(محمد حسن جمالی)
دو طریقے سے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال جان سکتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان مختلف ذرائع سے مشرق وسطیٰ کے اندر موجود مسلم ممالک میں سے ہر ایک کے سیاسی حالات کا تفصیلی علم حاصل کرے، یہ روش خستہ کنندہ اور حوصلہ طلب ہے، البتہ محال نہیں اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے مسلم ممالک کے رول ماڈلز ملکوں کی شناخت کرکے ان کی سیاسی صورتحال کو سمجھے اور اس راہ سے مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال کا اندازہ لگائے، یہ روش پہلی روش کی نسبت سہل ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال رو بہ زوال دکھائی دیتی ہے، جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایک دو ملکوں کو چھوڑ کر اسلامی ممالک کے سربراہان اور حکمرانوں کا طاغوت کی زیر نگرانی اپنے ملکوں کی سیاسی پالیسیاں مرتب کرکے ان کی خوشنودی کے زیر سایہ افق سیاست پر چمکنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ان مسلم ممالک کی سیاسی پالیسیوں پر غور کریں جو دوسرے اسلامی ملکوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس وقت جن ملکوں کی جانب اسلامی ممالک کا جھکاؤ ہے وہ سعودی عرب ہے یا ایران۔
اسلامی دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی معاملات میں سعودی عرب کو اپنے لئے رول ماڈل سمجھتی ہے، اگرچہ موجودہ سعودی شاہ محمد بن سلمان کی لبرل فکر نے سعودی عرب سے محبت رکھنے والے بہت سارے مسلمانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، لیکن پھر بھی فی الحال وہ سعودی عرب کو چھوڑ کر کسی دوسرے اسلامی ملک کو اپنے لئے رول ماڈل قرار دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے اور بعض محدود اسلامی ملک ایران کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں جن میں سرفہرست شام، لبنان اور یمن ہے۔ سعودی عرب جو اکثر اسلامی ملکوں کی مذہبی تکیہ گاہ شمار ہوتا ہے، کے سیاسی مخدوش حالات کسی پر ڈھکے چھپے نہیں۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے ازلی دشمن امریکہ و إسرائيل کے ہاتھوں اپنا سب کچھ بیچ دیا ہے، وہ امریکہ کو اپنا آقا بناکر اس کی نوکری اور غلامی پر افتخار کرتے ہیں اور اپنے ملک کے سارے نظام خصوصاً سیاسی نظام اور پالیسیاں امریکہ کی رضامندی کو مدنظر رکھ کر مرتب کرتے ہیں۔ سعودی عرب تھا تو معروف اسلامی ملک مگر اس کے حکمران امریکہ کو اپنا رازق اور مدبر سمجھ کر اس کے دامن سے متمسک رہنے میں اپنی عافیت تلاش کر رہے ہیں، اس نام نہاد اسلامی ملک کی سیاسی صورتحال پستی کی جانب رواں دواں ہے، شیطان بزرگ امریکہ نے اسے اپنا آلہ کار بنا کر مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں پر شب خون مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس وقت شام، یمن غرض ہر وہ اسلامی ملک جو ایران کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہوئے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیاں بناتا ہے وہ امریکہ کے وفادار دوست سعودی عرب کے مظالم کا شکار ہے، جس کا نمونہ شام، یمن، عراق اور بعض دوسرے اسلامی ملکوں میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ سحر نیوز ویب سائٹ (اردو) کے مطابق یمن میں جنگ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جب جنوبی صنعا کے علاقوں اور لحج کے مرکز پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی شدید بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے ان حملوں کے دوران صوبہ حجۃ میں واقع حرض میں ایک سرکاری عمارت اور سڑکوں کی حفاظت سے متعلق ایک ادارے کے ہیڈکوارٹر پر بمباری کی ہے۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت میں اب تک دو ہزار پانچ سو سے زیادہ افراد شہید اور چار ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے اس ملک کے ہسپتال بھی بند ہوتے جا رہے ہیں۔ یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس ملک کے ستّر فیصد ہسپتال، طبّی وسائل کے فقدان کی وجہ سے بند ہونے کے قریب ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کے حملوں کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ یمنی شہری بےگھر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران ہے جو سعودی عرب، امریکہ و إسرائيل کے مدمقابل استقامت دکھا رہا ہے، انہیں مسلمانوں کی جانی، مالی، اصل دشمن ہونے پر یقین رکھتے ہوئے ان کے سامنے جھکنے کو اپنے لئے نگ و عار سمجھتا ہے اور اس حقیقت کا کھل کر اظہار کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا کہ امریکہ و اسرائيل اور ان کے ہمفکروں سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں ہی مسلمانوں کی سربلندی اور کامیابی کا راز چھپا ہے۔ وہ اس پر پکا ایمان رکھتا ہے کہ امریکہ و إسرائيل کھبی بھی مسلمانوں کے خير خواہ نہیں بن سکتے اور جس اسلامی ملک نے اسے سپر طاقت سمجھ کر اس کی غلامی کا طوق اپنے گلے کا ہار بنا رکھا ہے اس ملک کی نابودی یقینی ہے۔ ایران دنیائے اسلام کا وہ واحد ملک ہے جو مسلمانوں کو امریکہ و اسرائيل کے مظالم کے چنگل سے نکال کر پوری کائنات میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور سربلندی دیکھنے کا خواہاں ہے، وہ پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنے کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جس جس کونے میں مسلمانان ظلم و ستم کے شکار ہیں ان کی مالی اور افرادی فوری مدد کرنے کے لئے ایران میدان میں کودتا ہے۔ آپ مسئلہ فلسطین کی ہی مثال لے لیجئے جو عرصہ دراز سے غاصب اسرائیل کے مظالم کی آگ میں جل رہا ہے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جس میں فلسطینی مسلمان اسرائیلی ناپاک فوج کی اذیت و آزار کا شکار نہ ہوتے ہوں، آئے روز فلسطین کے اندر اسرائیل کے ہاتھوں مسلمان لقمہ اجل بن رہے، جہاں شہادتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔
اسلامی ممالک میں سے واحد ایران ہے جو شروع سے اب تک ملت مظلوم فلسطین کی حمایت اور غاصب اسرائیل کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے میدان میں استقامت دکھا رہا ہے اور فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی مدد اور حمایت کرنے کی پاداش میں امریکہ و إسرائيل اپنی پوری توانائیاں جمع کرکے ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں، وہ مختلف بہانے تراشتے ہوئے ایران کو کمزور کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، اس ہدف میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے داعش کو وجود میں لایا اور عراق و شام میں داعشی ٹولے کے ذریعے بےگناہ مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلایا، لاتعداد مسلمان عورتوں اور بچوں کو بڑی بےدردی سے ذبح کروایا، بہت سوں کو زندہ جلوایا، دریا برد کروایا، مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کو مسمار کروایا، مگر اس سے نہ فقط امریکہ و إسرائيل کو کامیابی نہیں ملی بلکہ اہل حق گروہ کے ہاتھوں انہیں تاریخی کمر شکن شکست سے دوچار ہونا پڑا اور پوری دنیا میں وہ ذلیل و خوار ہوئے، جس کا کریڈٹ ایران کو جاتا ہے، کیونکہ عراق اور شام دونوں میں داعش کو پسپا کرنے میں مرکزی کردار ایران کا ہی رہا ہے۔ اب امریکہ و إسرائيل نے عراق اور شام سے ہونیوالی شکست کے زخموں کو مندمل کرنے کے لئے مل کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو اور ناکام سعی لاحاصل کی، ایک طرف سے ایران پر اقتصادی پابندی لگا کر دنیا میں تنہا کرکے اسے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، ان اقتصادی پابندیوں سے ظاہراً ایرانی قوم تنگی معیشت کا شکار ضرور ہوئی لیکن دشمن اپنے ہدف میں پھر بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
کیونکہ امریکہ چاہتا تھا کہ جب ایرانی قوم مالی اور اقتصادی حوالے سے تنگی کا شکار ہوگی تو وہ میدان میں نکل کر ایرانی نظام حکومت کے خلاف تظاهرات کرے گی، احتجاج کرکے برعلیہ نظام نعرہ بازی کرے گی، در نتیجہ داخلی طور پر ایران کے اندر حالات میں بحران پیدا ہوگا، لوگوں میں مایوسی و ناامیدی تناور درخت کی شکل اختیار کرے گی، جس سے عوام علم بغاوت بلند کرنے پر مجبور ہوں گے، مگر نتیجہ اس کا بالکل برعکس نکلا، اقتصادی پابندیوں سے ایرانی قوم نے متحد ہو کر اپنی طاقتوں کو یکجا کر کے ہر چیز اپنے ملک کے اندر تولید کرنے پر توجہ مرکوز کی، خارجی اشیاء کی بجائے داخلی چیزوں کی خرید و فروخت کو ترجیح دی، ماہرین اقتصادیات نے اچھی طرح نظر ثانی کرکے نظام اقتصاد کو مستحکم تر بنانے کے لئے ٹھوس قوانین وضع کئے، منابع اقتصاد کو بڑھانے کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا اور ایران کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے عملی اقدامات میں تیزی لانے کی مضبوط منصوبہ بندی کی گئی۔
دوسری طرف سے مسلمانوں کے قبلہ اول کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لانے کی کوشش کی گئی، چنانچہ غاصب اسرائیل کے مشورے سے امریکہ نے اپنا سفارخانہ بھی تل أبيب سے وہاں منتقل کیا لیکن امریکہ کے اس ظالمانہ اقدام سے کیا اسے کامیابی ملی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس سے اقوام عالم کے دلوں میں امریکہ و إسرائيل سے نفرت میں بے پناہ اضافہ ہوا، احساس ذمہ داری رکھنے والے مسلمانوں کے دل و دماغ میں امریکہ و إسرائيل سے دشمنی بڑھ گئی، پس اس راہ سے بھی امریکہ کو کامیابی کی بجائے ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
مسلمانوں کے دلوں میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت بڑھ گئی، مسئلہ فلسطین کو کماحقہ سمجھنے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امام خمینی بت شکن کے اقوال و ارشات کا دقت سے مطالعہ کریں، اس سلسلے میں زبردست کالم نگار ابو مريم کی تحریر سے اہم اقتباسات پیش کر رہا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں "اس وقت کے امریکی و صیہونی آلہ کار حکمرانوں کے مدمقابل نہ صرف قیام کیا بلکہ فلسطین کے حق میں اس دور میں بات کرنا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ ایسے دور میں آپ نے اپنی پوری جدوجہد میں فلسطین کاز کی حمایت سے ایک انچ بھی خود کو پیچھے نہیں کیا حالانکہ اس جرم کی پاداش میں آپ کو دربدر کیا گیا، جلا وطن کیا گیا اور نہ جانے آپ کے ساتھیوں کے ساتھ بھی کس کس طرح کے مظالم روا رکھے گئے آپ نے دنیا کی ان تمام سختیوں اور مصائب کا خندہ پیشانی اور دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے عملی طور پر سب سے پہلے ایران میں موجود اسرائیلی سفارتخانہ کو ختم کر کے اس جگہ پر فلسطینی سفارتخانہ بنایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قبلہ اوّل بیت المقدس کی بازیابی کے لئے یوم القدس کے طور پر منائیں۔ یہ امام خمینی ہی کی شخصیت تھی کہ جس نے دنیا پر واضح طور عیاں کیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے”۔
اس کام کے لئے امام خمینی نے اپنے خطابات اور فرامین میں بھرپور انداز سے پیغامات دیئے حتٰی کہ دنیا کے دیگر ممالک کے رہنماؤں کے لکھے جانے والے خطوط اور خط و کتابت میں بھی امام خمینی کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے لئے ہمیشہ بےحد اصرار پایا جاتا تھا۔ آپ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا، اور پوری دنیا میں اس روز مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے کا حکم صادر فرمایا، امام خمینی نے ہمیشہ مسلمان اقوام کے اتحاد و یکجہتی کو فلسطین کی آزادی اور قبلہ اوّل کی بازیابی کا اہم ترین راز اور منبع قرار دیا اور یہی کہا کہ فلسطین کی نجات اور صیہونزم کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنے کا واحد راستہ مسلمانوں کی اسلام کی طرف بازگشت اور ان کا آپس میں اتحاد ہے اور انہوں نے اس چیز پر زور دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا ہے کہ ’’اسرائیل کا اصلی مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے‘‘ ہمیشہ اس چیز کی بھی تاکید کی ہے کہ ہر طرح کے اختلافات منجملہ مذہبی اختلافات کو ختم کردیا جائے۔ یہاں ایک اہم ترین نکتہ یہ بھی ہے امام خمینی کا تعلق مسلک تشیع سے تھا لیکن فلسطین سمیت دنیا کی کسی بھی مظلوم قوم بشمول افغانستان اور کشمیر کے لئے آپ نے ہمیشہ نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ عملی طور پر بھی فلسطین کی مظلوم قوم کی حمایت کر کے ثابت کر دیا کہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اگر کوئی بھی مسلکی اختلافات کو ابھارنا چاہے یا ہوا دے کر اس مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنا چاہے گا تو یقیناً وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ استعماری قوتوں کا آلہ کار ہو گا، جی ہاں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال جاننے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ انسان ان کے رول ماڈلز کی سیاسی پالیسیوں کا مطالعہ کریں۔
The post مشرق وسطیٰ یں مسلم ممالک کی سیاسی صورتحال جاننے کا آسان طریقہ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2xPM2eo
via IFTTT

No comments:
Write komentar