اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سٹرٹیجک سٹڈیز انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کی سربراہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔پاکستان کے سویلین ایٹمی پروگرام کا فوجی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔ گزشتہ روز انسٹی ٹیوٹ میں یوم تکبیر کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ، پاکستان نے اپنی نیوکلیئر پالیسی اور ہتھیاروں کے نظام کو ہمیشہ جدید اور ترقی یافتہ شکل میں اپ ڈیٹ رکھا ہے ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی قائم کی، دو ہزار ایک میں اپنے سول پروگرام کو جوہری پروگرام سے الگ کیا جس کے لئے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی۔ پاکستان نے میڈیم رینج میزائل پروگرام کو ترقی دی اور بھارت کی طرف سے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے جواب میں ’’نصر‘‘ کی صورت میں شارٹ رینج ٹیکٹیکل میزائل بنائے ، یہ بھارت کی طرف سے کسی تزویراتی جارحیت یا محدود جنگ کی صورت میں ہم اسے بطور ٹیکٹیکل ویپن استعمال کرسکیں گے۔ ’’نصر‘‘ جنگی ہتھیار نہیں بلکہ ٹیکٹیکل ہتھیار ہے۔ اس سے ہماری سیکنڈ سٹرائیک صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے پاس آبدوزیں موجود ہیں، کروز میزائل کو ترقی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد بڑا محدود ہے۔ کروز میزائل ٹیکنالوجی بڑی اہم ہے، اسے تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت کے لئے سفارتکاری کو موثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکنالوجیز بہت بہتر ہیں۔ پاکستان این ایس جی کی رکنیت کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس وقت ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو شاید کبھی ایسا نہ کرپاتا۔بھارت کو اگر ابھی تک تسلیم شدہ جوہری طاقت کا درجہ نہیں ملا تو اس کی وجہ پاکستان ہے۔ اگر پاکستان اس وقت ایٹمی تجربے نہ کرتا تو پھر شاید اس پر اس قدر دباؤ ڈال دیا جاتا کہ وہ ایسا کبھی نہ کرپاتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی تجربات کی زبردست حامی رہی ہیں(ز،ط)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2xmbWWG
via IFTTT

No comments:
Write komentar