امریکہ میں صدارت کا عہدہ جلیلہ جب سے ڈونلڈٹرمپ کے ہاتھ آیا ہے دوسری قوموں کے بارے میں امریکی رویہ روز بروز جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ سپر پاور ہونے کے زعم میں امریکہ ایسے اقدامات کررہا ہے جس کے خلاف نہ صرف امریکی کانگریس بلکہ مغربی ممالک سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ حالیہ مثال ٹرمپ کی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدگی ہے، جسے نہ صرف سابق امریکی صدر باراک اوباما نے سنگین غلطی قرار دیا ہے بلکہ یورپی ممالک نے بھی ایرانی جوہری معاہدے کو قائم رکھنے کا اعلان کردیا ہے ،
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ وہ معاہدے کے باقی فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ جہاں تک ٹرمپ کی بات ہے افغانستان میں امریکی افواج کی پسپائی اس کے لئے ڈرائونا خواب بنی ہوئی ہے۔ اسی تلملاہٹ میں وہ پاکستان کی مدد کا خواہاں ہے لیکن دھونس جما کر۔ پاکستان کا یہ بیانیہ اس کے لئے قابل قبول نہیں کہ ’’کسی دوسرے کی جنگ پاکستان میں نہیں لائیں گے‘‘۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے کولیشن فنڈ کو نصف کردیا اور بجٹ میں اس کی کٹوتی کر ڈالی ہے حالانکہ یہ رقم امریکہ کی کوئی مہربانی یا احسان نہیں بلکہ اسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا عوضانہ ہے اور اس مد میں پاکستان,
کے کئی ارب ڈالر امریکہ پر واجب الادا ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی منہ زوری دراصلنائن الیون کے بعد مشرف دور میں بڑھتی چلی گئی۔ یہ خبریں بھی اسی دور میں سامنے آئیں کہ امریکیوں کی پاکستان آمد پر ان سے کسی قسم کی پوچھ گچھ، ان کے سامان کی چیکنگ اور ان کے ویزے دیکھنے میں بھی رعایت برتی جاتی ۔ لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد یہ عقدہ وا ہوا کہ پاکستان میں امریکی جاسوس کس طرح سرگرم عمل ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد میں امریکی گاڑیوں سے پاکستانی شہریوں کو نقصان پہنچا۔ جس پر پاکستان کی تشویش بجا تھی لیکن ٹرمپ نے الٹا جارحانہ رویہ اپنایا اور,
امریکہ میں پاکستان کے سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کر دیں حالانکہ اس حوالے سے امریکی قانون سازوں نے بھی ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں رخنہ پڑے اس کے باوجود پاکستانی سفارتکاروں کو 25میل کی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے متوقع حملوں سے بچانے کیلئے امریکی سفارتکاروں پر فاٹا جیسے حساس علاقوںمیں جانے کی تو پہلے سے ممانعت تھی لیکن پاکستانی سفاتکاروں پر یکطرفہ امریکی پابندیوں کے بعد پاکستان کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب دینا اس کی خودمختاری کااحساس دلانے کے لئے ضروری ہوگیا تھا,
اس سے امریکہ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ پاکستان اس کی کالونی نہیں۔ پاکستان نے اس ضمن میں امریکی سفارتخانے کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ امریکی سفارتکاروں کو کہیں بھی جانے سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی، ویانا کنونشن کے آرٹیکل 27برائے سفارتی تعلقات کے تحت امریکی سفارتکاروں کے سامان کی سخت چیکنگ ہوگی، امریکی سفارتخانے کی جانب سے کرائے پر لی گئی گاڑیوں پر سیاہ شیشے لگانے کی اجازت نہ ہوگی، سفارتخانے کی گاڑیوں پر غیر سفارتی نمبر پلیٹ استعمال نہ ہوگی، امریکی سفارتخانہ غیر تصدیق شدہ یا غیر رجسٹرڈ موبائل سم استعمال نہیں کرسکے گا،
امریکی سفارتخانہ بغیر این او سی کرائے پر کوئی جگہ لے سکتا ہے نہ ہی اپنی موجودہ جگہ کسی کو دے سکتا ہے، سفارتخانے اور محفوظ مقامات پر بغیر این او سی ریڈیو مواصلاتی آلات نہیں لگائے جاسکتے، امریکی سفارت کار ایک سے زائد پاسپورٹ نہیں رکھ سکتے اوران کا قیام جاری کردہ ویزے کی مدت کے مطابق ہوگا۔ ان پابندیوں کا اطلاق 11مئی (گزشتہ روز) سے ہوگا۔ امریکی اقدامات کےجواب میں پاکستان کی جواب کارروائی سفارتی آداب کے عین مطابق ہے ۔ ایسی سفارتی پابندیاں دنیا بھر کے کئی ممالک میں ہیں۔ پاکستان کے اقدامات ہماری قومی خودمختاری کا احساس دلانے کے لئے ضروری تھے حکومت پاکستان کے فوری جوابی اقدامات درست اور قومی امنگوں اور خواہشات کا مکمل آئینہ دار ہیں۔
The post امریکی پابندیاں:پاکستان کا مؤثر جواب appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2wwsg6M
via IFTTT


No comments:
Write komentar