لاہور(ویب ڈیسک)ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ نے 3مئی 2018ء کو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعزاز میں ایک تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔ تقریب کو قومی ہیرو کے شایانِ شان منعقد کرنے کے تمام انتظامات مکمل تھے، مگر 2مئی 2018ء کو چار بجے سہ پہر کے قریب ہمیں محسنِ پاکستان نے یہ اطلاع دی ۔
ایک مشہور کالم نگارمحمد اآصف بھلی اپنے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔ وہ سیالکوٹ تشریف نہیں لا سکیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سیکیورٹی کے ذمہ داران کی طرف سے یہ عذر بیان کیا گیا کہ چونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جان کی حفاظت ہمارے لئے سب سے اہم اور حساس ترین مسئلہ ہے اور ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کی عمارت زیادہ محفوظ جگہ نہیں ہے، اس لئے وہاں حفاظت کی ہم ضمانت دینے سے قاصر ہیں، چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سیالکوٹ آنا ممکن نہیں ہوگا۔ ہماری طرف سے سیکیورٹی کے ذمہ داران پر واضح کیا گیا کہ ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ وہ ادارہ ہے جہاں جنرل پرویز مشرف صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر آئے تھے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف تو کئی بار ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر یہاں آ چکے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی صرف دو ماہ پہلے ایوانِ صنعت و تجارت سیالکوٹ کے ہال میں آئے تھے۔ افواجِ پاکستان کے کئی کور کمانڈرز اس ادارے میں آتے رہے ہیں، اس لئے ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کی عمارت کے غیر محفوظ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک عمارت جو ملک کے وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کی آمد کے لئے موزوں ترین ہو سکتی ہے،
وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے غیر محفوظ کیسے قرار دی جا سکتی ہے، جن افراد نے لاکھوں روپے صرف کرکے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خوش آمدیدکہنے کے لئے بینرز تیار کروائے۔ ان کے ارمان اور خوشیاں ان کے دلوں ہی میں قید ہو کر رہ گئیں۔اعجاز کھوکھر اور خواجہ مشرف اقبال تو سیالکوٹ کی مختلف سڑکوں پر محسنِ پاکستان کے لئے خیر مقدمی بینرز آویزاں بھی کروا چکے تھے۔ ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کے تمام عہدیداران بھی اپنے قائد شیخ ریاض الدین کی قیادت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آمد کے حوالے سے بڑے پُرجوش اور خوش نظر آ رہے تھے، وہ سب محسن پاکستان کی چیمبر میں آمد کے موقع پر مطلوبہ انتظامات کو احسن انداز میں مکمل بھی کر چکے تھے، مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دورۂ سیالکوٹ کی منسوخی کا فیصلہ سن کر ان سب کی خوشیاں بھی دھری کی دھری رہ گئیں۔ ایوانِ صنعت و تجارت سیالکوٹ کے دورے کا منسوخ کیا جانا یقیناًڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لئے بھی رنج اور دکھ کا باعث ہوا ہوگا، کیونکہ علامہ اقبال کے شہر میں آنا خود محسنِ پاکستان کے لئے بھی خوشی اور افتخار کی بات تھی۔ جہاں تک سیالکوٹ کے شہریوں کا تعلق ہے، انہیں تو ڈاکٹر
عبدالقدیر کی آمد پر عید جیسی خوشیاں محسوس ہو رہی تھیں، مگر شہر اقبال کے زندہ دل شہریوں کی خوشیوں کو قتل کر دیا گیا۔ جہاں تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جان کی حفاظت کا تعلق ہے، اس کے بارے میں پاکستانی قوم کو بھی اتنی ہی فکر ہے جتنی اُن کی سیکیورٹی پر مامور حضرات کو، لیکن محسنِ پاکستان کی زندگی کے تحفظ کے نام پر ان کی آزادی کو تو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ کریم اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔ ان کی حفاظت کا انتظام و انصرام سیکیورٹی اداروں کا یقیناًفرض ہے، مگر یہ بھی ہماری قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک بھر میں جہاں بھی اپنی خوشی سے جانا چاہتے ہوں، ان کو ایسے حفاظتی انتظامات فراہم کئے جائیں، جس میں کسی لغزش یا کوتاہی کا امکان نہ ہو۔جس عظیم ہستی نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ کیا ہم اس کی زندگی کی حفاظت کے لئے خاطر خواہ انتظام بھی نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حفاظت اور قید میں فرق محسوس ہونا چاہیے۔ اگر ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آزادی کی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتے تو تاریخ کبھی بطور قوم ہمیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھے گی۔ جنرل پرویز مشرف کے جس دور حکومت میں
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پُرسکون اور پُروقار زندگی کو مصائب و آلام کی زندگی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس دور کو گزرے ہوئے اب دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مصائب و آلام کی کہانی ابھی شاید ختم نہیں ہوئی۔ میرے احساسات شاید غلط ہوں، مگر میرے دل میں معلوم نہیں یہ وسوسہ کیوں پیدا ہو گیا ہے کہ محسنِ پاکستان کو وہ آزادی بھی میسر نہیں جیسی آزادی پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان پوری طرح آزاد ہیں اور ان کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں ہے تو پھر پاکستان کے ہر حصے، ہر شہر، ہر قصبے اور ہر دیہات میں آزادانہ نقل و حرکت کا بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حق حاصل ہے۔ اب اگر استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جرم نہیں تو پھر یہ اور کس گناہ کی سزا ہے کہ جس شہر میں بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عقیدت اور محبت کی وجہ سے دعوت دی جاتی ہے۔ وہاں جانے کے لئے انہیں فول پروف حفاظتی انتظامات فراہم نہ کئے جائیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک قومی ہیرو ہیں اور پوری پاکستانی قوم ہی ان کی پرستار ہے۔
پاکستان کے کسی بھی حصے سے کسی بھی وقت ان کو دعوت دی جا سکتی ہے۔ یہ ذمہ داری حکومت اور اس کے ماتحت تمام سیکیورٹی اداروں کی ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حفاظت کو ہر طرح سے یقینی بنایا جائے اور ایسا ہر گز نہ کیا جائے کہ حفاظت کے نام پر محسنِ پاکستان کا دورہ ہی منسوخ کر دیا جائے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح پاکستان کا اسلام کا قلعہ ہونا بعض عالمی طاقتوں کے لئے ناقابلِ برداشت ہے، اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہود و ہنود کے لئے یہ جرم بھی ناقابل معافی ہے کہ یہ دونوں طاقتیں درست طور پر صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہی پاکستان کو ناقابل شکست جوہری طاقت بنانے کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔ بعض عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مکمل آزادی کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں کھڑی کئے ہوئے ہیں۔ ہماری قابلِ فخر افواج جس طرح پاکستان کی حفاظت کا مقدس فرض ادا کررہی ہیں۔ مَیں اپنی بہادر اور غیور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمت میں گزارش کروں گا کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر محسنِ پاکستان کی حفاظت کے انتظامات کو اس انداز میں ترتیب دینے کا حکم دیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کسی بھی
وقت ملک کے کسی بھی حصے میں جانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہو۔ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ شکست بنانے کے اعتراف میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پہلی مرتبہ 1997ء اور دوسری دفعہ 1999ء میں پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ نشانِ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔پاکستان میں صرف محسنِ پاکستان ہی وہ واحد ہستی ہیں، جنہیں دو مرتبہ نشانِ امتیاز دیا گیا۔ میرے نزدیک دو دفعہ نشانِ امتیاز دے کر بھی ہم ڈاکٹر خان کی قومی خدمات اور احسانات کا حق ادا نہیں کر سکے۔ اس نشانِ امتیاز کا ایک اور پہلو سے بھی ہمیں جائزہ لینا ہوگا۔ اگر ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر پاکستان کے اس سب سے بڑے سول ایوارڈ کا بھی ڈاکٹر صاحب کی ذات کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ قوم اس ہسپتال کی تعمیر کے لئے اپنا حصہ اور کردار ادا کرنا چاہتی ہے، لیکن عطیات دینے والوں کی ایک فطری اور معصوم سی خواہش یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے قومی ہیرو کی خدمت میں یہ عطیات پیش کریں۔محسنِ پاکستان اگر ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی خاطر عطیات جمع کرنے کے لئے کسی بھی شہر
میں جانے کی خواہش رکھتے ہوں تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ محسنِ پاکستان کی اس شہر تک جانے کی راہ میں ہر رکاوٹ دور کرے نہ کہ خود کوئی جھوٹا بہانہ بنا کر رکاوٹ بن جائے۔ ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کے عہدیداران کو محض اپنی عقیدت و محبت کے اظہار کے لئے محسنِ پاکستان کے اعزاز میں تقریب منعقد کرنے کے خواہشمند تھے، لیکن اس موقع پر انسانیت کا درد اپنے دل میں محسوس کرنے والے بہت سارے لوگ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے لئے عطیات بھی دینا چاہتے تھے۔ ہمارے حکمران غریب عوام کے لئے نئے ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے کبھی بھی مثالی کردار کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعے ایک نئے ہسپتال، بلکہ اس کے بعد کئی اور ہسپتالوں کی تعمیر کی راہ بھی نکل سکتی ہے تو حکمران اس راہ میں رکاوٹیں تو نہ ڈالیں۔مجھے یقین ہے کہ جس طرح پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ اگر ان کی صلاحیتوں سے ہم کام لے سکیں تو وہ ملک و قوم کے لئے ایسے اور کئی کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں، جس سے انسانی عقلیں ششدر ہو کر رہ جائیں گی۔ جس کسی نے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دورۂ سیالکوٹ کو منسوخ کروانے کی سازش کی ہے۔ اس نے قوم دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسی کسی سازش سے ڈاکٹر اے کیو خان کی عظمت میں کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ ہمیں محسنِ پاکستان سے ایسا سلوک ہرگز نہیں کرنا چاہیے، جس سے ہم پر محسن کشی کا الزام صادق آ جائے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں، اس زندہ قوم کو ’’ہم ایک شرمندہ قوم ہیں‘‘ میں تبدیل نہ کریں۔(ش،ز،خ)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2KEwLiQ
via IFTTT

No comments:
Write komentar