لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے پیر کو بیان دیاکہ بیرون ملک بینکوں میں چھپائی گئی پاکستان سےلوٹی ہوئی دولت کوواپس لاناایک چیلنج ہے،لیکن ’’جنگ گروپ اورجیوٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ کی جانب سےکی گئی تحقیق سےظاہر ہوتاہےکہ اُن کیلئےاور پوری قوم کیلئےاچھی خبریہ ہےکہ اگر متاثرہ ممالک مناسب طورسےمقدمات لڑیں توسوئٹزرلینڈجیسےممالک بھی
معروف تجزیہ نگار صابرشاہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔بدعنوان حکمرانوں اورانفرادی شخصیات کی جانب سےلوٹی گئی دولت واپس کرتےہیں۔ کئی سال تک پاکستان کےمقابلےمیں کمزوراورغریب ممالک جن میں فلپائن، پیرو، کینیا، نائیجریا، قازقستان، اینگولا اور میکسیکو وغیرہ شامل ہیں، یہ اپنی لوٹی ہوئی دولت سوئٹزرلینڈجیسے ممالک جوکئی دہائیوں تک ٹیکس بچانےوالوں کیلئےجنت سمجھےجاتےتھے، ان سےواپس لینے میں کامیاب ہوئے ہیں،یہاں بہت سے لوگوں نےخفیہ طورپراربوں چھپائے ۔ غیرقانونی دولت کی واپسی میں کافی وقت لگ سکتاہےاور قانونی کارروائی مہنگی اور تھکادینےوالی ہوسکتی ہے لیکن ورلڈ بینک کےسٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹوجیسے ادار ے بڑےپیمانےپرہوئی کرپشن کےخلاف مختلف ممالک کی مددکرتےہیں، خاص طورپر جب بات سینئرسرکاری اہلکاروں اوران کےمددگاروں کی جانب سےعوامی اثاثےلوٹنےکی ہو۔ ہاں، پاکستان کویہ کام شروع کرنےسےپہلےکم ازکم چندمعاہدےکرنےہوں گے، یہ ایسی چیزہےجو پہلےکبھی نہیں کی گئی۔ سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹونےاپنی ویب سائٹ پرکہاہےکہ اثاثوں کی واپسی ایک بڑاکام ہے جس میں تحقیقات شروع کرنےسےلےکرفیصلےاورچوری شدہ اثاثوں کوضبط کرنےاوران کی واپسی تک میں چھ سال لگ سکتےہیں۔ تاہم ایسےکیسزبھی ہیں جو زیادہ عرصے تک بھی چلے۔ یہ پروگرام کرپشن اور غیرقانونی دولت جو بیرون ممالک میں بدعنوان اہلکاروں نےچھپائی ہو، اس کی لانڈرنگ روکنےکی کاوشوں میں مددکرتاہے۔ ورلڈ بینک سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹوکامانناہےکہ چوری شدہ40ارب ڈالرکابڑاحصہ ترقی پزیرممالک کیلئےبہت اہم ہوگا۔
یہ ممالک بین الااقوامی اثاثوں کی واپسی کیلئے قانونی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ عام طورپراس میں دوقو می اتھارٹیز کےدرمیان قانونی تعاون ہوتاہے۔ یہ مقدمات کی تحقیقات یا باہمی قانونی امداد کی درخواست نہیں دے سکتی، لیکن نیشنل اتھارٹیز کےکام میں تکنیکی مدد اور مشورہ کی فراہمی، ٹریننگ اور عالمی تعاون میں سہولت کار بن کران کی مددکرسکتاہے۔ یہ اثاثوں کی واپسی میں مصروف ممالک کی کپیسٹی بلڈنگ اورعملی تعاون کےذریعےاور بین الااقوامی تعاون میں سہولت کاربن کرمددکرتاہے۔ ورلڈبینک کاادارہ اثاثوں کی کامیاب واپسی، منی لانڈرنگ مخالف، شفافیت اوربینکینگ میں رازداری ختم کرنے، عوامی خدمات میں ایمانداری(مالی اثاثےظاہرکرنا)اور معاشی شعبےمیں احتیاطی تدابیرکیلئےصیحیح پالیسیاں اورادارےبنانے میں بھی مدد کرتاہے۔ یہاں کچھ ایسی مثالیں پیش کی جارہی ہے جہاں سویٹزرلینڈ نے غریب ممالک کی لوٹی ہوئی دولت واپس کی۔ گزشتہ 21سالوں میں فلپائن نے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم واپس حاصل کی ہے، زیادہ تر سویٹزرلینڈ سے حاصل کی گئی جوفرڈیننڈ مارکوس نےچوری کی تھی۔ یہ رقم لیچٹنسٹین اور پانامہ میں واقع مارکوس کےماتحت چلنے والی چارفاونڈیشنزکی جانب سےاہم سوئس بینکوں کی شاخوں میں جمع کرائی گئی، ان میں کریڈٹ سوسی اور سویس بینکینگ کارپوریشن شامل ہیں۔ 2007تک پیرو نےاپنی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ولا ڈیمر ومونٹیسنوس کی جانب سے چوری کیےگئےتقریباً17کروڑ40لاکھ امریکی ڈالر
واپس لیے، یہ رقم سویٹزرلینڈ، کیمن جزائراور امریکاسےواپس لی گئی۔ 2001میں سویٹزرلینڈ نے قازقستان کوبھی رقم کی واپسی شروع کی اور 11کروڑ50لاکھ ڈالر واپس کیے۔ 2008میں سوئٹزرلینڈنےمیکسیکوکوسابق صدرکارلوس سالیناس کےبھائی رائول سالیناس کی جانب سےلوٹےگئے8کروڑ40لاکھ ڈالرواپس کردیئے۔2012میں سوئٹزرلینڈ نےاینگولا کو 4کروڑ30لاکھ ڈالر واپس کرنےکااعلان کیاتھا۔ جون 2018میں سوئس حکومت نےنائیجریاکےلوٹے گئے120کروڑ ڈالر واپس کردیئے۔ نائیجریامیں سوئٹزرلینڈکےسابق سفیر ایرک میروراز نےکہاکہ یورپی ملک نے2005میں نائیجریاکوسابق فوجی حکمران سانی اباچاکی جانب سےلوٹی گئی رقم کےپہلے72کروڑ20لاکھ ڈالر اداکیےاور پھر 32کروڑ25لاکھ ڈالر اداکیے۔ اپریل 2018میں سوئٹزرلینڈنےکہاکہ اس نے سربراہِ ریاست جنرل سانی اباچا کی جانب سے لوٹی گئی تمام رقم 15لاکھ ڈالرسودسمیت واپس کردی ہے۔ نائیجریا کی خبرایجنسی کے مطابق نیویارک میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرجنرل اور گلوبل کارپوریشن ڈیپارٹمنٹ سوئس ایجنسی فار ڈیویلپمنٹ اینڈ کارپوریشن کےسربراہ پیووینبسٹ نے32کروڑ25لاکھ ڈالر نائیجریا کو واپس کردیئےہیں، ان کے مطابق اصلی رقم 32کروڑ1لاکھ ڈالر تھی۔ اسی دوران نائیجریا نےسوئس حکومت کی جانب سے 32کروڑ25لاکھ 10ہزار ڈالر کےوصول ہونےکااعلان کیا، یہ رقم سابق صدرنےلوٹی تھی۔ سی این این کی 6دسمبر2017کی رپورٹ کےمطابق یہ اثاثےسانائی اباچاکےبیٹےابااباچا کےخلاف فوجداری کارروائی کےنتیجےمیں ضبط کیےگئےتھے، انھوں نے نائیجریا پر 1998میں اپنی موت تک 5سال تک حکومت کی۔ نائیجریا امریکا میں منجمدشدہ 48کروڑڈالرکےخلاف بھی قانونی کارروائی کررہاہےلیکن اسے حاصل کرنے کیلئےلمبی قانونی کارروائی کاسامناہے۔ ’’نیوزویک‘‘کےمطابق 2014میں
نائیجریا اور اباچاخاندان کےدرمیان سوئٹزرلینڈ کی جانب سے منجمد کیےگئےفنڈزکی واپسی کیلئےایک معاہدہ طے پایا، بدلے میں فوجی حکمران کے بیٹے ابااباچاکے خلاف شکایت واپس لینی تھی۔ 2006اور2007میں برطانوی اور جنوب افریقی انتظامیہ نےنائیجریا کےایک کروڑ77لاکھ ڈالر کی واپسی میں مدد کی، یہ رقم تیل کی دولت سے مالامال ریاست کے ایک گورنرنے لوٹی تھی۔ ’’وائس آف امریکا‘‘کےمطابق جولائی 2018میں کینیاکےصدراوہوروکنیاتا اور ان کے سوئس ہم منصب ایلین برسٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کےتحت سوئس بینکوں میں چھپائےگئےغیرقانونی اثاثےکی واپسی میں کینیاکی مدد کی جانی تھی۔ کینیاکےصدرنےبرطانیہ اور جرسی کےساتھ بھی معاہدے کیےتاکہ اس بات کویقینی بنایاجاسکےکہ ان علاقوں میں چھپائےگئےکینیاکےاربوں شیلنگز کوواپس لایاجاسکے۔ زیادہ تر افریقی ممالک میں طاقت ور حکمرانوں کی جانب سے لوٹی گئی رقوم غیرملکی آف شوراکائونٹس میں پائی گئی۔ یواین اکانومک کمیشن آن افریقہ کےمطابق سرمائےاورغیرقانونی رقم کی منتقلی سے اس براعظم کو سالانہ 150ارب ڈالر کانقصان ہوتاہے۔ تاہم ایک ایسی بات جو اس کے مخالف ہے وہ سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس قانون میں ترمیم سے انکار ہے جس کے تحت مارچ 2018میں اس کے بینکوں کی جانب سے ضبط کیاگیابینک کےمنافع کوواپس کیاجاتاہے۔ مختلف این جی اوز نےسوئس انتظامیہ پرزوردیاہے کہ ملائشین لوگوں کی 11کروڑڈالر تک کی وہ رقم واپس کی جائےجس کاتعلق ملائشیاکی ریاستی سرمایہ کاری کےکرپشن سکینڈل سے ہے۔ یہ خودمختار فنڈ کم از کم چھ ممالک میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں توجہ کامرکز بناہواہے، اس میں سوئٹرزلینڈ اور امریکا بھی شامل ہیں۔ سابق ملائشین وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کے ساتھیوں پرالزام ہے کہ انھوں نے اس فنڈمیں سے ہزاروں لاکھوں سوئس فرینکس ہتھیالیےہیں، یہ فنڈانھوں نےہی 2009 میں بنایاتھا۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2NuyMz6
via IFTTT

No comments:
Write komentar