(تسنیم خیالی)
بندہ کوئی بھی ہو کسی ملک کا بادشاہ، صدر، وزیراعظم یا پھر اہم عہدیدار آخر ایک دن ایسا کچھ کرجاتا ہے جس سے اس کا ظرف اور حیثیت سبھی پر آشکار ہوجاتی ہے، ایساہی کچھ پچھلے دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن باہو نے بھی کردکھا یا جس سے اس کے ظرف کا سبھی کو پتا چل گیا، پچھلے دنوں جاپانی وزیراعظم ’’شنزوآبی ‘‘ نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اس سلسلے میں نیتن باہو نے ’’آبی‘‘ اور انکی اہلیہ کے اعزاز میںظہرانہ دیا تھا، کھانےمیں تو سب کچھ نارمل لگ رہا ہے جیسا کہ ہر میزبان اپنے مہمان کے ساتھ کرتا ہے مگر سویٹ ڈش میں نتین یاہو نے ’’آبی ‘‘ اور ان کی اہلیہ کو ’’جوتا‘‘ کھانے کےلئے پیش کردیا!
’’کھانے والا یہ جوتا‘‘ دراصل چاکلیٹ سے بناہوا تھا اور اس میں مختلف قسم کی مٹھائیاں بھری تھیں ، ’’آبی ‘‘ نے تو پہلے جوتے کی طرف بڑے تعجب سے دیکھا مگر پھر مسکراتے ہوئے کھالیا، بعض لوگ یہ سوچتے ہونگے کہ یہ معمولی بات ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے، البتہ اس بات پر غور کیا جائے تو یہ صہیونی ریاست اور نتین باہو کی کم ظرفی اور اصل حیثیت کی نشاندہی ہے، جی ہاں صہیونی ریاست اور نتین باہو کی حیثیت ایک جوتے کےبرابر ہے اور انہوں نے واقعی میں اپنی اصل اوقات دکھادی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ آبی نے اسرائیل میں کھڑے ہوکر بلا جھجھک یہ اعلان کیا تھا کہ جاپان اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل نہیں کررہا کیونکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے، ظاہر ہے کہ نتین باہو کو یہ اعلان برا لگا ہے اور انہوں نے بدلے کے طور آبی کو یہ جوتا دکھایا مگر چاکلیٹ کی صورت میں (نتین باہو کے بس میں نہیں تھا، وگرنہ وہ اپنا جوتا اتار دیتے)، البتہ ’’آبی‘‘ کواس قسم کے برتائو سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انہوں نے بیت المقدس کے حوالے سے منطقی اقدام کا اعلان کیا ہے جوکہ ہونا چاہیے، آبی کے اعلان سے جاپان کی طرف سے واضح پیغام ملتا ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا، رہی جوتے کی بات تو ’’جوتوں نے اپنا جوتا پن دکھانا تھا‘‘۔
اس جوتے سے صہیونیوں کی سوچ اور نفسیات معلوم ہوتی ہے کہ وہ کس قدر گرے اور گئے گزرے ہیں، نتین باہو نے ’’آبی ‘‘ کو جوتا پیش کرکے انہیں قطعاً بےعزت نہیں کیا بلکہ اپنے آپ اور اپنی اس ناجائز ریاست کو بےعزت کیا ہے، پوری دنیا نے اس واقعہ پر ’’آبی‘‘ کا مذاق نہیں اڑایابلکہ نتین باہو کا اڑایا اور اسے ایک بے ادب اور بدتمیز شخص قرار دیتے ہوئے تمیز سیکھنے کی نصیحت کردی، اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ اس قسم کی ریاست اور اس کے وزیراعظم نے اس سے بڑھ کر اور کیا کرلینا ہے۔
کیا یہ جنگ لڑنے کے قابل ہیں؟
کیا ان کا ایران کے ساتھ کوئی مقابلہ ہے؟اور میرے خیال میں جو انکے اتحادی ہیں خواہ وہ امریکہ اور یورپ جیسے عیاں ہوں یا پھر بعض عرب ممالک جیسے خفیہ سبھی انہی کی طرح ہیں۔
The post بالآخر نیتن یاہو نے اپنا ظرف اور حیثیت دکھا ہی دی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2JSFf4C
via IFTTT


No comments:
Write komentar