Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 3 May 2018

29 اپریل کو عمران خان کو 2 کامیابیاں ملیں ایک تو کامیاب جلسہ اور دوسری ۔۔۔۔ معروف صحافی نے ٹائیگروں کو بڑی خوشخبری سنا دی

 

لاہور (ویب ڈیسک ) اتوار کی شام لاہور میں عمران خان کو دوبڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔وہ مینار پاکستان گرائونڈ میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب رہے۔تعداد کے لحاظ سے بہت بڑا اور متاثر کن جلسہ۔عمران خان کا اصل مقابلہ سات سال پہلے ان کے تیس اکتوبر2011 کو ہونے والے جلسہ سے تھا۔

پانامہ کیس کے سپریم کورٹ میں سنے جانے سے پہلے عمران خان نے لاہور کی حدود میں مگر شہر سے تھوڑا باہراڈہ پلاٹ، رائے ونڈ روڈ پرخاصا بڑا جلسہ کیا تھا،مگر مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کا ایک اور ہی نفسیاتی تاثر ہے۔پی ٹی آئی کے بعض حامیوں کو خدشہ تھا کہ شائد اواخر اپریل کے ان گرم دنوں میں اتنے لوگ اکٹھے نہ ہوپائیں۔عمران خان مگر سرخرو ہوئے ۔ انہوں نے یقینی طور پر پہلے سے زیادہ نہیں تو کم وبیش اتنے لوگ اکٹھے کر ہی لئے ۔ ان کے مخالفین کے لئے بھی انتیس اپریل کے جلسہ میں تعداد پر طنز کرنا مشکل ہوگیا، ن لیگ کی طرف سے یہ الزام اگرچہ جڑ دیا گیا کہ لوگ پشاور سے آئے ہیں۔ اس بات کا مذاق ہی بنے گا کیونکہ لاہوریوں سے کیا پوشیدہ رہا ؟اتوار کے دن شہر کے مختلف علاقوں سے بسیں بھر بھر کر مینار پاکستان کی طرف روانہ رہیں۔ اس جلسہ میں دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے ہوں گے، مگر بنیادی طور پر لاہوریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے کامیاب بنایا۔ جلسہ کے انتظامات اچھے تھے، اتنے بڑے کرائوڈ کے ہونے کے باوجود بدتمیزی یا بدنظمی نہیں ہوئی۔ اس لحاظ سے تحریک انصاف اپنے شو میں کامیاب ٹھیری ۔ لاہور جیسے

بڑے اوراہم شہر میں کامیاب جلسہ کرنا کم اہم بات نہیں، مگر عمران خان کی وہاں کی گئی تقریر کئی اعتبار سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ، جس کے دوررس اثرات برآمد ہوں گے۔ عمران خان نے دو گھنٹے کے قریب تقریر کی۔ دھرنے کے زمانے میں قوم کو ان کی سینکڑوں تقریریں سننا بلکہ سچ بولیں تو بھگتنا پڑیں۔ ان کی پارٹی کے پاس موثر مقررین کی کمی ہے، ان دنوں زیادہ تر وقت عمران کو بولنا پڑتا۔اس چکر میں کئی بار وہ سخت اور تندو تیز جملے بھی بول جاتے ۔اتوار کی شام عمران نے اپنی سیاسی زندگی کی بہترین اور موثر تقریر کی۔وہ بہت اچھے عوامی مقرر نہیں ،خطابت کے اصولوں سے بھی اگاہی نہیں۔سادگی سے اپنے نقطہ نظر کو بیان کر ڈالتے ہیں، کہیں کہیں بات سمجھا نہیں پاتے اور اس کوشش میں تقریر مزید طویل ہوجاتی ہے۔ مینار پاکستان کے جلسہ میں عمران خان نے خاصی طویل تقریر کی۔ گرم موسم میں کسی جلسہ سے دو گھنٹے خطاب کرنا دانشمندی نہیں۔خاص کر جب معلوم ہو کہ حاضرین کئی گھنٹوں سے جلسہ گاہ میں موجود اور کئی تقریریں بھگتا چکے ہیں، جن میں عزت مآب قریشی صاحب کی مصنوعی لہجے میں کی گئی ’’خطابت ‘‘بھی شامل ہے۔خان صاحب مگر اپنی دھن میں بولتے گئے، بیچ میں ایک آدھ بار خیال آیا تو ندامت سے

مسکراتے ہوئے بول اٹھے کہ پوری کہانی سننے کا سٹیمنا ہے یا نہیں؟ نوجوانوں کے مثبت ریسپانس پر عمران ’’چارج‘‘ ہوگئے۔تقریر طویل تھی،کچھ باتیں انہوں نے دہرائیں۔ کینسر ہسپتال بننے کی کہانی وہ ایک دو بار پہلے جلسوں میں سنا چکے تھے، ممکن ہے جلسہ گاہ میں موجود کچھ لوگوں کو تکرار محسوس ہوئی ہو، مگر یہ مقرر کا سحر تھا یا دل کھول دینے کا اعجاز کہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔ دو گھنٹے تک ملک بھر میں لوگ اس تقریراور مقرر سے جڑے رہے۔ جلسہ کے بعد بہت سے دوستوں سے بات ہوئی، پیر کا دن بھی صحافتی حلقوں میں یہ تقریر زیربحث رہی۔ فیس بک اور ٹوئٹر سے اب فوری ردعمل سامنے آ جاتا ہے۔عمران کو زیادہ پسند نہ کرنے والے بھی یہ تقریر آخری لمحے تک سنتے رہے۔ وجہ صاف ظاہر تھی۔ اس تقریر میں کہیں پر بناوٹ، مصنوعی پن، جذباتی خطابت یا لوگوں کو خوش کرنے کے لئے بولے جانے والے روایتی الفاظ، جملے نہیں تھے۔سننے والوں کو محسوس ہو رہا تھا کہ مقرر نے جو بھی کہا، وہ اس کے دل کی آواز ہے۔ غلط یا درست، جو بھی کہہ رہا ہے، اس پر یقین رکھتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو، اس تقریر میں بیان کیا گیا مکمل پروگرام ہے۔

اپنی پچھلی تقریروں کی نسبت اس بار عمران خان نے ایک باقاعدہ ایجنڈا پیش کیا۔ انہوں نے گیارہ نکات گنوائے۔ مجھے حیرت ہوئی جب اگلی صبح ن لیگ کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ایک سینئر صحافی کا تجزیہ شائع ہوا، جس میں انہوں نے لکھا کہ عمران خان نے جلسہ میں پروگرام کا اعلان نہیں کیا۔ پروگرام اور کیا ہوتا ہے؟ کیا گیارہ نکات ناکافی تھے یا صحافی موصوف تقریر سنتے سنتے سو گئے اور آخری نصف حصہ سنا ہی نہیں۔یہ سب نکات بہت اہم اور بنیادی نوعیت کے ہیں۔ کون ہے جو ان کی افادیت سے انکار کر سکتا ہے؟اہم بات یہ کہ جذباتی نعروں کے بجائے بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی بات کی، جن کی عام طور پر سیاستدانوں سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور محصولات کو دوگنا کرنے کی بات کبھی میاں نواز شریف سے نہیں سنی جائے گی۔اسی طرح ٹورازم کے فروغ یا دس ارب درخت لگانے والی بات کوئی روایتی سیاستدان یا سیاسی جماعت کا لیڈر نہیں کرے گا کہ یہ وہ باتیں ہیں جن کی اہمیت عام ووٹر نہیں سمجھ سکتا۔پاپولر نعرہ تو تنخواہیں بڑھانے اور پیسے دینے کا ہے، عمران نے اس کے برعکس لوگوں سے پیسے اکٹھے

کرنے کی بات کی ، ممکن ہے تاجر، صنعت کار اس سے ناخوش ہوں، اگرچہ ان کے لئے ایک ضمنی نکتہ موجود ہے کہ بزنس کے لئے سہولیات دی جائیں گی۔ تعلیم خاص کر ایک نصاب لانے اور صحت کو غیر معمولی اہمیت دینے پر مجھے ذاتی طور پر خوشی ہوئی۔ ن لیگ کی حکومت سے ہمارا شکوہ ہی یہی ہے کہ سوشل سیکٹر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں اور یہ صرف میٹرو بس اور اورنج ٹرین چلانے جیسے میگا پراجیکٹس پر اپنی توانائی صرف کر ڈالتے ہیں ، تاکہ ان جگمگاتے منصوبوں سے آئندہ کے لئے ووٹ لئے جا سکیں۔کون کم بخت ہو گا جو سڑکیں بنانے کے خلاف ہوگا، لیکن عوام کو صحت، تعلیم کی بہترین سہولتیں دینا زیادہ اہم ہے۔ عمران خان نے یہ چبھتا ہوا سوال پوچھا کہ جب صرف چار ارب کی رقم سے پشاور میں شوکت خانم جیسا جدید ترین سہولیات والا بڑا ہسپتال بن سکتا ہے تو لاہور اور دیگر شہروں میںنئے بڑے ہسپتال کیوں نہیں بنائے جاتے؟عمران خان کا یہ اعتراض درست ہے ، لاہور میں جناح ہسپتال آخری بڑا ہسپتال تھا، جسے بنے ہوئے اٹھائیس تیس سال ہونے کو ہیں، آبادی ڈبل ہوچکی ہے، مگرمیاں شہباز شریف نے ہسپتال اورعالمی معیار کی

یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے کئی سو ارب روپے سڑکوں، اورنج ٹرین پر لٹا دئیے گئے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر عمران خان جیت گئے تو نیب کے طاقتور اور مضبوط ہونے کا نقصان ان کی حکومت ہی کو ہوگا، مگر اس کے باوجود وہ نیب کو مضبوط بنانے کا وعدہ کرتے رہے۔سرمایہ کاری بڑھانے، روزگار اورپچاس لاکھ سستے گھر دینے کے وعدے دل خوش کن ہیں، تاہم ہر پارٹی ایسے دعوے کرتی ہے۔ ان کی صداقت کا اس وقت پتہ چلے گاجب تحریک انصاف اقتدار میں آئے گی۔ پولیس کو غیر سیاسی بنادینے کے اعلان کو البتہ سیریس لینا چاہیے کہ عمران خان نے خیبر پختون خوا میں یہ کارنامہ کر دکھایا، صوبے کی تاریخ میں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔گزشتہ روز ایک مذہبی میلان رکھنے والے دوست نے سوشل میڈیا پر سٹیٹس لکھا کہ جتنی سنجیدگی سے عمران خان پاکستان کو مدینہ منورہ ماڈل کی ریاست بنانے کا کہتا ہے، اتنا زور تو مذہبی جماعتیں بھی نہیں دیتیں۔ انہیں حیرت تھی کہ تحریک انصاف کے کئی رہنما اچھے خاصے لبرل ہیں، عمران کا ووٹ بینک بھی نسبتاً زیادہ پڑھے لکھے، روشن خیال لوگوں پر مشتمل ہے، اس کے باوجود وہ مسلسل مذہبی بیانیہ دیتا ہے۔عمران خان نے اپنے پرانے نظریاتی ساتھیوں کو یاد رکھا۔ احسن رشید مرحوم کا دلسوزی سے ذکر کیا اور علیل سلونی بخاری کا خاص طور سے نام

لیا۔ اس میںا ن کے کارکنوں کے لئے واضح پیغام تھا کہ اگرچہ اب انہیں الیکٹ ایبلز کی ضرورت پڑ رہی ہے، مگر اپنے پرانے ساتھیوں کو وہ بھولے نہیں۔ دوران تقریر دو تین بار کئی کارکنوں کو نام لے کر بیٹھ جانے اور نعرے بازی بند کرنے کا کہتے رہے۔ خوشگوار حیرت ہوئی ، ورنہ عام تاثر یہی ہے کہ عمران اپنے قریبی کارکنوں کے نام تک یاد نہیں رکھتے۔اندازہ ہے کہ یہ جلسہ اور عمران خان کی تقریر’’ گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکے یا نہیں، ان کے کارکنوں اور ووٹروں کو دوبارہ یکسو کرنے میں مددگارضرور ثابت ہوگی۔ پچھلے چند برسوں میںعمران کے ووٹ بینک کا ایک حصہ برگشتہ ہو کر قدرے پیچھے ہٹ گیا تھا، اس تقریر نے انہیں نیا حوصلہ، توانائی اور تحرک دیا ہوگا۔ عمران نے تقریر کے شروع میں جذباتی انداز میںآنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ کو پکارا، آپ نے ساتھ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران کا جس طرح ان کے حامیوں، کارکنوں اور ووٹروں نے ڈٹ کر ساتھ دیا، اس سے ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم نے یہی دیکھا کہ جو لوگوں کے بس میں ہے، وہ کر ڈالتے ہیں، لیڈر ہمیشہ انہیں دھوکہ دیتے اورسپنے پاش پاش کرڈالتے ہیں۔ابھی تو بہت سفر باقی ہے، الیکشن کمپین بھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی،لیکن عمران خان کو اگر وقت، حالات اور سب سے بڑھ کر قدرت موقعہ دے تو انہیں یہ تمام توقعات اور وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ غلطی ، بدعہدی کرنے کی گنجائش نہیں۔(ع،ع)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HM9o50
via IFTTT

No comments:
Write komentar