Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 9 May 2018

اس میں ہمارا اور آپ کا فائدہ ہے۔۔۔تحریک انصاف کے بڑوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے کیسے آمادہ کیا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک) تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ( جے پی ایس ایم ) کا عام انتخابات سے قبل انضمام امر واقعہ ہے جو ہونا تھا۔ جے پی ایس ایم مسلم لیگ (ن) کے منحرفین پر مشتمل ہے ، تمام تر حالات اور ماحول میں یہ ایک فطری امر تھا جس کا واحد مقصد یہ ہے

کہ تحریک انصاف اور جے پی ایس ایم کے ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں، کیونکہ علیحدہ اور آزادانہ انتخابات لڑنے کی صورت میں انہیں کامیابی کا یقین نہیں تھا، دونوں میں باہمی تعاون متوقع تھا کیونکہ دونوں کی حریف مسلم لیگ (ن) ہی ہے۔ اس بات پر بڑی بحث ہوئی اور باخبر ذرائع کی پیشنگوئی ہے کہ آئندہ حکومت متضاد نظریات کے حامل عناصر پر مشتمل اور مخلوط ہوگی جس کے نتیجے میں متعلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی جس میں آزاد ارکان بھی شامل ہونگے۔ جے پی ایس ایم کا تحریک انصاف میں انضمام جیسا کہ جہانگیر ترین نے بتایا، اس سے تحریک انصاف ہی کو فائدہ ہوگا ۔ تحریک انصاف کو اس خطے سے ہمیشہ امیدواروں کا خسارہ رہا۔ اب اس اتحاد کے بعد تحریک انصاف اپنے امیدواروں کی کامیابی کیلئے بہتر پوزیشن میں ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جس نعرے پر محاذ بنا اس نے کبھی جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کی گزشتہ 5 سال کے دوران کوئی بات نہیں کی، نہ ہی تحریک انصاف نے کبھی اس جانب کوئی اشارہ کیا۔ انتخابی فوائد کیلئے ایسے نعرے اکثر سیاسی جماعتیں اور عناصر لگاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی ایسی کوئی قرار داد اسمبلی میں پیش نہیں کی

جبکہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبہ پیپلز پارٹی کا دیرینہ مطالبہ ہے لیکن جے پی ایس ایم کو ساتھ ملا کر تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پیش رفت سے مسلم لیگ ( ن) کو بے شک دھچکہ لگا ہے ۔ جہانگیر ترین جوخود سرائیکی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف میں جے پی ایس ایم کا انضمام انہوں نے ممکن بنایا ہے ، حالانکہ انہیں بھی نواز شریف کی طرح تاحیات پابندی کا سامنا ہے لیکن آئندہ تمام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کیلئے وہ بڑی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا کہ اگر پیر سے فاٹا کے انضمام کا عمل شروع نہ ہوا تو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دیں گے۔ اسلام آباد میں فاٹا یوتھ کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جب انصاف کا نظام ٹھیک ہوتا ہے تو معاشرے میں جرائم کم ہوتے ہیں اور نائن الیون سے پہلے فاٹا پاکستان کا سب سے پرامن علاقہ تھا لیکن ہم نے امریکا کے کہنے پر وہاں اپنی فوج بھیج دی۔ چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے لوگو ں نے قائداعظم محمد علی جناح کے کہنے پر 1948 میں رضا کارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے پاکستان کے صرف 44 قوانین قبول کیے۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2FYbqNU
via IFTTT

No comments:
Write komentar