Technology

Ads

Most Popular

Tuesday, 8 May 2018

بڑے کام کی خبر: بحریہ ٹاؤن میں پلاٹوں کی قیمتوں میں اچانک کمی۔۔۔ وجہ کیا بنی؟ آپ بھی جانیے

 

کراچی(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحریہ ٹاؤن کراچی میں زمین کی خرید و فروخت پر پڑنے والے اثرات پر رئیل اسٹیٹ کے اسٹیٹ ہولڈرز کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں زمین کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کچھ ذرائع کا کہنا تھا کہ

خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان نئے معاہدے کی معطلی کے بعد بحریہ ٹاؤن میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دیگر لوگوں کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان کیے گئے معاہدوں کو ابھی تک حتمی شکل دی جارہی ہے۔ اس حوالے سے کلفٹن میں واقع پاریکھ اسٹیٹ کے مالک عبدالوہاب پاریکھ کا کہنا تھا کہ ’ خریداروں میں اس وقت تشویش پائی جاتی ہے، خاص طور ان لوگوں میں جو ابھی تک ملکیت حاصل نہیں کرسکیں ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحریہ ٹاؤن میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں بڑے سرمایہ کاروں کے بجائے زیادہ تر لوگ ’ اپر مڈل کلاس‘ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالوہاب پاریکھ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمعے سے پلاٹ اور گھر کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد کمی آئی ہے جبکہ نئی زمین کی لین دین تقریباً رک چکی ہے۔ اس بارے میں جب سٹی ایسوسی ایٹس کے سی ای او اور ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے رئیل اسٹیٹ پلاننگ ایڈخ ریسرچ کے نائب صدر محمد شفی جاکھوانی سے رائے جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں بحریہ ٹاؤن کا کوئی ایسا خریدار یا فروخت کنندہ نہیں جو لین دین میں جمود کا شکار ہوں، تاہم 15 سے 20 دن قبل کیے گئے معاہدوں کی منتقلی کا عمل پیر تک جاری رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 دنوں کے درمیان بحریہ ٹاؤن میں پلاٹس اور گھروں کی قیمتوں میں 10 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، تاہم بحریہ ٹاؤن کا اثر شہر کی دیگر رئیل اسٹیٹ ٹریڈنگ پر ابھی تک نہیں پڑا ہے کیونکہ 19-2018 کے بجٹ کے اعلان کے بعد سے مارکیٹ سست روی کا شکار ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پڑھنے والے اثرات پر ناظم آباد اسٹیٹ کے مالک زبیر رشید کا کہنا تھا کہ اس وقت بحریہ ٹاؤن میں کوئی پراپرٹی کے لیے خریدار یا فروخت کنندہ نہیں ہے اور کچھ دنوں میں قیمتوں میں 20 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحریہ ٹاؤن میں سرمایہ کاری کرنے والے لوئر یا مڈل کلاس لوگ نہیں تھے بلکہ یہ بڑے لوگ تھے، ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کے آغاز کے بعد ہونے والی سرگرمیوں اور منصوبے کو بھی دیکھے۔ اس بارے میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ( آباد) کے چیئرمین

عارف یوسف جیوا کا کہنا تھا کہ ’ بحریہ ٹاؤن اس وقت آڈٹ اور جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہا، جس کا سب سے زیادہ فائدہ مستقبل میں خریداروں اور فروخت کنندگان کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ بحریہ ٹاؤن میں خرید و فروخت کرنے والے لوگ اس وقت کافی پریشان نظر آرہے ہیں، کچھ کو یہ ڈر ہے کہ اس منصوبے کو مکمل طور پر بند کرنے کے فیصلے کی صورت میں ان کی ساری سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بحریہ ٹاؤن میں بڑے منصوبے میں خرید و فروخت رک چکی ہے جبکہ زمین اور گھر کی قیمتوں مین 20 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد پڑنے والے اثرات پر ایک اور کلفٹن میں موجود ایک اور اسٹیٹ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت کوئی شخص بھی بحریہ ٹاؤن میں خرید و فروخت کا خطرہ لینے کو تیار نہیں، تاہم صرف اس معاہدوں پر اس وقت بات چیت جاری ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے دونوں فریقین معاہدے پر رضا مند ہوئے تھے۔ اس بارے میں ایک ایجنٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹی خریدنے والوں کے متاثر ہونے

یہ خبر پڑھںا : ’’ پاکستانی اور بھارتی نوجوانوں کو ایک ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ شاہد آفریدی نے اییs بات کہہ دی کہ بھارت مںر موجود انکے مخالفن بھی داد دینے پر مجبور ہوگئے

یہ خبر پڑھں : اسے کہتے ہںر راتوں رات تبدیی ۔۔۔۔۔ مسلم لگ۔ (ن) کے 2 مرکزی رہنماؤں کی بنی گالہ آمد،حکمران جماعت کو الوداع کہتے ہوئے عمران خان سے ہاتھ ملا لا

کا امکان کم ہے کیونکہ قومی احتساب بیورو (نیب) الاٹیز کے بجائے بحریہ ٹاؤن کے مالکان سے بات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہمارا خیال ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے آپریٹرز کے خلاف جاری تحقیقات میں عوام متاثر نہیں ہوں گے‘۔ دوسری جانب بحریہ ٹاؤن میں موجود بروکرز کی جانب سے اپنے گاہکوں اور ممکنہ گاہکوں کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے جارہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ ان بروکرز کی جانب سے جو پیغام گردش کررہا ہے اس میں یہ کہا جارہا ہے کہ ’ بحریہ ٹاؤن نے ایم ڈی اے سے حاصل زمین پر بہت زیادہ ترقیاتی کام کیا ہے اور یہ عوام کو الاٹ کی گئی ہیں، لہٰذا اس میں کسی تیسرے فریق کی دلچسپی کا کوئی شبہ نہیں ہے اور عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کو مزید کمرشل اور رہائشی پلاٹس فروخت کرنے سے محدود کیا ہے اور اس طرح کی سرگرمی غیر قانونی شمار ہوگی‘۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2JZcu6v
via IFTTT

No comments:
Write komentar