کراچی(ویب ڈسک) سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق تمام میڈیکل کالجز کی معائنہ رپورٹس 15 روز میں طلب کرلی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے نمائندوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہےکہ پیسے لیتے ہیں اور ٹھپہ لگا کر
میڈیکل کالجز کے الحاق کی اجازت دے دی جاتی ہے، انسانی جانوں سے کھیلا جارہا ہے، صرف پیسہ پیسہ پیسہ ہی آپ کو چاہیے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کیا کررہی ہے، ایک اچھے ادارے کو تباہ کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں میڈیکل کالجز میں داخلوں سے متعلق سماعت ہوئی۔ سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو نے 2 میڈیکل کالجز کی رپورٹ پیش کرتےہوئے عدالت عظمیٰ کو بتایاکہ سرسید اور جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا معائنہ کرلیا۔ عدالت نے استفسار کیا ضیا الدین اور آغا خان اسپتال کا معائنہ کیوں نہیں کیا؟ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کیا کررہی ہے، ایک اچھے ادارے کو تباہ کردیا گیا، یہ کام پی ایم ڈی سی کا تھا اور ہم سن رہے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے پیسے لیتے ہیں اور ٹھپہ لگا کر میڈیکل کالجز کے الحاق کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ صرف پیسہ پیسہ پیسہ ہی آپ کو چائیے۔ آپ لوگ پیسہ کے عیوض کالج کی اپروول دے دیتے ہیں۔ آپ لوگ کیا کرینگے اتنا پیسہ لیکر۔ عدالت نے ریمارکس دیئے جس طرح آپ لوگوں نے کالج بنانے کی اجازت دی ہے اس میں سے ویسے ہی ڈاکٹر نکلیں گے۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے آپ انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ پتہ ہے دنیا میں یہ باقاعدہ کرائم سمجھا جاتا ہے۔عدالت نے پی ایم ڈی سی انچارج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے کہ کتنی جانیں آپ کے گلے پڑ سکتی ہیں۔ عدالت نے تمام میڈیکل کالجز کی معائنہ رپورٹس طلب کرتے ہوئے سماعت 15 دن کیلئے ملتوی کردی۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2jgQokF
via IFTTT

No comments:
Write komentar