Technology

Ads

Most Popular

Friday, 11 May 2018

پرویز مشرف کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ نااہل ہونے کے باوجود وہ انتخابات کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کیوں کررہے ہیں ؟ کیا کوئی معجزہ ہونے والا ہے ؟ تازہ ترین سیاسی تبصرہ ملاحظہ کیجیے

 

لاہور(ویب ڈیسک)سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں نوازشریف کا کوئی مستقبل نہیں کیونکہ وہ تاحیات نااہل ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے یہ سچی بات ایک ٹی وی انٹرویو میں کہی، لیکن سوال یہ ہے کہ ملکی سیاست میں خود جنرل صاحب کا کیا مستقبل ہے۔

نامور تجزیہ نگار قدرت اللہ چودھری اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں الیکشن لڑنے کے لئے تاحیات نااہل قرار پا چکے ہیں، اب یہ بات نہ جانے اُن کے ذہن سے کیسے اتر گئی؟ لیکن وہ اپنی سیاست کا مستقبل کس طرح دیکھتے ہیں، اُنہوں نے اِس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔ ملکی سیاست خصوصاً انتخابی سیاست میں ان کا بھی تو کوئی مستقبل نہیں، اگرچہ یہ بات تو پہلے بھی واضح تھی اور اب بھی ہے، لیکن غالباً انہیں اُمید تھی کہ کوئی نہ کوئی اُن کے لئے راستہ نکالے گا۔ اِس لئے انہوں نے کوئی ایک سال پہلے بعض سیاست دانوں کو دبئی بلا کر اُن سے مشاورت شروع کر رکھی تھی۔ مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد بھی اُنہوں نے بنایا تھا لیکن بہت سی جماعتیں ایک ایک کرکے اِس اتحاد سے کنارہ کش ہوتی چلی گئیں۔ خود اُن کا یہ عالم یہ ہے کہ اُن پر بھی الیکشن لڑنے کی تاحیات پابندی ہے، یہ پابندی کوئی آج نہیں لگی، 2013ء میں اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے یہ پابندی لگائی گئی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیسا اُنہیں علم تھا کہ وہ تو تاحیات الیکشن لڑنے کے لئے نااہل ہیں تو پھر وہ سیاسی اتحاد کیوں بنا رہے تھے۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ اُن کا یہ خیال تھا کہ کوئی مردے از غائب آئے گا اور انہیں خوشخبری سنائے گا لیکن اُن کی آنکھیں ایسے کسی مردِ دانا کا انتظار کرتے کرتے پتھرا گئیں، اسے آنا تھا نہ آیا، جب وہ بیرون ملک گئے تھے، اس وقت وہ کراچی میں بیٹھ کر مسلم لیگوں کو اکٹھا کرنے میں کوشاں تھے لیکن اُن کی یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی

کیونکہ جو حضرات اِن مسلم لیگوں کی صدارت پر فائز تھے وہ یہ عہدے نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ چودھری شجاعت کی پاکستان مسلم لیگ کی تشکیل میں تو اُن کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اس جماعت نے بھی زیادہ مروت نہ دکھائی۔ شیخ رشید احمد کی ایک نفری عوامی مسلم لیگ بھی اُن کی مدد کو نہ پہنچی۔

مسلم لیگوں کے اتحاد میں ناکامی کے بعد اُنہوں نے کوشش کی کہ اگر یہ جماعتیں متحد نہیں ہوتیں تو ایک اتحاد ہی بنا لیں، لیکن ایسا بھی نہ ہو سکا، یہ حالات تھے جب جنرل صاحب بیرون ملک پدھارے، اِس دوران ملکی حالات ڈرامائی موڑ مڑتے رہے۔ نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد اُن کے لئے امید کی کرن پھر پیدا ہوئی لیکن لاہور میں یوم اقبال کی تقریب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خطاب کے بعد اُن کے دل میں جاگنے والی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔

وہ خود تو عمر بھر کے لئے نااہل ہیں لیکن اُن کے نائبین میں سے کوئی ایسا نہیں جو ’’الیکٹ ایبل‘‘ ہو، اُن کی جماعت ویسے تو ’’آل پاکستان‘‘ ہے لیکن پورے پاکستان میں اس کا کہیں وجود نہیں، کوئی تنظیم نہیں، مرکزی صدر تو ہیں لیکن کوئی دوسرا عہدیدار بھی ہے یا نہیں، کوئی نہیں جانتا، اُن کی ساری امیدیں اس ایک امکان سے جڑی ہوئی تھیں کہ کوئی لمبی مدت کی ٹیکنوکریٹ حکومت بن جائے، جو جتنے عرصے کے لئے ملک کی خدمت کر سکتی ہے کرے، انتخابات وغیرہ کے تصور سے اُنہیں وحشت ہوتی ہے۔ اُنہوں نے اخباری بیانات اور انٹرویوز کے ذریعے چیف جسٹس سے کئی بار اپیل کی کہ وہ ملک کے مفاد میں لمبی مدت کی ٹیکنوکریٹ حکومت کی اجازت دے دیں۔ اُن کے بعض حامی کہتے بھی رہے کہ وہ ایسی حکومت دیکھ رہے ہیں لیکن ایسا ہو نہیں سکا، کیونکہ اگر واقعی ایسی حکومت نظر آ رہی ہوتی تو پھر وہ دبئی میں نہیں، پاکستان میں ہوتے۔ انہوں نے عمران خان کو مفت مشورے دینے شروع کر دیئے ہیں اور اُن سے کہا ہے کہ وہ جھوٹوں اور فراڈیوں کو اپنی پارٹی میں نہ لیں لیکن لگتا ہے عمران خان کو یا تو یہ مشورہ قبول نہیں یا پھر اُن کے پاس ایسی کوئی مشین نہیں

جس سے پتہ چل سکے کہ کون جھوٹا ہے اور کون فراڈیا۔ عمران خان نے تو مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والوں کے لئے اپنی جماعت کے دروازے چوپٹ کھولے ہوئے ہیں کیونکہ اُن کا یہ خیال ہے کہ آدمی جو کچھ بھی ہو، جونہی وہ مسلم لیگ (ن) چھوڑتا ہے پوتر ہو جاتا ہے اور ایسے ہو جاتا ہے جیسے گنگا نہا کر آیا ہو۔ گزشتہ ہفتہ تحریک انصاف میں جانے والوں کا کھڑکی توڑ ہفتہ تھا۔ غالباً یہ سوچا گیا ہے کہ تحریک انصاف میں آ کر یہ سارے لوگ دوبارہ منتخب بھی ہو جائیں گے لیکن الیکشن کی سیاسی حرکیات اتنی سادہ نہیں ہوتیں، جیسے آج نوازشریف نے کہا کہ جو تحریک انصاف میں جا رہے یا بھجوائے جا رہے ہیں وہ اکیلے ہیں، ووٹر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے، ووٹر کا پتہ تو الیکشن پر چلے گا، جسے ملتوی کرانے کی کوششیں تاحال ختم نہیں ہو سکیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے، ہر الیکشن سے پہلے ایسے درخواست گزار ضرور پیدا ہو جاتے ہیں جو مختلف وجوہ کی بنا پر عدالتوں سے درخواست گزار ہوتے ہیں کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں۔ اِس لئے اِس بار بھی ایسی درخواست دائر کی گئی ہے، مزید بھی ہوں گی،۔فیصلہ تو بہرحال عدالتوں نے کرنا ہے، لیکن عوامی رائے معلوم کرنے کے لئے جہاں کہیں بھی کوئی سروے ہوتا ہے اس سے تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والوں کی انتخاب میں کامیابی یقینی ہے۔ بعض تو ضرور کامیاب ہو جائیں گے لیکن ہر کسی کی کامیابی کا تو کوئی سائنسی فارمولا نہیں۔ اس لئے متبادل پلان بھی تیار ہیں۔(ش۔ز۔خ)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2jSZ1Cl
via IFTTT

No comments:
Write komentar