اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی ارشد شریف نے کہا کہ نیب ریفرنسز میں مریم نواز کو پہلے بھی کافی طول دیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی سزا کا اعلان ہوجاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اس
کو اسی وقت معطل کر کے مریم نواز کو کہا جائے کہ وہ جاتی امرا چلی جائیں۔قانون میں اس بات کی اجازت ہے ، جس پر پروگرام میں موجود قانون دان شہزاد اکبر نے کہا کہ اس کیس میں مجرم یا تو نواز شریف ہیں یا مریم نواز ہیں۔ ابھی تک جس کے نام پراپرٹی آ رہی ہےوہ مریم نواز ہیں۔ اس کیس کی نوعیت وہی ہے جو ایک مرکزی جرم کی ہوتی ہے۔ مریم نواز کو سزا ہونے کے بعد ضمانت مل سکتی ہے لیکن ضمانت صرف اس صورت میں ملے گی جب سزا تین سال یا اس سے کم ہو ۔ جبکہ اس کیس میں مریم نواز کو کم از کم سات سے چودہ سال تک قید ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ شاید مریم نواز کا اس کیس میں بچ جانا آسان ہے ، تو یہ کیس ایسا ہے کہ ان میں سے یا تو سب کو سزا ہو گی یا سب بری ہو جائیں گے ۔ کیونکہ اس میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک کو سزا ہو ۔ خیال رہے کہ احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت جاری ہے، متعدد سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سزا ہونے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دیا گیا تھا جس کے بعد لندن میں موجود پراپرٹیز پر نیب نے احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ریفرنسز دائر کیے تھے۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2KCYall
via IFTTT

No comments:
Write komentar