لاہور(ویب ڈیسک) ملی مسلم لیگ نے بھی اپنے امیدوارمیدان میں اتار دیے،ملی مسلم لیگ کی طرف سے صوبائی نشستوں کیلئے 6 امیدوارالیکشن میں حصہ لیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی دارلحکومت لاہور میں این اے 120کے ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد ملی مسلم لیگ ایک بار پھر میدان میں آگئی ہے۔
ملی مسلم لیگ نے تحریک اللہ اکبرکے ساتھ اتحاد کرکے این اے 125کا معرکہ ایک بار بھی سر کرنے کی تیار ی کرلی ہے۔ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ ضمنی الیکشن 2017ء میں مسلم لیگ ن کی امیدواربیگم کلثوم نواز کے مقابلے میں 40سے زائد امیدوارکھڑے ہوئے تھے۔ جن میں ملی مسلم لیگ کے محمد یعقوب شیخ بھی شامل تھے۔لیکن عام انتخابات 2018ء میں ملی مسلم لیگ نے تحریک اللہ اکبر کے ساتھ ملکر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔این اے 125جو کہ نئی حلقہ بندیوں سے پہلے این اے 120تھا۔سے الیکشن میں اپنے امیدوار کو کھڑا کریں گے۔ اسی طرح ملی مسلم لیگ نے راولپنڈی کی صوبائی نشستوں پر بھی اپنے مضبوط امیدوارالیکشن میں کھڑے کردیے ہیں۔ ملی مسلم لیگ کے پی پی 14سے رانا عبدالرحمان،پی پی 15سے ملک شہزاد یاسین، پی پی 16سے افتخار شاہ،پی پی 18سے زاہد خان،اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 19سے چوہدری عبدالقدوس کو انتخابی میدان میں اتارا جائے گا۔دوسری جانب ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں جن میں مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں ایم کیوایم ،،تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن ،سمیت جی ڈی اے کے امیدوارمدمقابل ہوں گے۔کے پی میں عوامی نیشنل پارٹی ، پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے درمیان مقابلہ ہوگا۔تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی حلقوں میں اپنے اپنے امیدواراتاردیے ہیں جبکہ بعض حلقوں میں جلد ہی انتخابی امیدواروں کا اعلان کردیاجائے گا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) کی رجسٹریشن کے معاملے پر وزارت داخلہ سے حتمی رپورٹ 13 جون تک پیش کرنے کی ہدایت کردی۔الیکشن کمیشن میں ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے معاملے پر کمیشن کے سندھ سے رکن غفار سومرو کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔خیال رہے کہ سماعت سے قبل وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی تھی۔سماعت کے آغاز پر ملی مسلم لیگ کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ رپورٹ میں کہیں بھی ان کے موکل اور آفس بیریئر کے بارے کچھ نہیں کہا گیا، ان کے موکل کسی نگرانی فہرست میں شامل نہیں، ’حافظ سعید نگرانی فہرست میں ہیں لیکن ملی مسلم لیگ کا کوئی رہنما اس نگرانی فہرست میں شامل نہیں‘۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2Jznt6I
via IFTTT

No comments:
Write komentar