کر چھلانگ لگائی جاتی ہے، یہ رسم جدید دنیا میں ایک ایڈونچر کا روپ دھار چکی ہے۔ ان قبائلی، مذہبی، علاقائی رسومات کا مطالعہ کرنے سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان سب کا بنیادی مقصد جسمانیات کی نفی اور روحانیت سے قریب تر ہونا ہے۔ نفس کو اذیت دینے کے مختلف مراحل ہیں،

جس میں بھوک پیاس سے لے کر جسم کو کاٹنا، چھیدنا اور آگ پر چلنا شامل ہیں۔ یہ تمام امور کسی ہستی کے غم کو منانے، شیطان سے بچاؤ، گناہوں، ناپاکی کے خاتمہ کے لئے اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کرکے انجام دیئے جاتے ہیں۔ختم المرسلین نبی رحمت جو دین لائے، اس میں اظہار کے کسی ایسے طریقے کو روحانیت یا اظہار غم کا زینہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ روزہ اور حج کی سختیاں ہی وہ سختیاں ہیں، جو مسلمانوں کو متقی بنانے کے لئے تجویز کی گئیں ہیں۔ ہاں جہاد کا حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں اپنے نفسوں کو تلواروں کے سپرد کرو اور اسے بڑی عبادت قرار دیا گیا۔

جہاد کے نتیجے میں قتل ہونے والے کو شہید قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اسے مردہ مت سمجھو، مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں اور ان سے اٹھنے والی خاک کی قسمیں کھائیں، تاہم اس کے علاوہ کسی بھی عمل خود اذیتی کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ ایک عادلانہ معاشرے کے قیام اور ظلم کے خاتمے کے لئے جہاد کا حکم نہایت منطقی بات ہے، جس سے کوئی بھی انسان خواہ کسی بھی نسل، مذہب، معاشرے کا باسی ہو انکار نہیں کر سکتا ہے۔دلیل دی جاسکتی ہے کہ اسلام میں بچوں کے آلہ تناسل پر بڑھی جلد کو کاٹنے کا حکم موجود ہے،

کیا یہ خود اذیتی یا ظلم نہیں، میرے خیال میں اس جلد کا کاٹنا طبی فوائد کا حامل ہے اور یقیناً اس کا پیدائش کے وقت موجود ہونا بھی حکمت سے خالی نہیں ہوگا۔ اس عمل کو طبی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جیسے کسی فالتو یا مضر صحت عضو یا اس کے حصے کو کاٹنا انسانی زندگی کے لئے مفید ہے، اسی طرح اس فالتو جلد کا ہٹ جانا فائدہ مند ہے۔ میری رائے میں اب تک ہم نے جسمانی ایذا رسانی،خون ریزی کے موارد کو دیکھا ہے، اگر یہ واقعاً کسی حد تک بھی فائدہ بخش ہوتے تو اسلام ان کا سب سے بڑا داعی ہوتا اور انسانوں کو روحانیت کی منازل طے کرنے کے اس آسان اور مجرب نسخے سے دور نہ رکھتا۔

میری اس تحریر کا مقصد کسی بھی تہذیب کے عمل کو درست یا غلط کہنا نہیں ہے بلکہ ہدف جسمانی ایذا رسانی جو مختلف عناوین سے مختلف تہذیبوں، اقوام، قبائل، نسلوں اور ادیان میں رائج ہیں، ان کا جائزہ لینا ہے اور دیکھنا ہے کہ یہ عمل کس حد تک اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔دین اسلام کی واضح تعلیمات کی روشنی میں اب کوئی بھی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ اللہ کریم یا رسالت مآبؐ نے کسی ایسی رسم یا عمل کی تعلیم دی ہو۔ ان کے اہلبیت علیہم السلام اور اصحاب سے بھی کسی ایسی بات کی تعلیم ملنا دستیاب نہیں ہے،

فقط ایک واقعہ اویس قرنی کے علاوہ جسے ان کے اپنے زمانے میں بھی اسوہ یا طریقہ نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی کسی اور کی جانب سے اس کی پیروی کی گئی۔ صدر اسلام کی ان ہستیوں کی زندگی اور موت فقط اسلام اور اس کی آفاقی تعلیمات کی سربلندی کے لئے تھیں۔ اہل علم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ امام حسین علیہ السلام اپنے نانا کے دین میں پیدا کئے جانے والے بگاڑ اور معاشرے کی بے راہ روی کو دیکھ کر ہی قیام کے لئے میدان عمل میں اترے تھے۔ انہوں نے اپنے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے جد رسول اللہ (ص) کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں۔ اس وقت امت رسول (ص) کرپشن،

اقرباء پروری، ظلم و زیادتی، ناانصافی، دین میں رد و بدل جیسے مسائل کا شکار تھی۔اب کوئی شخص انہی کا نام لے کر، ان کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے، ان کے عشق میں، اسلام کے فلسفہ روحانیت میں ردوبدل کرے اور وہ رسوم جو اس مقصد کے لئے دیگر ادیان و مذاہب میں رائج ہیں، تاہم اسلام نے ان کی تائید نہیں کی، کو اپنائے تو امام حسین علیہ السلام، ان کے نانا نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم، ان کی والدہ خاتون جنت سیدہ النساء، ان کے والد امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، ان کے بھائی حسن مجتبیٰ سید شباب اہل الجنۃ کیسے اس عمل سے خوش ہوسکتے ہیں۔؟؟؟ امام حسین علیہ السلام کو اپنا غم، دکھ، کنبہ،

اولاد اگر اتنے ہی پیارے ہوتے کہ اس کے لئے ہر غلط و صحیح عمل کو قبول کر لیں تو پھر دین کے لئے یہ سب کچھ قربان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔؟؟؟ امام نے اپنا سب کچھ اس دین الہیٰ پر قربان کیا، تاکہ حقیقی دین آنے والی نسلوں تک پہنچے۔ دین کی وہ تعلیمات جو نبی رحمت لے کر آئے تھے، وہی عام ہوں۔ درج بالا تحریر کے بعد مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب میں داخل ہونے والی ایذا رسانیوں کی رسموں، اقدامات کی بنیاد کو معلوم کیا جاسکے اور اپنی روشوں پر غور کیا جائے۔

The post خون ریزی اور مذہبی تعلیمات(2) appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2Ot2FU2
via IFTTT

جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا تھیٹر

 

(ثاقب اکبر)

25 ستمبر 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس خطاب پر پوری دنیا میں تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ خود امریکی صدر کے خطاب کے دوران میں ایک موقع پر تمام حاضرین ہنس پڑے۔ ان کی ہنسی اس امر کا اظہار تھی کہ امریکی صدر کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، امریکی صدر بھی اس ہنسی پر متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے اس ردعمل کی توقع نہ تھی، لیکن چلو خیر ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ رکن نکولس برنز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دنیا کی رہبری نہیں کر رہے بلکہ اس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

ایک ممتاز امریکی مبصر کے مطابق ٹرمپ کا خطاب ہم سب کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ ایک اور مبصر کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عالمی صورت حال میں بگاڑ کی ایک وجہ بے سمتی کی شکار امریکی ڈپلومیسی، جنگجویانہ مہم جوئی، عالمی قیادت، بالادستی اور وسائل پر قبضہ گیری کی ہوس ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب کا موازنہ کرتے ہوئے بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلی تقریر میں ٹرمپ نے جنگ کا بگل بجایا تھا، مگر اس بار ان کا خطاب تھریٹ کے بجائے تھیٹر کے مکالموں تک محدود رہا،

وہ مضحکہ خیز بڑھکیں ضرور مارتے رہے۔ ٹرمپ کی تقریر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تقریباً 200 سے زائد مندوبین اور وفود نے سنی، لیکن ان کی باتوں پر تالیوں کی گونج کا کوئی فطری منظر دیکھنے میں نہیں آیا۔ صدر ٹرمپ کی تقریر زیادہ تر بین الاقوامی امور سے متعلق تھی۔ انہوں نے ایران کے خلاف جو کچھ کہا، اس پر معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے یہ سرخی جمائی ”ایران ٹرمپ کا تختہ مشق بنا رہا۔” ایک مبصر کے مطابق اپنے متن کی روح کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا خطاب دھمکیوں کا اعادہ تھا،

جو رقیبوں کو خبردار کرنے تک محدود رہا، ٹرمپ حسب عادت خوب گرجے برسے، لیکن جنوبی ایشیائی ملکوں سمیت دنیا کے بیشتر حساس معاملات اور مسائل پر ان کی طرف سے کوئی بامعنی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔بظاہر تو صدر ٹرمپ نے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن ان کی ایک بات کا ہدف پاکستان بھی ضرور تھا،کیونکہ انہوں نے کہا کہ بے وفا دوستوں اور امریکہ کا احترام نہ کرنے والوں کو امریکہ سے امداد کی توقع نہیں رکھنا چاہیئے۔وہ یہی بات واشگاف الفاظ میں اور اس سے زیادہ سخت الفاظ میں پاکستان سے بلاواسطہ کہہ چکے ہیں۔ سرکاری طور پر تو امریکہ نے سانحہ اہواز کی مذمت کی،

لیکن قبل ازیں بھی بعض امریکی اہلکار ایران کے یوم دفاع پر ہونے والے اس واقعے کا ذمہ دار بالواسطہ خود ایرانی حکومت کو قرار دے چکے ہیں۔ گویا امریکی حکومت کو ایسے واقعات پر اطمینان خاطر حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ امریکی صدر نے بھی اپنی تقریر میں ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ وہ دہشتگردی کے ایسے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ایرانی قوم کا غصہ جائز ہے، کیونکہ ایرانی راہنما قومی وسائل ذاتی مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔فلسطین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن چاہتے ہیں، اسی مقصد کے لئے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس یعنی یروشلم منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بات بالکل ایسی ہی ہے، جیسی جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم برسانے کے بعد امریکہ کی طرف سے کہی گئی تھی کہ ایسا جنگ بند کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ ٹرمپ سیدھے حقائق کا ایسے انکار کرتے ہیں، جیسے کسی کو ان کی کوئی بات سمجھ ہی نہیں آئے گی۔بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے پر تقریباً ساری دنیا نے امریکہ کی مذمت کی تھی اور اسے خطرناک اقدام قرار دیا تھا بلکہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے بھی اسرائیل کے خلاف انتفاضہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے امریکی نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس فیصلے پر کہا تھا کہ یہ خطے میں عالمی تکبر کی نئی مہم ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ، مصر کے صدر عبدالفتاح سیسی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی اس فیصلے کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا تھا۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔

امریکی صدر کے اس فیصلے پر چین، روس، فرانس بولیویا، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ، جرمنی اور یوراگوائے نے بھی تنقید کی تھی۔ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ نے بھی اس امریکی فیصلے کی مذمت کی تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس فیصلے کے خلاف مظاہرے کئے گئے، لیکن امریکی صدر بہت ڈھٹائی سے اس فیصلے کو امن کی طرف پیش رفت قرار دے رہے تھے۔جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو دنیا میں اپنے راستے پر چلنے کا حق ہونا چاہیئے،

لیکن دوسری طرف وہ دیگر ممالک کو یہی حق دینے کے لئے آمادہ نہ تھے۔ انۃوں نے کئی ایک ممالک کے خلاف گفتگو کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد مزید پابندیاں عائد کرنے پر پھر زور دیا اور دنیا کو دھمکی دی کہ اس سلسلے میں جس کسی نے بھی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی، اسے بھی خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیئے، جبکہ امریکہ کے علاوہ تمام بڑی طاقتیں ابھی تک اس جوہری معاہدے کا حصہ ہیں، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منظور کرچکی ہے۔ گویا وہ دیگر تمام عالمی طاقتوں کو اس حوالے سے اپنی دھمکیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔

وینزویلا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا حقیقی معنی میں دنیا کی بری جگہوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والی تنظیم اوپیک، چین کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی عدالت انصاف پر بھی شدید تنقید کی۔ گویا وہ مسلسل دھمکیوں سے کام لے رہے تھے۔ گذشتہ برس کے اجلاس میں انہوں نے ایٹمی حملے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ اس برس اس درجے کی دھمکی تو نہیں دی، لیکن پھر بھی ان کے منہ سے جھاگ ہی نکل رہی تھی۔امریکی صدر کی اس صورتحال سے خود امریکہ کے جہاں دیدہ اور مدبر افراد نالاں ہیں۔ یہاں تک کہ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود اہلکار بھی صدر ٹرمپ کے رویئے اور طرز عمل پر شاکی ہیں۔

رواں مہینے (ستمبر 2018) کے شروع ہی میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا ایک مضمون امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، جس میں لکھا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اخلاقیات سے عاری ہونے اور ان کی جلد بازی کی وجہ سے بنا سوچے سمجھے کئی غلط فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اہلکار ملک کو صدر سے بچانے کے لئے ایک انتظامی مزاحمت کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ کچھ اہم دستاویزات تک صدر کی میز سے غائب کر دیتے ہیں، تاکہ وہ ان پر دستخط نہ کرسکیں۔

مضمون میں صدر پر کی جانے والی تنقید میں غیر جمہوری رویہ، آزاد میڈیا سے ناخوشی، فیصلوں پر قائم نہ رہنا، جلد بازی، تنگ نظری اور غیر منظم ہونا جیسے الزامات شامل ہیں۔بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس مضمون کے مطابق کچھ اہلکاروں نے آئین میں پچیسویں ترمیم کے بارے میں بھی دبے لفظوں میں بات کی ہے، جس کے تحت نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت ایک ایسے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے ووٹ کرسکتے ہیں، جو اپنے اختیارات کے صحیح استعمال اور فرائض انجام دینے میں ناکام رہے۔

ایک طرف پوری دنیا امریکی صدر پر ہنس رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ان کی دھمکیوں کی وجہ سے دنیا پر خطرات بھی منڈلا رہے ہیں، جبکہ داخلی طور پر بھی صدر ٹرمپ کے بارے میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ ضروری ہوگیا ہے کہ دنیا اور خود امریکہ کو کسی گرداب میں جانے سے پچانے کے لئے عالمی سطح پر ایک سنجیدہ کوشش کا آغاز کیا جائے۔ یورپی یونین خاص طور پر جی سیون کے ممالک کو اس حوالے سے پیش قدمی کرنا چاہیئے۔ عالمی مذہبی راہنماؤں کو بھی ایسی کوششوں میں شامل کرنا چاہیئے۔

امریکہ کے اندر موجود موثر حلقوں کو بھی شریک کیا جانا چاہیئے۔ کئی ایک سابق امریکی صدور بر سرعام ٹرمپ پر تنقید کرچکے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی رائے عامہ کو مزید حقائق سے آشنا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس پیش قدمی کی فوری ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹرمپ کوئی ایسا اقدام کر بیٹھیں جس کی تلافی پھر ممکن نہ ہوسکے۔

The post جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کا تھیٹر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2y1t9Sz
via IFTTT

صدر ٹرمپ کا بیانیہ:قومی مفاد بمقابلہ عالمی مفاد

 

(ڈاکٹر مجاہد منصوری)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس سے خطاب میں حسب عادت اپنی مخصوص صدارتی بیباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑا کھو کھلا بیانیہ عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے ۔ کہا کہ ’’میں گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کے نظریے کو مسترد کرتا ہوں، امریکہ اب اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرے گا اور اپنے دوستوں کی ہی مدد کرے گا‘‘۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اور الیکشن دونوں سے ہی واضح ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل، بھارت اور برطانیہ کو ہی امریکہ کے حقیقی اور فطری حلیف سمجھتے ہیں۔

سابقہ چار امریکی انتظامیہ نے بھی ان تینوں ملکوں کو یہ درجہ دیا تھا لیکن وہ یورپی یونین خصوصاً برطانیہ کو خارجی امور میں اولین ترجیح دیتے رہے جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنے ان بڑے روایتی فطری حلیفوں اور ہمسائے کینیڈا تک سے اپنی ریزرویشن کو عام کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی اور اسرائیل اور بھارت کے ساتھ تو وہ بہت دور تک جانے کیلئے مکمل آمادہ معلوم دیتے ہیں، بشرطیکہ انہیں دوسری ٹرم ملی۔خارجی امور اور تعلقات عامہ میں ’’قومی مفاد‘‘ کی ہی اصلی حقیقت کو پاکستان نے صدر ٹرمپ سے بھی بہت پہلے اختیار کیا جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان،

فرنٹ لائن پارٹنر کے طور امریکی چھتری میں کردار ادا کر رہا تھا۔ تو پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر کابل میں دوست طالبان حکومت سےبھی یکدم نظریں چرالی تھیں۔ بھارت کی امریکہ کو اپنے ائیر بیسز استعمال کرنے کی پیشکش کے مقابل، فوری اور آسان تر شرائط پر پاکستانی اڈے امریکہ کے استعمال کیلئے اس کے حوالے کئے۔ غلط یا درست سفارتی اندازے درست تھے یا غلط حکومت پاکستان اپنی جانب سے سب کچھ فقط پاکستان کے مفاد کیلئے کر رہی تھی ۔

اس میں تو دوست دوست کی کوئی پروا نہیں کی جا رہی تھی۔ آج صدر ٹرمپ نے بھی امریکہ کیلئے ، سابق صدر مشرف کے بیانیے کی طرز پر عین یہی نعرہ بلند کیا ہے کہ ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘۔امر واقعہ یہ ہے کہ اپنی اپنی حیثیت ، پوزیشن اور کیپسٹی کے مقابل سب ہی اقوام کے اپنے ’’قومی مفادات‘‘ ان کے خارجی تعلقات کا مرکز و محور ہوتےہیں۔ یہ دھوکہ اور فریب عالمی سطح کی سفارتی منافقت ہی رہی کہ بڑی طاقتیں اور ان کے چھوٹے بڑے کمزور اور تگڑے حلیف بھی ہرقیمت پر اپنے ’’قومی مفادات‘‘ کے تحفظ کیلئے عالمی و علاقائی امن و استحکام اور پر امن بقائے باہمی کا غلاف اوڑھے رہے۔

صدر ٹرمپ کے مقابل امریکی انتخابات 16ءمیں صدارتی امیدوار اور اوبامہ انتظامیہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں امریکی پالیسی سازوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ہماری طرح پاکستان بھی اپنے قومی مفادات کے حوالے سے ریزرویشن رکھتا ہے، جو ہمارے پاکستان سے مطلوب نوعیت کے تعلقات میں رکاوٹ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاسی نوعیت کے تعلقات، اقتصادی مفادات اور سیاسی اثرورسوخ کے حوالے سے عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی کوئی حقیقت نہیں تھی ،

وگرنہ تو دنیا کو عالمی برادری کے طور تشکیل دینے کیلئے جغرافیائی سرحدوں کے احترام، عالمی امن اقوام کے حق خود ارادیت، آزادی و خود مختاری کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کا چارٹر پر عملدرآمد سچی اور حقیقی عالمگیریت کی ضمانت بنتا لیکن طاقتور ممالک نے اپنے حریف یا حلیفوں کے حریفوں کے جائز ترین مفادات کے حصول اور تحفظ کیلئے جو پوزیشن لی وہ قومی مفادات کی آڑ میں اقوام متحدہ کے چارٹر سے کھلم کھلا متصادم ہے۔ سو ’’قومی مفادات‘‘ کی غلط یا درست حقیقت نے (یہ دونوں شکلوں میں موجود ہیں) اقوام متحدہ کے چارٹر کو فریزکر کے رکھ دیا ہے۔یہ عالمی المیہ طاقتور ملکوں کے ’’قومی مفادات‘‘ کی آڑ میں کیسے ہوا،

کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حشر ، اور اس حوالے سے بڑے بڑے طاقتور ممالک کا خارجی تعلقات کے حوالے سے رویہ، عالمی امن و استحکام اور عالمی معاشرے کی اصل حقیقت کو کھولنے کے لئے کافی ہے۔گلوبلائزیشن کی اصل حقیقت جو واقعی عمل میں ڈھلتی نظر آ رہی تھی، اسے بھی مکمل شعوری کوششوں کے ساتھ متنازعہ بنا کر منفی شکل میں ڈھال دیا گیا۔ ایسے کہ کینیڈین سوشل سائنٹسٹ ، پروفیسر مارشل مکلو ہن 1911-80)) دنیائے ابلاغ کا وہ مایہ ناز میڈیا سکالر تھا ۔

جس کی دنیاکے سکڑتے ہوئے گلوبل ویلج بن جانے Visualization عمل میں ڈھلتے ہوئے واقعی گلوبلائزیشن (عالمگیریت) کی شکل اختیار کر گئی، جس نے عالمی سیاست اور اقتصادیات کو بلند درجے پر متاثر کیا۔ مکلوہن نے گلوبل ویلج کا جو تصور اپنی کتابوں سے دنیا کو 60کے عشرے کے اوائل میں دکھایا تو یہ کوئی ہوا میں نہیں تھا بلکہ اس کی بنیاد ’’کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی معجزاتی پیش رفت اور عالمی انسانی معاشرے پر اس کے حیرت انگیز اثرات کو بھی واضح کیا‘‘۔اس نے میڈیا کے کردار کا مطالعہ و مشاہدہ غیر روایتی اندز میں کیا،اس نے میڈیا کے جاری و ساری محدود مقاصد اور سائیکلولوجیکل وائر فیئر بذریعہ میڈیا۔۔۔

جیسے میڈیا کے کردار کے برعکس اس (میڈیا) کے مثبت عالمی کردار کو کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی حیران کن ترقی کے ساتھ جوڑ کر دنیا کی ہوتی وحدانیت (OneNess)کے آخری نتائج (گلوبل ویلج) کا اپنا نظریہ جب دنیا کے سامنے رکھا تو واضح کیا کہ الیکٹرانک کی تیز تر پیش رفت دنیا کے مختلف خطوں کی ثقافت عالمی سطح پر عام ہونے سے ایک عالمی ثقافت اور طرز زندگی کا عالمی ابلاغی دھارا وجود میں آئے گا۔جس سے ایک عالمی گائوں وجود میں آئے گا۔ واضح رہے کہ ہر گائوں کی ثقافت باسیوں کا باہمی رابطہ، مفادات اور سماجی رویہ میں گہری یکسانیت ہوتی ہے۔

انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طاقت سے یہ کشمکش جاری ہے کہ دنیا عالمی گائوں بن جائے، جس میں قومی اور عالمی مفادات کا توازن پیدا کر کے عالمگیریت کا نیا سفر شروع ہوا ہے۔

The post صدر ٹرمپ کا بیانیہ:قومی مفاد بمقابلہ عالمی مفاد appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2NSn5qi
via IFTTT