Technology

Ads

Most Popular

Friday, 27 April 2018

پاک افغان بارڈر پر شدت پسندوں کی فائرنگ،ہلاکتوں کی اطلاعات موصول، تشویشناک خبر آگئی

 

گھلانائی (ویب ڈیسک) پاک افغان بارڈر پر شدت پسندوں کی فائرنگ سے سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان شہید ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں3 شدت پسند مارے گئے۔ مہمند ایجنسی کے حکام کے مطابق گزشتہ روز سرحد پار افغانستان سے مہمند ایجنسی کے علاقہ شیخ بابا صافی میں پاکستانی سیکیورٹی فورسزکی

ایک چوکی پر نامعلوم شدت پسندوں نے فائرنگ کی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد پار فائرنگ سے سیکیورٹی فو رسز کا ایک جوان فرمان اللہ شہید ہوگیا، فورسز کی جوابی فائرنگ سے 3شدت پسند مارے گئے جبکہ باقی پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔ایک دوسری خبر کے مطابق پاک افغان سرحد پر پر بدھ کو ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک افغان پولیس اہلکار ہلاک اور دو پاکستانی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک سینئر افغان آفیشل کا کہنا ہے کہ متنازع سرحد پر دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد افغان فوج کے اضافی دستے سرحد پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے الزام لگایا ہے کہ افغان نیشنل آرمی(اے این اے) نے ان کی ایک سرحدی چوکی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ ملک کے شمال مغربی علاقے کے ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی آفیشل نے نے بتایا کہ اے این اے کے دستوں نے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے فائرنگ کی جس کے بعد مہمند کے قبائلی علاقے میں پاک افغان سرحد پر دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اے این اے نے ہلکے اور بھاری

ہتھیاروں سے فائرنگ کی، فائرنگ سے ہمارے دو اہلکار زخمی ہو گئے اور ہم اس معاملے کو مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔ افغان سرحد کے ساتھ واقع ضلع مہمند کے ایک انتظامی آفیشل نے فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے میں ایمبولینس بھیج دی گئی ہیں۔ ایک عرصے سے جاری سرحد پار حملوں کا یہ تازہ واقعہ ہے جہاں پاکستان اور افغان حکام ایک دوسرے کو واقعے کی ابتدا کرنے کا ذمے دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ افغانستان میں طالبان اور دیگر باغی دھڑوں کی حمایت سے بھری پڑی ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان افغانستان پر سرحد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے تناؤ کی وجہ پاکستان کی جانب سے بنایا جانے والا ملٹری گیٹ ہے جس کے بارے میں افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افغانستان کے اندر واقع ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے نے اپنے حکام کو اس دروازے سمیت ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوج کی کسی قسم کی تنصیبات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے تمام تر اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ سن 1893 میں برطانیہ نے دونوں ملکوں ی سرحد کو ڈیورنڈ لائن کا نام دیا تھا جسے پاکستان نے تسلیم کیا تھا لیکن افغانستان اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HUxGNm
via IFTTT

No comments:
Write komentar