(تحریر: ژیلا احمدی)
مشرق میں چین اور بھارت جیسی نئی طاقتوں کا ظہور اور اسی طرح روس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثرورسوخ امریکی خارجہ سیاست کے اہم ایشوز شمار ہوتے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران کے بعد امریکہ نے خطے میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو افغانستان منتقل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے امریکہ خطے سے متعلق اپنے اہداف حاصل کرنے کے درپے ہے۔ یہ امریکی حکمت عملی مغربی ایشیا کے مرکز میں ایک نئے سکیورٹی بحران کی پیدائش پر منتج ہو گی۔ اس سوال کا جواب پانے کیلئے امریکہ کی جانب سے داعش کو افغانستان منتقل کرنے کی پالیسی کیوں اختیار کی گئی ہے اور اس حکمت عملی سے امریکہ کیا اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے؟ درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:
1)۔ دہشت گرد گروہ طالبان جو ماضی میں امریکہ کے زیر کنٹرول تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کا اثرورسوخ اس پر کم ہوتا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ طالبان امریکہ کے براہ راست کنٹرول سے باہر نکل چکا ہے۔ اب روس، چین اور بھارت نے بھی طالبان سے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اسی طرح افغان عوام کا جھکاو بھی مشرقی اقوام خاص طور پر بھارت کی طرف زیادہ ہے۔ البتہ اس نکتے پر بھی توجہ ضروری ہے کہ بھارت افغانستان کو مشرق وسطی تک رسائی کے پل کے طور پر دیکھتا ہے۔
2)۔ شام میں خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران کے بعد روس اور ایران نے دہشت گرد عناصر کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام میں میں داعش کی شکست ایران اور روس کے درمیان تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ لہذا امریکہ نے ایران کی طاقت کم کرنے اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے افغانستان کا انتخاب کیا ہے۔ افغانستان ایک تو ایران کا ہمسایہ ملک ہے جبکہ روس سے بھی اس کا فاصلہ کم ہے لہذا امریکہ کی نئی حکمت عملی میں افغانستان اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔
3)۔ چین مشرق میں ابھرتی ہوئی نئی طاقت کے طور پر امریکی خارجہ سیاست میں ایک نئے چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر چین امن گیس پائپ لائن منصوبے یا تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور امریکہ کی جانب سے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کر دیئے جانے کے بعد والی صورتحال جاری رہتی ہے تو چین ایران اور کیسپین کے گیس کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ امریکہ کیلئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔
4)۔ خطے کی بعض عرب ریاستیں جو شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی مالی اور فوجی مدد کرنے میں مصروف تھے اب جبکہ یہ عناصر مکمل شکست کا شکار ہو چکے ہیں، افغانستان میں ایران کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں امریکہ کی بھی بھرپور مدد اور حمایت حاصل ہے۔ درحقیقت یہ ریاستیں امریکہ سے مل کر افغانستان میں داعش کو پروان چڑھا کر ایران کو دباو کا شکار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
5)۔ افغانستان کے شمالی اور مشرقی حصوں پر مرکزی حکومت کا کنٹرول کمزور ہے جس کے باعث وہاں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی یہ علاقے منشیات کی پیداوار کا مرکز جانے جاتے ہیں۔ دہشت گرد عناصر منشیات کے کاروبار سے حاصل آمدنی اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ ان دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کے ذریعے انہیں ایران اور روس کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ان ممالک میں منشیات اسمگل کرنے کے ذریعے انہیں نئے چیلنجز سے روبرو کر دینا چاہتا ہے۔
The post داعش کی افغانستان منتقلی پر مبنی امریکی حکمت عملی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2xG5jyQ
via IFTTT


No comments:
Write komentar