Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 9 May 2018

وہ نامور پاکستانی اداکار جو حقیقی زندگی میں ایک سیاستدان تھا

 

کراچی (ویب ڈیسک) ٹی وی نے بڑے بڑے فن کار پیدا کیے۔ اسی طرح اگر اداکاراؤں کا ذکر کیا جائے تو ایک طویل فہرست نظر آئے گی۔ ٹی وی ڈرامے میں جن مرد فنکاروں نے اپنے فن کا سکہ جمایا ان میں محمدقوی خان، علی اعجاز، ننھا، منور سعید، طلعت حسین، فاروق ضمیر، جمیل فخری،

مشہورکالم نگارعبدالحفیظ ظفرلکھتے ہیں ۔۔۔ شکیل، سبحانی بایونس اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ کچھ اداکار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری کے جداگانہ اسلوب کی بدولت اپنا ایک الگ مقام بنایا اور فن کی دنیا میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ ان اداکاروں میں ایک تھے شفیع محمد شاہ۔ سات ستمبر 1949ء کو کند یارو ضلع نوشیروفیروز سندھ میں پیدا ہونے والے شفیع محمد شاہ کو شاہ جی کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد ریڈیو سے اپنا کیرئیر شروع کیا۔ 60ء کی دہائی میں وہ ریڈیوکے ڈراموں میں حصہ لیتے رہے جہاں ان کی اداکاری کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ اس دوران انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کر لی۔ اس کے بعد وہ کراچی چلے گئے اور ایک اداکار کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ شفیع محمد شاہ کو ٹی وی ڈراموں میں بطور اداکار مرحوم پروڈیوسر شہزاد خلیل نے متعارف کرایا۔ انہوں نے شفیع محمد کو اپنی ڈرامہ سیریل ’’تیسرا کنارہ‘‘ میں اداکاری کا موقع دیا۔ اس ڈرامہ سیریل کے بعد ہی شفیع محمد کو ایک باصلاحیت اداکار تسلیم کر لیا گیا اور پھر انہوں نے کئی ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ خاص طور پر ’’چاند گرہن، دائرے، آنچ، بند گلاب، اور محبت خواب کی صورت‘‘ میں

شفیع محمد نے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی کے علاوہ فلموں میں بھی کام کیا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت سب کو حیران کر دیا۔ اپنے 30 سالہ کیرئیر کے دوران انہوں نے 50 سے زائد ڈرامہ سیریز میں کام کیا۔ اس کے علاوہ مختلف ٹی وی چینلز میں انہوں نے 100 سے زیادہ اردو اور سندھی زبان کے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شفیع محمد شاہ کے جو دیگر ڈرامے عوام میں بے حد مقبول ہوئے ان میں ’’جنگل، زینت، کالی دھوپ، تپش، زہرباد، کانٹوں سے آگے، ماروی‘‘ اور دیگر کئی ڈرامے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ میں کام کیا جس میں ان کے ساتھ شبنم تھیں۔ یہ ایک کامیاب فلم تھی۔ انہوں نے فلم ’’تلاش‘‘ میں ولن کا کردار ادا کیا اور ایک بار شائقین کو چونکا کے رکھ دیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ ندیم تھے۔ اس کے علاوہ کچھ سری لنکن اداکار بھی تھے۔ شفیع محمد نے سب سے زیادہ شہرت ’’چاند گرہن‘‘ سے حاصل کی۔ ان کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی اس ڈرامہ سیریل کو بہت پذیرائی ملی۔

شفیع محمد کو فطری اداکاری کہا گیا۔ ان کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی اور مکالمے بولنے کا انداز بھی شاندار تھا۔ انہوں نے ہمیشہ معیاری کام کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن تھے اور انہوں نے اکتوبر 2002ء کے انتخابات میں این اے 253کراچی سے حصہ لیا لیکن وہ انتخاب ہار گئے۔ وہ پارٹی کی کلچرل کمیٹی کے رکن تھے۔ انہوں نے آرٹ اور ثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے کام کیا۔ 12 مارچ 2004ء کو شفیع محمد نے پاکستان میں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ والدین کو چھوٹے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں مدد کریں۔ شفیع محمد کو 1985ء میں پاکستان ٹی وی کی طرف سے بہترین اداکاری کا ایوارڈ ملا۔ 2007ء میں کراچی پریس کلب کے اراکین نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور اس سلسلے میں ایک اجلاس بلوایا گیا۔ اس اجلاس میں کئی فنکاروں نے اپنے خطاب میں شفیع محمد کے فن پر روشنی ڈالی۔ ان میں انور سولنگی، منظور قریشی اور ممتاز کنول شامل تھے۔ انہوں نے ڈرامہ سیریز ’’دی فرسٹ انڈس ڈرامہ ایوارڈ 2005ء ‘‘ میں بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی بھی دیا گیا۔ 17 نومبر 2007ء کو شفیع محمد شاہ کا سوتے میں انتقال ہو گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا نام ٹی وی ڈراموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2K4OsHa
via IFTTT

No comments:
Write komentar