(تسنیم خیالی)
نیو یارک میں ایک امریکی عدالت نے 9/11 حملوں میں مارے جانے والے افراد کے اہل خانہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ایران کو 6ارب ڈالر معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت میں ’’جارج ڈینیل ‘‘ نامی جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت پاسداران انقلاب اور ایرانی سٹیٹ بینک 9/11 حملوں میں مارے جانے والے 1008 افراد کی موت کے ذمہ دار ہے، اور ایران کو مارے جانے والے اِن افراد کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینا ہوگا۔
معاوضے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
5.12 ملین ڈالر بیوی کےلئے، 5.8 ملین ڈالر والدین کےلئے، 5.8 ملین ڈالر ہر ایک بچے کےلئے ،25.4 ملین ڈالر ہر ایک بھائی اور بہن کےلیے ، علاوہ ازین مقدمہ دائر کرنے والوں کو مزید معاوضہ مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، ایران کے خلاف 9/11 حملوں کے حوالے سے 2004ء میں پہلا دائر ہوا تھا، 2016ء میں ’’جاستا‘‘ قانون کی منظوری کے بعد ایران کے خلاف مزید مقدمات دائرہو گئے، ایران کے خلاف مقدمہ لڑنے والے وکیل کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف پیش کی کیے جانے والے ثبوتوں سے ثابت ہورہا ہے کہ ایران نے القاعدہ کی فنڈنگ کی تھی اور اس فنڈنگ کا پیسہ حملوں میں استعمال ہوا تھا، ایران کا اس حوالے سےاب تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا اس کے باوجود معاوضے کی رقم امریکیوں نے امریکہ میں موجود’’ ایران کے منجمد اکائونٹس ‘‘ کے ذریعے حاصل کرلی جائےگی جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آرہاتھا، 9/11 حملوں کے حوالے سے سبھی جانتے ہیں کہ 19حملہ آوروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا جبکہ باقی چار بھی عربی ہی تھے، یعنی حملہ آوروں میں سے کوئی ایک بھی ایرانی نہیں تھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ امریکی سکیورٹی اداروں کی تحقیقات اور تفتیش سے ثابت ہوچکا ہے ان حملوں کے پیچھے سعودی عرب ملوث تھا اور ان حملوں میں امریکہ میں متعین سابق سفیر شہزادہ بندر بن سلطان آل سعود نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل امریکی سکیورٹی اداروں نے اپنی دستاویزات پبلک کے لئے پیش کردی تھیں، تیسری بات یہ ہے کہ 2016ء میں جاستاقانون کی منظوری کے بعد چیخ ایرانیوں کی نہیں بلکہ سعودیوں کی نکلی تھی، اور سعودی عہدیداربارباریہی کہہ رہے تھے اس قانون کو سعودی عرب کو نشانہ بنانے کےلیے تیار کیا گیا ہے جوکہ درست نہیں ۔
رہی القاعدہ کی فنڈنگ کی بات تو سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کئی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ القاعدہ، طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خود امریکہ نے بنائی ہیں اور یہ سب کچھ سعودی عرب کی مدد اور فنڈنگ سے ہوا ہے، کلنٹن کے اس اعتراف کی تصدیق متعدد ممالک کےسکیورٹی اداروں کی القاعدہ کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹس سےبھی ہوتی ہے ، ان رپورٹس میں سے کسی ایک میں بھی ایرن کا القاعدہ سے تعلق کا ذکر نہیں ،سبھی رپورٹس کے مطابق القاعدہ امریکہ اورسعودی عرب کی تیار کردہ تنظیم ہے، ان تمام حقائق کے باوجودایران کے خلاف حملوںکی وجہ سےسزا کا آنامضحکہ خیز ہےاور ایرانیوں کااس معاملے میں موقف سامنے نہ آنا، درست ہے کیونکہ یہ معاملہ اس قابل ہے ہی نہیں کہ ایران اس پر کچھ کہے ،سبھی کواندازہ ہے کہ ایسا کیوںہو رہا ہے، ایسا صرف اور صرف امریکہ میں پھنسے ایرانی سرمائے کو لوٹنے کےلئے کیا جارہاہے اور اسی قسم کےہتھکنڈےامریکہ اُن ممالک کے ساتھ بھی استعمال کرتا ہےجن پر اس نے اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
The post ملوث سعودی عرب اور سزا ایران کو appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2Idht6i
via IFTTT




No comments:
Write komentar