Technology

Ads

Most Popular

Tuesday, 8 May 2018

پارلیمانی انتخابات نے لبنان کی نئی پہچان کرادی ۔انتخابی نتائج اور تفصیلات

 

حزب اللہ اور اتحادیوں نےیہاں بھی میدان مارلیا ۔یوں لگ رہا تھا کہ پوری دنیا سانس روکے لبنان کے انتخابات پر نظریں گاڑے تھی ،سب اس سوچ میں تھے کہ بیلٹ بکسوں سے کیا برآمد ہونے والاہے ؟

کیا اس میدان میں مزاحمتی سوچ کو شکست دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟کیا عسکری میدانوں میں اپنےمقابل کسی کو پل بھر ٹکنے نہ دینے والی جماعت حزب اللہ اور اس کےاتحادی سیاسی میدان میں بھی مد مقابل کومیدان چھوڑنے پر مجبور کرسکتے ہیں ؟لبنان کی عوام کیا سوچتی ہے ؟کیا یہ سچ ہے کہ مزاحمتی بلاک کی پالیسی کہ جس کے بارے میں اندرونی اور بیرونی شور یہ ہے کہ وہ ایک جارحانہ انداز رکھتے ہیں ایک سچ ہے یا صرف پروپیگنڈہ ؟

کیا شام میں داعش کیخلاف جنگ میں مزاحمتی جماعت کا تعاون ملک میں اس کی مقبولیت کو کم کرگیا ہے ؟جیسا کہ بین الاقوامی میڈیا ہاوسزصبح شام یہ یقین دلانا چاہتے ہیں ؟

کیا لبنان کی عوام بھی باقی امیر عرب ملکوں کی طرح اسرائیل سے مقابلے اور اس کے آگے ڈٹ جانے کے بجائے ’’بنائے رکھنے‘‘ اور ’’جیو اور جینے دو‘‘ کی پالیسی چاہتے ہیں؟یا پھر ان کو حزب اللہ کی پالیسی اور حکمت عملی پر بھروسہ ہے جو کہتی ہے کہ غاصب اور قابض کے ساتھ نہ بنائی جاسکتا ہے نہ جیا جاسکتا ہے ؟

حسن نصر اللہ کہتے آئے ہیں کہ بھروسہ رکھو ۔۔ہم آپ سے کامیابی کا وعدہ کرتے ہیں ۔۔ اور وقت ثابت کرچکا ہے کہ وعدے کے پکے ہیں تو کیا نصر اللہ کے ان وعدوں پر لبنان کی مختلف الخیال و عقیدہ عوام بھروسہ بھی کرتی ہے ؟کہا جاتا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعت عوامی اجتماعات تو کرسکتی ہے لیکن ووٹ نہیں لے سکتی ۔۔۔تو کیا لبنان کی عوام بھی ایسا سوچتی ہے ؟؟؟تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ تمام تر اندازوں اورتجزیوں پر پانی پھیرتے ہوئے عوام نے ’’امید اور وفاداری ‘‘کو’’ مزاحمت اور قربانی‘‘ کو اپنے اعتماد کا پورا پورا ثبوت دیاہے ۔

انتخابات کی کچھ تفصیل
تازہ ترین غیر سرکاری نتائج کے مطابق
الف:8 مارچ الائنس (حزب اللہ اور اس کے اتحادی)۔50سیٹیں ،اسرائیلی ان نتائج کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ لبنان اور حزب اللہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر تعلیم نفتالی بینیٹ نے لبنانی انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پورا لبنان حزب اللہ ہے اور اس پارٹی اور حکومت میں اب کوئی فرق نہیں رہا اور اسرائیل کو بھی اس جماعت اور حکومت کو کسی قسم کا فرق نہیں دیکھنا چاہیے ۔لبنان کی اگلی پارلیمان میں حزب اللہ اور اس کے اتحادی نصف سے بھی زیادہ سیٹوں پر ہونگے ۔

اب تک غیر رسمی نتائج کے مطابق حزب اللہ اور اتحادیوں کے پاس 128میں سے 67سیٹیں موجود ہیں جبکہ دیگرجیتنے والے تمام امیدوار یا سیاسی گروہ میں بھی ایسی امیدوار ہیں جو مزاحمتی بلاک کے ساتھ رویہ اور تعاون مخاصمانہ انداز نہیں رکھتے ۔

جہاں ایک جانب فیوچر پارٹی اور دیگرگروہوں کا گڑھ سمجھے جانے والے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ الائنس نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے تو خود اپنے حلقوں جیسے بعلبک اور ھرمل میں دس میں سے دو سیٹوں کو کھو بھی دیا ہے ان دوسیٹوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایک قسم کی ایڈجسمنٹ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ حلقہ مزاحمتی بلاک سے تعلق رکھتا ہے ۔

ب:14 مارچ (فیوچر پارٹی اور اس کے اتحادی) 35 نشستیں۔جبکہ دارالحکومت بیروت میں اس جماعت کو بری طرح شکست کا سامنا رہا ہے اور یہ اپنی چھ سیٹوں کو کھو بیٹھی اور 11 میں سے صرف 5 سیٹوں کو بچاسکی ،سن 2000کے الیکشن میں اس جماعت اور اتحادیوں کے پاس 19سیٹیں تھیں ایسی ہی صورتحال اس الائنس کو لبنان کے دوسرا دارالحکومت کہلانے والے شہر طرابلس میں بھی دکھائی دیتی ہیں جہاں وہ 3سیٹیں حاصل کرپائے ۔واضح رہے کہ یہ اتحادی سعودی فرانسی امریکی حمایت یافتہ اتحاد بھی کہلاتا ہے

ج:فری پیٹریاٹک موومنٹ۔(مائیکل عوان کی جماعت ) 20 سیٹیں ،مائیکل عون مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں

د:پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی(ولید جنبلاط اور دُرزی فرقہ کی جماعت) 10 سیٹیں

لبنان میں حکومتی مناصب مذہبی بنیادوں پر تقسیم شدہ ہوا کرتے ہیں کہ جس میں وزیر اعظم کو سنی مسلمانوں جبکہ اسپیکر شیعہ مسلمانوں اور صدر کو عیسائی مذہب سے منتخب کیا جاتا ہے ۔

حزب اللہ ،امل پارٹی اور فری پیٹریاٹک موومنٹ درحقیقت پارلیمان میں ایک ہی رحجان اور سوچ کو تشکیل دیتے ہیں جن کی موجودہ پوزیشن 53سیٹوں کے ساتھ موجود ہے جبکہ صدر اور اسپیکر کی کے مناصب بھی اسی اتحاد کے پاس موجود ہے۔لیکن حالیہ الیکشن کے نتائج سے واضح ہورہا ہے کہ اب اس روحجان کی پوزیشن پہلےنمبر پر ہوگی جبکہ سب سے زیادہ سیٹیں بھی حزب اللہ کے پاس ہی ہونگی ۔

دوسری جانب اگر پڑنے والے ووٹوں کی صورتحال کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بھی واضح ہے کہ مزاحمتی بلاک اور سوچ نے پورے لبنان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں ۔واضح رہے کہ پیش شدہ نتائج غیر رسمی اور غیر حتمی ہیں کیونکہ ابھی تک لبنان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان نہیں ہوا ۔واضح رہے کہ کامیاب امیدواروں میں ایک ایسا امیدوار بھی ہے جیسے شام کے صدر بشار الاسد کا خاص دوست سمجھا جاتا ہے لبنانی انتخابات پر مزید تجزیہ اور تبصرہ جاری رہے گا ۔۔۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

The post پارلیمانی انتخابات نے لبنان کی نئی پہچان کرادی ۔انتخابی نتائج اور تفصیلات appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2rsl4Tr
via IFTTT

No comments:
Write komentar