Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 9 May 2018

احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں کیا حکم جاری کر ڈالا؟ خبر آگئی

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران گواہ محمد عظیم پر جرح کی گئی۔ سماعت کو 16 مئی تک ملتوی کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ محمد عظیم پر جرح کی۔گواہ کا کہنا تھا کہ 2001 سے 2004 تک بینک میں ڈیٹا ان پٹ آفیسر رہا، اس کے بعد بطور سپروائزر کام سر انجام دیا۔ اسحا ق ڈار کی ٹرانزیکشن کی دستاویزات نیب اور پھر عدالت میں پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ میں نے نہیں بنائی بلکہ کمپیوٹرجنریٹڈ تھی۔ ٹرانزیکشن کی تاریخ یاد نہیں۔ میں نے اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ کو دیکھ کر اس میں انٹریز کیں۔ گواہ کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر کے خط میں ٹرانزیکشن کی تفصیلات نہیں مانگی گئیں۔ تفتیشی افسر نے بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات زبانی مانگی تھیں۔ تفتیشی افسر نے 17 اگست 2017 کو زبانی تفصیلات دینے کا کہا۔ نیب کی تفتیشی افسر نے 16 اگست 2017 کو 2 خط لکھے۔گواہ نے بتایا کہ دونوں خطوط عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیے گئے۔ 6 نومبر 2003 کو لوکل بل سے 4 لاکھ 89 ہزار 100اسحا ق ڈار کے اکاؤنٹ میں آئے۔ رقم بینک الفلاح ایل ڈی اے برانچ لاہور میں منتقل ہوئی۔ گواہ سے سوال کیا گیا کہ اگر یہ کہا جائے کہ رقم اختر عزیز حنیف نے جاری کی ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ جس پر گواہ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ رقم اختر عزیز حنیف نے جاری کی۔

یہ خبر پڑھںح : عمران خان کے کام کی تحریر : اگر سٹ ع کے ٹکٹ فروخت کرنے کے الزام مںر نکالے گئے تحریک انصاف کے 20ارکان نے یہ فصلہ کر لاے تو عمران خان کے لےھ اپنا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔تفصلاکت آپ کو دنگ کر ڈالں2 گی

یہ خبر پڑھںی : پروڈکشن کمپناکں اندرون خانہ کار گل کھلا رہی ہں/ ، ڈراموں مںک اداکاراؤں کا انتخاب کسےے کان جاتا ہے ؟ ٹی وی کی معروف اداکارہ کے انکشافات

انہوں نے بتایا کہ 3 مئی کو 3 لاکھ کی رقم اسحاق ڈار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی، بینک الفیصل کا اکاؤنٹ تھا، اکاؤنٹ کس کا تھا یہ یاد نہیں۔گواہ سے سوال پوچھا گیا کہ کیا 3 لاکھ کی رقم ہجویری اکاؤنٹ سے آئی؟ جس پر گواہ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔وکیل نے سوال کیا کہ کیا 23 دسمبر 2008 کو ہجویری ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں 3 لاکھ منتقل ہوئے جس پر گواہ نے کہا کہ میرے ریکارڈ کے مطابق 30 دسمبر کو اسحا ق ڈار کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ نکالے گئے۔ ’رقم ہجویری ٹرسٹ یا کسی اور کو جاری ہونے کا علم نہیں‘۔اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس کی مزید سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی گئی۔ گواہ محمد عظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔عدالت نے گواہ کو اسحا ق ڈار سے متعلق ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دے دیا۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2IpceAx
via IFTTT

No comments:
Write komentar