لاہور (ویب ڈیسک ) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ جلسے کرنا سب کا حق ہے، کراچی میں جو ہوا اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں،لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ حالات تلخ ہیں ، ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے، جب جلسے ب
رداشت نہیں تو الیکشن میں کیا صورتحال ہو گی ،ایسی ہی صورتحال رہی تو الیکشن 2 ماہ کیلئے ملتوی ہو سکتے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ تلخ حالات ختم کرنے کےلئے سب کو مل کر کام کرنا چاہئے،تمام پارٹیوں کو ایک ضابطہ اخلاق بنانا چاہئے، انہوں نے احسن اقبال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیر داخلہ محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا ہو گا،ان کا کہناتھا کہ اگر نوازشریف جلسے کرنا شروع ہوئے ہیں تو اچھی بات ہے ،نازک صورتحال ہے،پاکستان کے پاس قرضوں کی ادائیگی کیلئے پیسانہیں ہے،الیکشن وقت پر کرانے کیلئے تمام پارٹیوں کو مل کر ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا۔سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان کراچی کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، پی پی کو کے پی میں جلسے سے روکنا پی ٹی آئی کی بھول ہے۔نجی چینل سے جارحانہ موڈ میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صورت حال بہت افسوس ناک ہے، دیکھنا ہوگا کہ حالات ایسے پیدا کیوں ہوئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کے پاس جلسے کا اجازت نامہ موجود ہے، پی ٹی آئی کی سینیر قیادت نے کہا کہ قبضہ ہمارا ہے، کیا قبضے پر جلسے ہوتے ہیں؟ پی ٹی آئی شہر کا امن کیوں خراب کرنا چاہتی ہے؟ قبضے کی بات حالات خراب کرنے والی بات ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ قبضے کرنا پی ٹی آئی کا کلچر ہوگا۔
عمران خان کو جہاں جلسہ کرنا ہے کرلیں، کسی نے نہیں روکا، تاہم انہوں نے پی ٹی آئی سربراہ پر الزام عائد کرتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ عمران خان کراچی کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اس طرح کی صورت حال کی توقع نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ او موقع پر موجود تھے، پتھراو¿ کے وقت بھی پولیس موجود تھی، پی ٹی آئی نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی، امن و امان میری ذمہ داری ہے، شہر کا امن و امان ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ پی پی کو کے پی میں جلسے سے روکنا پی ٹی آئی کی بھول ہے، ہم بھی پی ٹی آئی کو نہیں روکیں گے، پی ٹی آئی رہنما علی زیدی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ علی زیدی کی زبان قابل قبول نہیں ہے، گینگ وار کے لوگوں کو علی زیدی پہچانتے ہوں گے، میں نہیں، علی زیدی کو مہذب آدمی سمجھتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی پارٹی کے کیمپوں کو ہٹانے درست عمل نہیں، جو بھی ہوگا انکوائری میں بات سامنے آجائے گی، جس کو قانون کے مطابق اجازت ہے، اس کا جلسہ ہوگا، اس صورت حال کو یہیں روک دیں گے، بارہ مئی 2007ءکو میں خود سڑکوں پر تھا، پی ٹی آئی کو اندازہ نہیں ہے کہ اس دن کیا ہوا تھا، پی ٹی آئی جلسے کی اجازت لے، حکومت سہولیات دے
گی۔کراچی میں 12؍ مئی کو گلشن اقبال میں واقع حکیم سعید گراؤنڈ پر جلسے کرنے کے تنازع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں میں دن بھر جاری رہنے والے کشیدگی کے بعد رات گئے تصادم ہوگیا، دونوں جماعتوں کے کارکنوں آپس میں لڑ پڑے اور علاقہ میدان جنگ بن گیا، دونوںجماعتوں کے مشتعل کارکنوں نے ایک دوسر ے کے کیمپ اُکھاڑ دیئے جبکہ ایک موٹر سائیکل اور 2؍ گاڑیاں جلادی گئیں۔ تصادم کے دوران ایک دوسرے پر آزادانہ ڈنڈوں کا استعمال اور پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، علاقے میں شدید خوف وہراس دکانیں اور فوڈ اسٹریٹ بند ہوگئی، پتھر لگنے ، تشدد اور بھگدڑ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے کیمپس اُکھاڑے جانے کی الزام تراشی کی جبکہ تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے الزام لگایا ہے کہ پی پی پی کے کارکنوں نے براہ راست فائرنگ کی جبکہ پی پی پی رہنما سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں نے داداگیری کا انداز اپنایا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہد نے پی ٹی آئی اور پی پی پی کارکنوں کے درمیان تصادم کا نوٹس لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے حکیم سعید گراونڈ میں جلسہ کرنے کی اجازت بھی لی ہے، وہاں پی ٹی آئی کا قبضہ کرکے سیاست کرنا مناسب نہیں۔ پولیس نے 6؍ افراد کو حراست میں لے لیا،
پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ پولیس موقع سے فرار ہوگئی۔ دن بھر سے جاری کشیدگی کے دوران بارہا پولیس اور رینجرز کی جانب سے دونوں جماعتوں کو کارکنان کو کنٹرول کیا جاتا رہا تاہم رات گئے اچانک دنوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان تصادم شروع ہوگیا اور اس دوران مشتعل کارکنان نے مخالفین کے کیمپس اکھارنا شروع کردئیے جس سے وہاں مزید صورتحال کشیدہ ہوگئی ، ہنگامہ آرائی کے دوران نجی چینل کی ڈی ایس این جی پر بھی مشتعل افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ڈی ایس این جی انجینئر زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی اور ہنگامہ آرائی کے دوران یو نیورسٹی روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ ہنگامہ آئی کے دوان متعدد فراد زخمی ہوئے جنہیں ایمبولنس اور ذاتی گاڑیوں پر اسپتال پہنچایا گیا ۔ پیپلز پارڑی کی رہنما ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو جلسے کی اجازت دی گئی تھی لیکن تحریک انصاف کی جانب سے شرارت کی گئی ہے جبکہ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کا کہنا ہے کہ شرارت پیپلز پاٹی کی جانب سے ہوئی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے پہلے بلدیہ ٹاؤن میں جلسے کا اعلان کیا تھا جب 4؍ مئی کو تحریک انصاف نے حکیم سعید
گراؤنڈ میں جلسے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی نے اسی گراؤنڈ میں جلسے کی درخواست دے دی ، اس صورتحال میںمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما علی رضا عابدی نے کہا کہ سندھ حکومت سے ایک جلسہ کی اجازت کا معاملہ نہیں سنبھل رہا اور سمجھتے ہیں کہ کراچی پر قبضہ کرلیں گے، آج ان کا اصل چہرہ سامنے آگیا، یہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کوگرفتار کیا جائے جنہوں نے علاقے میں کشیدگی اور خوف پھیلایا گیا، پیپلزپارٹی کے کچھ رہنما اشتعال بڑھانے کے لیے آئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زور زبردستی قبضہ کرنا پیپلزپارٹی کا بھی وتیرہ ہے۔رات گئے تک پیپلز پارٹی کے جیالوں اور تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی کی صورتحال جاری تھی اور وقفے وقفے سے تصادم بھی ہوا جبکہ اس دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ۔ رات گئے تک پولیس کی جانب سے مکمل طور پر صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا تھا اس دوران اطراف کی سڑکوں پر بھی ٹریفک کی صورتحال بری طرح معطل تھی۔ اطلاعات کے مطابق مشتعل افراد نے وہاں کھڑی موٹر سائیکلوں کو گرادیا تھا اور مشتعل افراد کی جانب سے انکی توڑ پھوڑ بھی کی گئی اور اطلاعات کے مطابق 2؍ گاڑیوں کونذر آتش بھی کیا ۔رات گئے رینجرز کی آمد کے بعد صورتحال پر کافی حد تک قابو پالیا گیا تھا جبک تصادم کے باعث اطراف کے علاقوں میں قائم رات دیر تک کھلنے والی دکانیں مکمل طور پر بند ہوگئی تھیں اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا۔ یونیورسٹی روڈ پر ہونے والے تصادم کے بعد شہر بھر میں اس اطلاع پر خود و ہرا پھیل گیا یونیورسٹی روڈ پر قائم پٹرول پمپس بھی بند کردیے گئے جبکہ اس دوران پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اور نہ ہی کوئی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ۔اطلاعات کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا جسے قریبی واقع اسپتال پہنچا یا گیا ۔(ع،ع)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2IsU7cO
via IFTTT

No comments:
Write komentar