(تحریر: طاہر یاسین طاہر)
عالمی امددای تنظیموں کا ہدف قرطاس پہ بڑا دلنشین اور انسانیت دوست نظر آتا، بے شک ایسا ہے بھی۔ غربت اور جنگ زدہ علاقوں میں ان تنظیموں کا کام زیادہ ہوتا ہے اور یہی ان کا ہدف بھی ہے۔ جہاں غربت ہے وہاں غربت کے خاتمے کے لئے کام کیا جاتا ہے اور جہاں جنگ اور قحط سالی ہے، وہاں خوراک پہنچائی جاتی ہے۔ یہ کام کسی لالچ کے بغیر کئے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مختلف این جی اوز پہ اگر تحقیق کی جائے تو ایک اور طرح کی صورتحال بھی سامنے آتی ہے۔ عالمی سطح پر کئی مقبول این جی اوز یا امدادی ادارے بین الاقوامی طاقتوں یا اپنے ڈونرز ممالک کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ کام مگر بڑے تحمل اور کاریگری سے کیا جاتا ہے۔ کالم کاری کے لئے میں مختلف ویب نیوز اور حالات حاضرہ کی خبروں کو دیکھ رہا تھا، اسی دوران ایک حیرت افروز مگر تکلیف دہ رپورٹ پر نظر پڑی، جسے ایک مقبول ویب نیوز نے انہی دنوں میں شائع کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عالمی امدادی تنظیمیں "پناہ گزینوں” کو خوراک دینے کے بدلے جنسی استحصال کرتی ہیں۔ یعنی ان تنظیموں کے کارکنان اپنی جنسی ہوس کا انتظام پناہ گزینوں کے کیمپوں میں کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق”برطانوی اراکین پارلیمنٹ بین الاقوامی خیراتی اداروں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک ایسی چشم کشا رپورٹ کی تحقیقات کر رہے ہیں، جسے 17 برس تک خفیہ رکھا گیا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 15 عالمی امدادی تنظیمیں "خوراک کے بدلے سیکس” کے اسکینڈل میں ملوث پائی گئیں۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2001ء میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی) اور سیو دا چلڈرن نامی تنظیم کے عہدیداران نے مغربی افریقہ میں بچوں کے بیانات لینے کے بعد ان خیراتی اداروں کی فہرست مرتب کی تھی، جن کے رضاکار خوراک فراہم کرنے کے عوض ان سے جنسی تعلقات کا مطالبہ کرتے تھے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اس حوالے سے 2002ء میں اقوام متحدہ نے تحقیقات کا خلاصہ جاری کیا تھا، لیکن تنظیموں کے ناموں پر مشتمل مکمل رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں لائی گئی، تاہم اب اسے برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے بین الاقوامی ترقی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال ہیٹی میں ہونے والے ایک جنسی اسکینڈل کی تحقیقات میں برطانوی خیراتی ادارے اوکسفیم کے عملے کے ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے امدادی تنظیموں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ مذکورہ رپورٹ میں 40 سے زائد امدادی تنظیموں کے درجنوں رضاکاروں کے بارے میں بتایا گیا، جو پناہ گزین بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے، ان 40 تنظیموں میں 15 بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جن تنظیموں کے اراکین مجرمانہ فعل میں ملوث پائے گئے، ان میں انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) اور نارویجیئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں آئی آر سی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ ان مقامی رضاکاروں کو فارغ کر دیا گیا، جو یقینی طور پر اس اسکینڈل میں ملوث تھے، اس کے ساتھ جنسی استحصال، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بدسلوکی روکنے کے لئے اصلاحات کا آغاز کر دیا۔ دوسری جانب این آر سی نے مذکورہ رپورٹ کو سنگین قرار دے کر خود بھی تحقیقات شروع کر دی، جس کے نتیجے میں سیرالیون میں موجود اپنے عملے کے ایک مقامی کارکن کو نکال دیا۔
مگر تحقیقاتی ماہرین کے مطابق جینیوا، سیرالیون اور لیبیا میں سب سے زیادہ پناہ گزین بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے، جنہیں خوراک، تیل، تعلیم تک رسائی اور پلاسٹک کی شیٹوں کے عوض جنسی تعلقات کے استعمال کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ الزامات تصدیق شدہ نہیں اور اس ضمن میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے، لیکن دستاویزات میں الزامات کی تعداد، اس معاملے کی سنگین نوعیت کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) رووڈ لبرز، جو سال 2001ء سے 2005ء تک اس عہدے پر تعینات رہے، نے اس وقت اپنے عملے کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کے الزام کو "گپ” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے یو این ایچ سی آر کی جانب سے رپورٹ میں ذکر کی گئیں تمام تنظیموں کو نہ صرف ان الزامات سے آگاہ کیا گیا بلکہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کی جانب سے انہیں تفتیش کار بھی بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا کہ اقوام متحدہ کو خطے میں بدسلوکی کی 43 مختلف شکایات موصول ہوئیں، جس کے بعد انہوں نے "اسپیسفک پریوینشن اینڈ ریمیڈیئل ایکشن” نامی پروگرام کا آغاز کیا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یو این ایچ سی آر کی فراہم کردہ خفیہ فہرست میں جن 67 افراد کے نام دیئے گئے، ان میں سے 10 سے بھی کم افراد کو برطرف کیا گیا اور کسی ایک پر بھی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ اعداد و شمار اس قدر سنگین اور تکلیف دہ ہیں کہ لکھنے کو حرف عاجز آجاتے ہیں۔ شام، یمن، لیبیا، افغانستان، سوڈان، روہنگیا پناہ گزین، پاکستان، افریقہ، الغرض جہاں جہاں عالمی امدادای تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، وہاں وہاں ان تنظیمیوں کے رضاکار کس قدر وحشیانہ طبیعت کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ قطعی طور سارے کارکنان اور رضاکار بد اخلاق نہیں، ان میں انسانیت دوست اور اعلٰی اخلاق کے مالک افراد بھی ہیں۔ اسی طرح تنظیمیوں کا یہ ایجنڈا نہیں کہ پناہ گزینوں کا جنسی استحصال کرکے ان کی ذہنی اذیت میں اضافہ کیا جائے، لیکن اس کے باوجود یہ واقعات ہو رہے ہیں اور ان میں تسلسل بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک رپورٹ کو 17 سال تک دبا کے رکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا صرف غیر اسلامی اور غیر ملکی یورپین امدادی تنظیموں کے کارکنان ہی پناہ گزینوں سے جنسی تعلق کا مطابہ کرتے ہیں یا اسلامی نام کی چادر میں لپٹی خیراتی تنظیموں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں؟ بے شک اس حوالے سے تحقیقات ضروری ہیں۔ خیراتی اداروں کو چاہیے کہ اپنے کارکنان اور رضاکاروں کی اعلٰی اخلاقی تربیت کے لئے ماہانہ بنیادوں پر ورکشاپ کا اہتمام کریں۔
The post عالمی امدادی تنظیمیں اور پناہ گزینوں کا جنسی استحصال appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2J9GUqR
via IFTTT


No comments:
Write komentar