Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 6 May 2018

انتہا پسند سعودی شہزادہ بن سلمان سے نالاں

 

(تسنیم خیالی)
شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب میں بہت کچھ ہوچکا اور ہورہا ہے اور آنے والے وقت میں ہو گا، ان تبدیلیوں کی وجہ صرف خارجہ پالیسی نہیں ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی سعودی عرب کے معروف خدوخال بدل رہے ہیں، آج خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت، شہروں میں سینما گھروں کا افتتاح ، ڈبلیو ڈبلیو ای ایونٹ کا انعقاد جیسے بہت سے اقدامات سعودی عرب میں ہورہےہیں، سب سے بڑی تبدیلی سعودی عرب میں یہ ہوئی ہے کہ دہائیوں سے وہاں سرگرم ’’امربالمعروف وانہی عن المنکر کمیٹی‘‘ کے پر کاٹ دیے گئے ہیں، یہ ادارہ ملکی سطح پرسخت گیراور قدامت پسند اقدار کو طاقت کے بل بوتے پرفروغ دیتا تھا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر عوام الناس کو قانون کےکٹہرے میں لاکر کھڑا کردیتا ، صاف الفاظ میں اس ادارے نے امربالمعروف وانہی عن المنکرکے نام پر سعودیوں کا جینا حرام کررکھا تھا، میں یہاں بن سلمان کے اقدامات اور تبدیلیوں کی حمایت نہیںکررہا اور ناہی مخالفت البتہ یہ ضرور ہے کہ بعض ایسی تبدیلیاں ہیں جو کسی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیںدیتی البتہ یہ بھی بن سلمان اور سعودیوں کا مسئلہ ہے وہ جانے اور ان کے کام ، البتہ ایک سعودی شہزادہ ایسا بھی ہے جو بن سلمان کے حالیہ اقدامات پر نالاں اور آگ بگولا ہوچکا ہے یہ شہزادہ کوئی اور نہیں بلکہ ’’زاہد آل سعود‘‘ کے نام سے مشہور 79سالہ شہزادہ ممدوح بن عبدالعزیز آل سعود ہیں، ممدوح بانی سعودی عرب عبدالعزیز کے 31ویں بیٹے ہیں اور اعلیٰ مذہبی تعلیم یافتہ ہیں، موصوف اپنے بھتیجے بن سلمان کے اندرونی اقدامات کے سخت مخالف ہوچکے ہیں، وہ امربالمعروف وانہی عن المنکر کمیٹی کے سب سے بڑے حمایتی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کمیٹی کو بھر پور اختیارات دینے کے بھی قائل ہیں، ممدوح کی آفیشل ویب سائٹ کا نام ’’الرد‘‘ ہے جہاں انہوں نے سعودی عرب میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو تشدد تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خود کو اس سے بری کردیا ہے، خیر جب میں نے ممدوح کی ویب سائٹ الرد کا مطالعہ کیا تو مجھ پر آشکار ہوا کہ موصوف داعش کے کسی تکفیری جنگجو سے کم نہیں بلکہ یوں کہیں کہ وہ تکفیریوں کے سرداروں میں سے ایک ہیں، موصوف کی ویب سائٹ پر انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت سے بھرا مواد بے حساب موجود ہیں، ویب سائٹ پر تشیع، تصوف، اسماعیلی اور دیگر مذاہب کے خلاف بہت لکھا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، موصوف اپنے فرقے کے علاوہ سبھی کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں، ویب سائٹ کے وزٹ کے دوران مجھے یوں لگ رہا تھا کہ کہیں میں داعش یا لقاعدہ کی ویب سائٹ تو نہیں دیکھ رہا ۔

اگر ’’زاہد آل سعود‘‘ کا یہ حال ہے تو باقی سعود والوں کا کیا حال ہوگا آپ خود ہی سوچ لیں، یہ خاندان اور اس کے تمام افراد خود کو اسلام کے ٹھیکیدار سمجھ بیٹھے ہیں اور صرف اپنے عقیدے کو درست مانتے ہوئے سبھی کو کافر قرار دیکر دوسروں پر الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ وہ علاقہ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلا رہے ہیں، ممدوح کی اس ویب سائٹ پر تاریخ، مذہب اور انسانیت کا مذاق اڑایا گیا ہے کیونکہ اس میں کوئی ایک بات بھی سچ نہیں صرف جھوٹ لکھا گیا ہے اسی قسم کی ویب سائٹ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سبب بنتے ہیں۔

اس قسم کی ویب سائٹس سے نمٹنا وقت کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے مثلاً اس قسم کی ویب سائٹس کے حوالے سے آگاہی ، اس کے مقابلے میں موزوں ویب سائٹ کا ہونا جو لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرے، دہشت گردی کے ناسور سے اگر دنیا کو نجات دلانی ہو تو ممدوح اور اس جیسے دیگر انتہا پسند لوگوں کی ویب سائٹس کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔

The post انتہا پسند سعودی شہزادہ بن سلمان سے نالاں appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2KEIZrC
via IFTTT

No comments:
Write komentar