اسلام آباد (ویب ڈیسک) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن کی کم از کم حد کو 10 ہزار روپے کر دیا گیا، فملی پنشن کو 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 روپے کر دیا گیا ہے ، 75 سال سے زائد ے پنشنر کو کم از کم پنشن 15000 ہزار روپے کر دی گئی
جبکہ تمام پنشنر کیلئے پنشن یکساں شرح سے 10 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی یوتھ سکیم جاری ہے اس مقصد کیلیے 10 ارب روہے مخص کئے گئے ہیں۔دوسری جان ب ایک خبر کے مطابق تاجروں و صنعتکاروں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کوعوام اور کاروباردوست قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مختلف مدوں میں ٹیکسوں میں کمی خوش آئند مگر سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی مایوس کن ہے ۔ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلو،سینئر نائب صدر سید مظہر علی ناصر،نائب صدر وحید احمد و دیگر اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مفسر عطاء ملک ،بی ایم جی گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی ،سابق صدور انجم نثار ،زبیر موتی والا ،ہارون اگر،شمیم فرپو اور دیگر نے پیش کئے جانیوالے وفاقی بجٹ کوعوامی اور کاروبار دوست قراردیامگر ان کا یہ بھی کہناتھاکہ برآمد کنندگان کو اس بجٹ میں نظر انداز کیا گیا‘ان کا کہناتھا کہ بجٹ میں مثبت اقدامات تجویزکئے گئے جنہیں آنے والی حکومت کو جاری رکھناچاہئے ‘کراچی میں ڈی سیلینیشن منصوبہ اہم ہے‘شہریوں کو واٹرمافیا سے چھٹکا را ملے گا‘ٹیکس استثنیٰ اور سبسڈی کے بہترنتائج برآمد ہوں گے‘ سوشل سیکٹر اور صحت وتعلیم
کے شعبوں میں بہت اچھے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ کوعوامی بجٹ تو کہا سکتا ہے لیکن برآمد کنندگان کو نظر انداز کرنا کسی صورت ٹھیک نہیں ،فیڈریشن کی جانب سے دی گئی بیشتر تجاویز بجٹ میں شامل کی گئی ہیں لیکن کئی تجاویزکو اہمیت نہیں دی گئی جس پر فنانس بل کا بغور جائزہ لینے کے بعد تفصیلی موقف پیش کریں گے ، غضنفر بلور کا کہنا تھا کہ بجٹ میں بہت سارے ایسے اقدامات تجویز کئے گئے جن کو آنے والی حکومت کو جاری رکھنا چاہیے،کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کئے ڈی سیلینیشن منصوبہ انتہائی اہم اعلان ہے جس سے کراچی کے عوام کو واٹر مافیا سے چھٹکارا مل جائے گا، انہوں نے کہا کہ فیڈریشن نے ایف بی آر کی جانب سے سالانہ آڈٹ سے روکنے کی تجویز دی تھی جس کو روکا تو نہیں گیا لیکن آڈٹ کی مدت تین سال کی گئی ہے جو کسی حد تک بہتر فیصلہ ہے ،ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر سید مظہر علی ناصر نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت نے سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈ ز کے مسئلے کو یکسر نظر انداز کردیا ہے
اور بجٹ خسارے کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ حکومت ریفنڈز کی ادائیگی کے موڈ میں بھی نہیں ہے، زرعی شعبے کے لئے ٹیکس استثنیٰ اور سبسڈی سمیت کئی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ،ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی فواد اعجاز خان نے کہا کہ بجٹ برآمد کنندگان کے لئے ڈیتھ وارنٹ ہے ،کاسمیٹکس انڈسٹری کو بہتر مراعات دی گئی ہیں ،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور زاہد سعید ،طارق حلیم اور دیگر رہنماوں نے بھی بجٹ پر ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر سیاسی رنگ نمایاں ہے ،سوشل سیکٹر اور عوام کے لئے صحت وتعلیم کے شعبوں میں بہت اچھے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت ان اقدامات کو کاالعدم قرار دیدے گی ۔وزیراعظم کے سابق مشیر اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے بجٹ تقریر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ بجٹ میں اونچے ہدف رکھے گئے ہیں جو آنے والی حکومت کیلئے سنگین چیلنجز ثابت ہوں گے۔ ڈاکٹر بیگ نے آنے والے وقت میں ایکسپورٹ گروتھ پر زور دیا اور کہا کہ ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے ہی ہم زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 4 ہزار ارب روپے کے مجموعی ریونیو کی وصولی میں سے 1550 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی جبکہ 1100 ارب روپے دفاعی اخراجات پر خرچ ہوجاتے ہیں جس کے باعث تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں کیلئے فنڈز نہیں بچتے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مفسر عطاء ملک ،بی ایم جی گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی ،سابق صدور انجم نثار ،زبیر موتی والا ،ہارون اگر،شمیم فرپو اور دیگر نے پیش کئے جانیوالے وفاقی بجٹ کو الیکشن بجٹ قرار دیا ہے ،تاہم تاجر برادری نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ پر جولائی میں عملدر آمد کے حوالے سے ابہام موجود ہیں، تاجر برادری نے وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹ ری فنانس شرح میںکمی،تنخواہ دار طبقے کیلئے نئے ٹیکس سلیب،نان فائلرز کیلئے 40لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر پابندی،ایف بی آر کے اضافی اختیارات میںکمی،ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے اقدامات،فائلرز کیلئے پراپرٹی ٹیکس میںکمی ،گزشتہ بجٹ میں دی گئی مراعات کو جاری رکھنے ،کھاد پر سیلزٹیکس دو فیصد کرنے ،زرعی مشینری کی در آمد پر ٹیکس سات فیصد سے پانچ فیصد کرنے ،ڈیری و لائیو اسٹاک کے شعبوں پر ٹیکس کی چھوٹ،زرعی سپورٹ فنڈ کے قیام ،زیرو ریٹڈ ریجیم کیلئے مراعات،سپر ٹیکس کو بتدریج ختم کرنے کے فیصلے ،کارپوریٹ ٹیکس اور REITپر ٹیکس میں کمی ،کوئلے کی در آمد پر کسٹم ڈیوٹی میںکمی اور فش فیڈ پر سیلز ٹیکس کے خاتمے سمیت صنعتوں کیلئے کئے گئے دیگر اقدامات کو سراہتے ہوئے بجٹ کو خوش آئند قرار دیا۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2jfe48Y
via IFTTT

No comments:
Write komentar