(تسنیم خیالی)
متحدہ عرب امارات کا قیام 1971ء میں ہو ا یعنی اس کے قیام کو ابھی نصف صدی بھی مکمل نہیں ہوئی، یہ ریاست 7 ریاستوں کے فیڈرل اتحاد سے معرض موجود میں آئی ،اس اتحاد میں ابوظہبی اور دبئی ریاستوں کا کلیدی کرداررہا، قیام کے بعد ریاست کے سربراہ کے طور پر تمام ریاستوں کے اتفاق سے شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کو مقرر کیا گیا جو کہ ابوظہبی ریاست کے بھی سربراہ تھے، شیخ زاید نے 1966ء میں اپنے بڑے بھائی شخبوط پر انقلاب کرتے ہوئے ابوظہبی کی بھاگ دوڑ سنبھالی، اس انقلاب میں برطانیہ کا اہم کردار رہا کیونکہ شخبوط برطانیہ کے وفادار غلام نہیں تھے جبکہ زاید برطانیوں کے نزدیک ان کے انتہائی قریب اور وفادار تھے۔
ویسے تو شیخ زاید نے اپنی زندگی میں ایسا بہت کچھ کیا جسے جان کر سبھی شرمندہ ہوتے ہیں ، اس کالم میں ہم بات شیخ زاید اور ان کے ’’کارناموں‘‘ کی نہیں بلکہ ان کے بعد اقتدار میں آنے والے ان کے بیٹوں کے’’والدکا نام خاک ‘‘ میں ملانے پر بات کریں گے، متحدہ عرب امارات کے قیام اور زایدکے اماراتی صدر بننے کے بعد امارات میں سبھی افراد خواہ عرب ہوں یا نہیں، مسلمان ہو یا پھر غیر مسلم، سبھی نے بن زاید کو ان کی حیات پر 2004ء میں مرنے کے بعد دعا دی اور اچھے الفاظ میں یاد کیا، مگر اب شیخ زاید کو اس کے بیٹے محمد کے کرتوتوں کی وجہ سے گالیاں اور بددعائیں دینے لگے ہیں، امارات کے موجودہ ولی عہد اور شیخ زاید کے تیسرے بیٹے محمد بن زاید نے امارات کو بدل کررکھ دیا ہے، یہ وہ امارات نہیں جس کی خواہش شیخ زاید نے کی تھی۔
بن زاید کی خارجہ پالیسیز اور علاقےاور دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی نے امارات کے نام کو بدنام کردیاہے، امارات نے صومالیہ، جبوٹی اور یمنی جزیرہ ’’سقطری‘‘ کے خلاف جو سازشیں کی ہیں ان کے بارے میں اب سبھی جانتے ہیں ، مثال کے طور پر اماراتی افواج نے یمن میں جاری جنگ کے دوران ’’سقطری‘‘ پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے اس پر قبضہ جما لیا ہے، جس کی وجہ سے شیخ زاید کی تعریف اور ان کےلئے مغفرت کی دعا کرنے والے یمنی اب زاید پرفاسد اولاد پیدا کرنے پر لعنت بھیج رہے ہیں ، محمد بن زاید نے اپنے والد اور ملک کی عزت خاک میں ملادی ہے جس کے بعد امارات کی عزت اوروقار کا دور ختم ہوا، بن زاید کے اقدامات اور فیصلوں کی وجہ سےغیر عرب اور مسلم ممالک بھی امارات کو اب اچھا ملک تصور نہیں کرتے، اور اگر بن زاید کا یہی قصہ رہا تو آنیوالے وقت میں امارات کے خلاف پائی جانے والی نفرت بڑ ھ جائے گی، اماراتی ولی عہد نے اپنے شیطانی منصوبوں کو پورا کرنے کےلئے تمام حدیں پار کردیں اور اسے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جولوگ جو اسکے والد کو دعا ئیںدیا کرتے تھے اب بددعا دینےلگےہیں کیونکہ وہ بھی اپنے والد کے حق میں غیر مہذہب زبان استعمال کرچکےہیں ۔
The post دعا بد دعا میں بدل گئی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2HX1tWI
via IFTTT


No comments:
Write komentar