(تسنیم خیالی)
امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے حال ہی میں مشرقی وسطیٰ کے 3ممالک کا دورہ کیا تھا جوکہ وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا، پمپیو نے پہلے سعودی عرب پھراسرائیل اور آخر میںاردن کا دورہ کیا ، اردن میں پمپیو نے مسلمانوں بالخصوص عربوں کے منہ پر تھپڑ نہیں بلکہ زور دار مُکے رسید کیے کیوں کہ وہ اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ عرب ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے ان کی غیرت ختم ہوچکی ہے، پمپیو نے اردنی ہم نصب ایمن الصفدی کے ساتھ ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہہ ڈالا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اقدام درست اور انتہائی موزوں ہے، پمپیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ فلسطین تنازعہ حل کرنے پر یقین رکھتا ہے اور دوریاستوں کے قیام پر اتفاق کرتا ہے، اس کے بعد پمپیو نے مزید زہر اگلتے ہوئے اور بے حس ہوکر کہا کہ اسرائیلیوں کوپورا حق حاصل ہے کہ وہ فلسطینیوں کے آگے اپنے ملک کا دفاع کریں اور امریکہ اس معاملے میں اسرائیل کی حمایت کرتا ہے، پمپیو نے ایسا ایک ایسے وقت میں کہا ہے کہ جب غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی مشترکہ سرحد پر ایک ماہ سے کشیدگی کے ساتھ ساتھ جھڑپیں ہورہی ہیں جن میں اب تک بیسیوں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
پمپیو نے یہ سب کچھ اردن میں کھڑے ہوکر اردنی وزیر خارجہ کے سامنے کہا جس کی جرأت ہی نہیں ہوئی کہ وہ پمپیو کو اس کی باتوں پر جواب دے سکے، اردنی کو تویہ بھی کہنے کی جرأت نہیں تھی کہ ’’اردن بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کی بھی مخالفت کرتاہے۔‘‘
الٹا اردنی عہدیدار نے امریکہ کی فلسطین میں قیام امن کی کوششوں کو سراہا اور ان کوششوں کو ضروری قرار دیا، اردنی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان قیام امن کےلیے اردن اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح مل کر تعاون کررہے ہیں ، مائیک پمپیو کی جرأت اور جسارت کی وجہ کوئی اور نہیں خود ایمن الصفدی اور بیشتر عرب ممالک کے سیاستدانوں اور سرکاری عہدیدارہیں جواب فلسطینیوں کے مسائل اور قربانیوں کو نظرانداز کرچکے ہیں، پمپیو نے فلسطین، بیت المقدس اور فلسطین شہداء کے بارے میں جوکچھ کہا وہ غیراخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کا مظاہرہ ہے، البتہ تکلیف اس بات کی ہے کہ اس نے یہ سب کچھ اردن میں کھڑے میں ہوکر کہاہے اور اردن خاموش تماشائی بنا ہوا تھا ، یہی حال اگر سب نہیں تو بیشتر عرب حکمران کا ہے جن میں سعودی عرب، اماراتی اور مصری حکام شامل ہیں۔ایسی صورت حال میں پمپیو یہ سب کچھ کیسے نا کہتے؟۔
The post اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور فلسطینیوں کو؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2FvSO7x
via IFTTT


No comments:
Write komentar