کراچی (ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے 56 کمپنیاں کے سربرا ہاں کو اضافی تنخواہیں واپس کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ انوجں نے پنجاب حکومت کے زیر انتظام چلنے والی 17کمپنیوں کے ریکارڈ 3دن میں نیب کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، عدالت عظمیٰ نے حکم
دیا کہ ریلوے کا آڈٹ کرایا جائے، چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کوضائع نہیں کر دینگے، سرکاری افسروں کی تضحیک ہوئی تو ڈی جی نیب نہیں بچیں گے۔ انہوں نے نے مینٹل ہاسپٹل کو پاگل خانہ کہنے پر پابندی لگا دی، سپریم کورٹ نے پنجاب میںنئے شادی ہالز کیلئے قانون سازی کرنے،توقیر شاہ کو ملک سے باہر جانے اور حکومت کو کنٹریکٹ میں توسیع سے روکدیا، عدالت نے کول اتھارٹی میں بے ضابطگیوں کا ریکارڈ مکمل طلب بھی طلب کرلیا، جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں لوٹ مچی ہوئی ہے، تھر میں بھوک سے بچے مررہے ہیں، 15 ارب روپےکہا کس کے اکائونٹ میں گئے، عدالت عظمیٰ نے کراچی میں شیریں جناح کالونی سے آئل ٹینکرز کی 15 روز میں شہر سے منتقلی کا حکم اور فٹ پاتھ اسکول کی منتقلی کیلئے3 ماہ کی مہلت دیدی۔ سپریم کورٹ نے ماں سے بچے چھین کر بیرون ملک لیجانے کا نوٹس لے لیا۔ یہ احکامات اور ریمارکس سپریم کورٹ نے لاہور اور کراچی رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران دیئے۔ لاہور رجسٹری چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پنجاب حکومت کی پبلک سیکٹر میں قائم کمپنیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات
پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔ ڈی جی نیب لاہور سیلم شہزاد بنچ کے روبرو پیش ہوئے اور آگاہ کیا پنجاب حکومت کمپنیوں کے ریکارڈ کی فراہمی میں تعاون نہیں کر رہی اور ابھی 56 میں سے 17 کمپنیوں کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ فکر نہ کریں تمام ریکارڈ نیب کو ملے گا۔ چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود صاف پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملی۔ چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کوضائع نہیں کر دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کمپنیز بنا کر اپنوں کو نوازا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مخاطب کیا اور کہا کہ کاش آپ بھی کسی کمپنی کے سربراہ ہوتے آپکو بھی لاکھوں روپے تنخواہ ملتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت کی پبلک سیکٹر میں قائم کمپنیوں کے سربراہ سول سرونٹ رولز کے تحت تنخواہ وصول کرینگے۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کو یہ حکم دیا کہ 17 کمپنیوں کا ریکارڈ تین دنوں میں نیب کو فراہم کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کی جائے۔
ریلوے میں اربوں روپے کےخسارے کے بارے ازخود نوٹس پر سماعت کے دوران وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو اس وقت کھری کھری سنا دی جب انھوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لفظ قابل احترام کو جملے سے نکال دیں احترام صرف عدالت کے اندر ہی نہیں باہر بھی ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خسارے پر ریلوے کا آڈٹ کرانے اور اس کی رپورٹ چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے شیریں جناح کالونی سے 15 روز میں تمام آئل ٹینکرز ذوالفقار آباد منتقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےتنبیہ کی ہے کہ اگر15 روز میں منتقلی نہ ہوئی تو مالکان کے آئل ٹینکرز پولیس اور رینجرز کے ذریعے شہر سے نکالیں گے۔بنچ کے سربراہ نے ریمارکس میں کہاہےکہ حکومت پاکستان سے کہہ دیتےہیں کہ آئل ٹینکرز کیلئے چائنہ سے بات کرے،اگر کام نہیں کرنا چاہتے تو کمپنیاں آئل دینا بند کردیں۔ شیریں جناح کالونی میں آئل ٹینکرز کھڑے کرنے کیخلاف کیس میں دوران سماعت کے ایم سے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ذوالفقار آباد آئل
ٹرمینل مکمل بن چکالیکن آئل ٹینکرز مالکان ذوالفقار آباد جانے کو تیار نہیں۔ آئل ٹینکرز مالکان ہڑتال کردیتے ہیں۔جس پر جسٹس گلزار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے انہیں پولیس کے ذریعے اٹھا کر شہر سے باہر پھینکیں،کیا حکومت کے پاس طاقت نہیں ہے یا کمزور ہوگئی ہے۔ جسٹس گلزارنے ریمارکس میں کہاکہ اگر یہ کام نہیں کرنا چاہتے تو آئل کمپنیاں انہیں آئل دینا بند کریں۔ اب ہمارے پاس چائنہ کا آپشن موجود ہے۔ حکومت پاکستان کو کہتے ہیں کہ آئل ٹینکرز کیلئے چائنہ سے بات کرے۔ شہر میں ایک آئل ٹینکرز داخل نہیں ہونے دینگے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے حکومت کو چائنہ سے آئل ٹینکرز کے ٹھیکے کی ہدایت کر دیتے ہیں۔ یہ کام نہیں کرتے نہ کریں چائنہ کا آپشن موجود ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے اب ہر چیز چائنہ کو دو یہی آپشن ہے۔ ایسو سی ایشن کے رہنما یوسف شاہوانی نے موقف اپنایا ہم وہاں جانے کیلئے تیار ہیں۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کول اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے سندھ کول اتھارٹی میں کرپشن کی انکوائری رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے،عدالت نے
سندھ کول اتھارٹی میں بے ضابطگیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرکے صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ پروجیکٹ کی تصاویر بھی پیش کی جائیں۔ جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان سے کہا کہ سندھ میں کیا ہو رہا ہے، کتنے ظالم لوگ ہیں آپ، ایک ایک پائی کھا جاتے ہیں، کیا اپنے علاقے سے محبت نہیں، سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار لگا ہوا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پتہ ہے پورے ملک میں سندھ کے بارے میں کیا تاثر ہے، کیا ہم بتائیں کہ آپ کے بارے میں اسلام آباد میں بیٹھ کر کیا کچھ سننے کو ملتا ہے، تھر میں بھوک سے بچے مررہے ہیں، کھانے کو کچھ نہیں، تعلیم ہے نہ کھانے کو کچھ ہے۔ 10 پندرہ ارب کہاں گئے، کس کے اکائونٹ میں گئے، کچھ پتہ نہیں، اتنا پیسہ سندھ کے عوام پر لگ جاتا تو صوبے کی حالت بدل جاتی، بتایا جائے یہ پیسہ کس کے اکائونٹ میں گیا، کیا سمجھتے ہیں ہمیں کچھ علم نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ باقی صوبوں میں 50 فیصد لگ بھی جاتا ہوگا مگر یہاں سب لوٹ لیا جاتا ہے، کیا معاملہ نیب کو بھیج دیں، آپ خود اپنے صوبے کے لیے کیا کر رہے ہیں، تھر کا سینہ چیر کر کوئلہ نکال کر انہیں مزید تباہ کررہے ہیں۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Fqe8LO
via IFTTT

No comments:
Write komentar