اسلام آباد (ویب ڈیسک )سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی مخنث افراد (حقوق کا تحفظ)بل 2018ء کی منظوری دے دی جس کے تحت انہیں شناختی کارڈ’ پاسپورٹ سمیت ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔ تحریک انصاف اورپیپلز پارٹی کی مخالفت کے باوجود ایوان نے سی ڈی اے آرڈیننس میں مزیدتوسیع کی منظوری دیدی۔
ایوان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں مزید تر میم کا بل، اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017ء ،فوجداری قانون (ترمیمی)بل 2017کی دفعہ 173 میں ترمیم کا بل ،پاکستان بیت المال (ترمیمی) بل 2017ء اور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی بل 2018ء سمیت کئی بلز منظور کر لیے ۔ سید نوید قمر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں مزید تر میم کرنے کا بل 1997 پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ قومی اسمبلی نے تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا بل 2017ء اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے مختلف ترامیم پیش کیں جن کی مخالفت نہیں کی گئی’ ان کو منظور کرلیا گیا۔ اس کے بعد شق وار بل کی منظوری لی گئی۔ ماروی میمن نے کہا کہ اس بل کے قانون بننے سے تیزاب پھینکنے اور جلائے جانے کے واقعات میں کمی ہوگی۔ نوید قمر نے پاکستان بیت المال (ترمیمی) بل 2017ء منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان فوجداری قانون (ترمیمی)بل 2017 کی دفعہ 173 میں ترمیم کا بل بھی منظور کرلیاگیا۔ نوید قمر نے انسداد بے رحمی حیوانات (ترمیمی) بل سینیٹ کی منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد سپیکر نے اس کی ایوان سے شق وار منظوری لی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ اس بل میں جو جرمانے تجویز کئے گئے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں، کہیں ان جرمانوں کا اطلاق گدھے اور ریڑھے بانوں پر نہ ہونا شروع ہوجائے ۔ نیشنل سوک ایجوکیشن کمیشن بل 2018 بھی منظور کر لیا گیا۔ (ع،ع)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2I4oN57
via IFTTT

No comments:
Write komentar