Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 12 May 2018

تیسری عالمی جنگ کے نقارے اور ہم

 

(محمد اسلم خان)

ساری دنیا ٹرمپ پر لعن طعن کر رہی ہے صرف سعودی عرب اور اسرائیل، صدر ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایران سے ایٹمی معاہدے کی تنسیخ پر ریاض اور تل ابیب میں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں ”ٹرمپ کارڈ“ بے نقاب ہو چکا ہے۔ پانچ سال میں سات ممالک پر قبضے کے بعد ایران پر یلغار کا منصوبہ 2002 میں پینٹاگون میں بنایا گیا تھا، اس پر عمل درآمد کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے۔ ایران اور اسرائیل میں براہ راست باضابطہ جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی غلامی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدہ سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا یہ یک طرفہ اعلان تیسری عالمی جنگ کا طبل جنگ بجانے کے مترادف ہے۔

ایران پر حملے سے پوری دنیا اور جنوبی ایشیاءکے خطے میں سنگین صورتحال پیدا ہو جائے گی، جس کے بعد پاکستان کی باری آئے گی۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ ایران، روس، چین، پاکستان اور افغانستان باہمی معاہدہ کریں کہ خطے کے ممالک میں سے کسی پر بھی بیرونی یلغار سب پر حملہ تصورہوگا اور سب مل کر اس کا مقابلہ کرینگے۔پوری دنیا دم بخود دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کے پاس اس معاہدہ سے یک طرفہ طور پر نکل بھاگنے کا کوئی قانونی، عالمی، اخلاقی، سفارتی جواز سرے سے موجود نہیں۔ جوہری پروگرام کی نگرانی کرنےوالے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران نے دنیا سے جو معاہدہ کیا،

اس پر پوری طرح عمل درآمد کر رہا ہے۔ امریکی عالمی ”غنڈہ گردی“ نے ”شرپسند“ صہیونی ریاست کو اتنا بے لگام کردیا ہے کہ شام اور دمشق پر براہ راست حملے شروع ہیں۔ میزائل بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ قرائن سے شک نہیں رہا کہ اسرائیل نے جو آگ سلگائی ہے، امریکہ اور اس کے اتحادی اس میں جلد ہی کود پڑیں گے۔شام میں بھڑکتے آگ کے شعلے اب ایران کے صحن میں الا¶ بھڑکائیں گے۔ ایران میں آیت اللہ خمینی کے سچے پیروکاروں کے خلاف منصوبہ بندیاں جاری ہیں۔ تیاریاں مکمل نظرآرہی ہیں۔ بس اشارے کا انتظار ہے جس کا وقت شاید آگیا ہے۔ ٹرمپ کے انتخاب میں کودنے اور اس کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے,

بعض تجزیہ نگاروں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کو اقتدار میں لانا، دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشینری کا بٹن تھمانا،دراصل ایک بڑے حربی منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ہے۔ سیاہ فام باراک ابامہ کی کوششوں سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ پوری دنیا میں اسے مذاکرات اور امن کے قیام کی طرف بڑی پیش رفت ماناگیاتھا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سمیت پوری دنیا اس پر مسرور تھی لیکن اسرائیل میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ کرپشن کے الزامات سے آلودہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس وقت اسے امریکہ کی بڑی غلطی سے تعبیر کیا تھا۔2015 میں پی فائیو پلس ون کے نام سے تشکیل پانے والے گروپ,

میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل تھے، جنہوں نے ایران کے ساتھ طویل المدتی سمجھوتہ کیا تھا۔ سال ہا سال سے ایرانی جوہری پروگرام پر جاری تنازعہ کی یہ ’ہیپی اینڈنگ‘ سمجھی گئی۔ ایران نے حساس جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کا وعدہ کیا۔ عالمی انسپکٹرز کو معائنہ کی اجازت دے دی جس پر ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئیں۔ جولائی 2015ءمیں کہا جا رہا تھا کہ ایران کے پاس بیس ہزار سینٹری فیوجز ہیں۔ معاہدہ کے تحت پندرہ سال میں یہ تعداد پانچ ہزار ساٹھ سے زائد نہ رہنے کا اقرار ہوا۔ یہ بھی قدیم ترین اور سب سے کم استعداد رکھتے ہیں۔ ایرانی جوہری ذخیرہ میں,

98 فیصد کمی کردی گئی۔سال 2031 تک یورینیئم کی افزودگی کی شرح 3.67فیصد تک طے ہوئی۔ جنوری 2016 تک ایران نے دو جوہری تنصیبات میں سینٹری فیوجز میں بڑے پیمانے پر کمی کردی تھی۔ ٹنوں کم افزودہ یورینئیم روس کے حوالے کردی گئی تھی۔ معاہدہ سے نکلنے کا حکمنامہ ابھی ڈونلڈ ٹرمپ دکھا ہی رہاتھا کہ اسرائیلی فضائیہ شام پر حملوں کا آغاز کرچکی تھی۔ شامی فوج کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ صہیونی حملوں اور بمباری سے دمشق دھماکوں سے گونج اٹھا۔ شام کا دفاع بھی جاری ہے۔ داغے جانے والے میزائلوں کو روکا جارہا ہے۔ شامی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے براہ راست حملوں کی تعداد ,

میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گولہ گارود کے ذخیروں اور راداڑ نظام کو اسرائیلی فوج نشانہ بنا رہی ہے۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد اسرائیلی مقامی حکام کو مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر بنائے گئے بموں سے بچا¶ کے مورچے کھولنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل جنگ تیز کرنے کی تیاری میں ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں چھ روزہ مشہورزمانہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ حربی لحاظ سے اہم اس خطہ کا دو تہائی حصہ یہودیوں کے قبضے میں ہے۔

(جاری)

The post تیسری عالمی جنگ کے نقارے اور ہم appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2rD4gdz
via IFTTT

No comments:
Write komentar