اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت کے حامی قبائلی عمائدین اور اراکین پارلیمنٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی قیادت کو سرکاری جرگہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے 4 رکنی ٹیم ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کردی۔ خیبر ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی حاجی شاہ جی گل نے نجی ٹی وی نیوز چینل
کو بتایا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے تاحال مذاکراتی ٹیم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ پی ٹی ایم کی قیادت سے مذاکراتی عمل کا دوسرا مرحلہ جمرود میں 25 اپریل کو حاجی شاہ جی گل کی رہائش گاہ پر ہوا جبکہ پہلا پشاور میں 18 اپریل کو ہوا تھا۔رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ ‘پی ٹی ایم کی تین رکنی ٹیم نے 25 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں کہا تھا کہ وہ انہیں دیگر عمائدین سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت دی جائے، تاہم اس کے بعد سے پی ٹی ایم نے کوئی رابطہ نہیں کیا’۔ حاجی شاہ جی گل کا کہنا تھا کہ‘حکومت کی ترجمانی کرنے والے جرگہ میں ہر قبائلی ایجنسی سے دو عمائدین، تمام قبائلی پارلیمنٹرین، صوبائی اور وفاقی حکومت کا ایک ایک ترجمان اور مالاکنڈ ڈویژن کی اہم شخصیات شامل ہیں’۔انہوں نے مزید بتایا کہ ‘پی ٹی ایم کے لیڈر منظور پشتین جانب سے کوئی رابطہ بحال نہ ہونے کی وجہ سے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے 4 قبائلی عمائدین کو ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کیا گیا تاکہ وہ متعلقہ افراد سے رابطہ کرسکیں’۔ان کا کہنا ہے کہ ‘وزیرستان کے قبائلی عمائدین پر مشتمل 4 رکنی وفد پہلے پی ٹی ایم کے لیڈر کو
تلاش کریں گے اور پھر سرکاری جرگہ سے مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے’ تاہم انہوں نے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکراتی عمل ختم یا معطل ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ حاجی شاہ جی گل نے بتایا کہ گزشتہ روز اجلاس میں مجموعی طورپر آمادگی کا اظہار کیا گیا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا تیسرا دور 10 مئی کو متوقع ہے تاہم مقام کے بارے میں حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا۔رکن قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ ‘اگر ضرورت پڑی تو ایک اور مگر چھوٹا وفد کراچی دورہ کرے گا کیونکہ پی ٹی ایم کراچی میں 12 مئی کو عوامی جلسہ منعقد کرے گی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں نے حکومت سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور پاکستان میں پختون عوام کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں ہونے والے جلسے میں خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے آنے والے ہزاروں پشتون عوام نے شرکت کی جہاں انہوں نے ’یہ کیسی آزادی ہے‘ کے نعرے بلند کیے۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2JYja4A
via IFTTT

No comments:
Write komentar