Technology

Ads

Most Popular

Tuesday, 5 June 2018

حسن اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لانے کا فیصلہ ۔۔۔۔نامور اور باخبر صحافی کی دھماکہ خیز پیشگوئیاں اس خبر میں ملاحظہ کیجیے

 

لاہور (ویب ڈیسک )بچشم بددورپاکستان بہت تیزی سے اس منزل کی طرف رواں دواں ہے جہاں کوئی “Above the law”نہیں ہوگا، میزان عدل میں اعلیٰ و ادنیٰ یکساں تلیں گے، ’’رول آف دی رولر‘‘ نہیں ’’رول آف لاء‘‘ کا بول بالا ہوگا اور اس منزل تک پہنچنے کا مطلب یہ کہ پاکستان نے پونی بازی جیت لی

معروف کالم نگار حسن نثار اپنے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یوں تو اس موضوع سے متعلق خبروں کی برسات ہے لیکن میں ایک قومی اخبار کی صرف چند خبروں، سرخیوں پر اکتفا کروں گا جن کا چند ماہ پہلے تک تصور بھی محال بلکہ ناممکن تھا۔’’میاں نواز، ان کی صاحبزادی اور داماد کی تصویروں کے آگے لکھا ہے…..’’اڈیالہ جیل‘‘’’پھر حسن نواز، حسین نواز اور اسحٰق ڈار کی تصویروں کے ساتھ لکھا ہے…..انٹرپول کے ذریعہ واپسی‘‘’’25بیوروکریٹس اور 2سابق وفاقی وزراء کی چند روز میں گرفتاری متوقع۔ سابق ارکان میں سے نصف نااہل ہو جائیں گے‘‘۔’’نواز، مریم، صفدر، حسن، حسین اور ڈار کے خلاف مقدمات کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں مکمل ہو جائیں گے۔ شہادتیں وغیرہ جس سمت میں جارہی ہیں ان کی وجہ سے انہیں سزا ملنے کے امکانات واضح ہیں‘‘۔’’سزا ملی تو باپ، بیٹی اور داماد کو کسی ریسٹ ہائوس میں نہیں اڈیالہ جیل میں رکھا جائے گا۔ حسن، حسین اور ڈار کو انٹرپول کے ذریعہ واپس لا کر جیل میں ڈالا جائے گا۔ متعدد سابق ارکان اسمبلی کی بھی گرفتاری کافیصلہ‘‘۔’’ایسے ارکان اسمبلی پر سنگین الزامات ہیں اور مقدمات کی تیاری جاری ہے‘‘۔’’انتخاب لڑنے والوں کیلئے نیب، FIA، اسٹیٹ بینک اور SECPوغیرہ سے کلیرنس لازمی قرار دی جارہی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چالیس سے پچاس فیصد تک امیدوار نااہل قرار پائیں

گے‘‘۔’’قارئین! یقین مانیں اسی خبر کا 75,70فیصد بھی صحیح ثابت ہوگیا تو ملک کی سمت بھی بدل جائے گی، چہرہ بھی اور مقدر بھی بدل جائے گا۔ اوپر کا گند تیزاب سے دھو دیا گیا تو نیچے ریڑھی، چھابڑی، کھوکھے تک بھی یہ پیغام پوری قوت سے پہنچ جائے گا کہ اب بے ایمانی کی گنجائش نہیں۔ کرپشن کلچر کی یہ مکروہ بدبودار کینچلی اتر جائے گی۔ ٹارگٹ، کرپشن فری معاشرہ ہرگز نہیں کیونکہ جہاں انسان ہوگا وہاں گناہ اور جرم سو فیصد ختم نہیں ہوسکتا۔ اصل ٹارگٹ ہے اسے کم سے کم سطح پر لانا۔ آج کے پاکستان میں تو کرپشن ’’وے آف لائف‘‘ بن چکی ہے۔ جس کے جبڑے ہیںوہ جبڑوں سے اور جس کی چونچ ہے جو چونچ سےملک کو نوچ رہا ہے۔ ڈھکی چھپی رشوت، کھانچے پہلے بھی تھے لیکن اقتدارمیں ’’شریف فیکٹر‘‘ کے داخلہ کے بعد تو ’’کھلا کھائو تے ننگے نہائو‘‘ کو وہ عروج ملا کہ خدا کی پناہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے وفاداریاں خریدنے کیلئے بکائو ’’معززین‘‘ کو تین تین پلاٹ یہ کہہ کر دیئے کہ ایک پلاٹ بیچ کر دوسرے پر گھر بنائو اور تیسرا بیچ کر اسے ’’فرنش‘‘ کرو۔ جرائم پیشہ لوگوں کو پولیس میں بھرتی کرنے سے لیکر 63,64سالہ بوڑھوں کو پٹواری بھرتی کرنے تک انہوں نے کیا کیا کچھ نہیں کیا؟ (ز،ط)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Jq8bEy
via IFTTT

No comments:
Write komentar