کولکتہ (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک خاتون سیاست دان کو پاکستان کے عوام کی تعریف کرنے پر بغاوت کے مقدمے کا سامنا ہے ۔اداکاری کی دنیا سے سیاست کے میدان میں آنے والی کانگریس کی رکن پارلیمنٹ دیویا سپندنا نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
رامیا کے نام سے معروف دیویا سپندنا نے پاکستان کو اچھا ملک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی عوام گرم جوش ہیں اور بیرون ملک سے آنے والوں کو عزت و احترام دیتے ہیں۔اس بیان پر ایک مقامی وکیل نے دیویا سپندنا کے خلاف انڈین پینل کوڈ میں برطانوی دور کی دقیانوسی شق کے تحت بغاوت کا مقدمہ دائر کرتےہوئے سماعت ملتوی کر دی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق انڈیا کی آزادی کے بعد 71 سالوں میں سے 49 سال ملک پر حکمرانی کرنے والی ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس نے اپنی 133 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ عوام سے چندے کی اپیل کی ہے۔1885 میں برطانوی سامراج کی مخالفت کرنے کے لیے انڈین دانشوروں کی کاوشوں سے قائم کی گئی جماعت ایک تحریک بن گئی جس کو عوام الناس میں بے انتہا مقبولیت حاصل تھی اور ان کو پیسوں کی کبھی کمی محسوس نہ ہوئی۔لیکن جمعرات کو کانگریس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عوام کو کہا گحا کہ وہ چندے کے لیے ‘کچھ ںقم’ دیں اور اس ٹویٹ کے بعد ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔کئی لوگوں نے اس کو ری ٹویٹ کیا لیکن دیگر کئی لوگوں نے اس پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ ان کو اس بات پر یقین نہیں آیا کہ انڈیا کی ‘گرینڈ اولڈ پارٹی’ یعنی سب سے پرانی سیاسی جماعت کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جماعت کی جانب سے اس بات کی کوشش ہے کہ وہ اپنی شفافیت ثابت کرنے کے لیے دکھائیں کہ وہ صرف اپنے حامیوں کی جانب سے دی گئی رقم سے چلتی ہے یا ان کو حقیقتاً پیسوں کی کمی کا سامنا ہے۔(ف،م)

from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2PsiVSq
via IFTTT

No comments:
Write komentar