Technology

Ads

Most Popular

Sunday, 3 June 2018

پاکستان میں تھیلی سیمیا کے شکار افراد کی تعداد کتنی ہے؟ جان کر آپ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں گے

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) میں تقریباً ایک کروڑ افراد تھیلی سیمیا کا شکار ہیں۔ غیر منافع بخش غیر سرکاری فلاحی تنظیم فاطمہ فائونڈیشن کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحانہ مشیر نے کہاہے کہ ملک میں 20 ہزار بچے ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں جن میں سے 90 فیصد ایسے ہیں جو غربت، جہالت،

بیماریوں کے حوالے سے کم آگاہی اور طبی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث اپناعلاج نہیں کروا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تھیلسیمیا اور ہیموفیلیا کے امراض کا بنیادی سبب برادریوں میں شادیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کی سہولیات میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ کے صاحب ثرورت احباب کو چاہیے کہ وہ بیماریوں کے تدارک کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عالمی یوم تھیلی سیمیا کے موقع پر حمزہ فائونڈیشن ویلفیئر ہسپتال پشاور اور فری بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز نے پشاور پریس کلب میں سیمینار کا اہتمام کیا جس میں تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کے والدین اور مختلف فلاحی تنظیموں کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔مہمان خصوصی چیف کیپیٹل سٹی پولیس طاہر خان تھے انہوںنےاپنے خطاب میں کہا کہ تھیلی سیمیا کاشکار نادار بچوں کی زندگی بچانے اورانہیں مفت خون کی فراہمی عظیم کام ہے۔نوجوانوں اور طلباء کو بڑھ چڑھ کر خون کے عطیات دینے چاہئیں ۔اس موقع پر حمزہ فائونڈیشن کے چیئرمین اعجاز علی خان نے کہا کہ ملک کو تھیلی سیمیا سے پاک کرنا ہمارا مشن ہے پوری دنیا میں6 کروڑ افراد تھیلی سیمیا کےمریض اور

یہ خبر پڑھیں :‌الکشنا 2018 : این اے 53 اسلام آباد ۔۔۔ تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے قرییں ساتھی عامر کاsنی کے خلاف اپنے ہی حلقے مںر ایین آواز بلند ہو گئی کہ پوری تحریک ا نصاف کو فکر لاحق ہو گئی

یہ خبر پڑھیں :‌ اداکارہ شبنم کے ساتھ زیادتی کا کسب : فاروق بندیال اور اسکے شریک جرم واردات کے بعد باآسانی فرار ہو گئے تھے مگر کچھ روز بعد ایک اور طوائف کی وجہ سے کسےر گرفتار ہو گئے ؟ دھماکہ خزا تفصلالت سامنے آگئںج

ہر سال تھیلی سیمیا کا شکار ہونے والوں کی تعداد 60 ہزار ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی تعداد6 سے8 ہزار تک ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد تھیلی سیمیاکےمریض ہیں جبکہ تھیلی سیمیا کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار ہے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں تھیلی سیمیا کے شکار بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حمزہ فائونڈیشن کی طرف سے گذشتہ گیارہ سال سے تھیلی سیمیا کے شکار ہزاروں بچوں کا مفت علاج کیا جا رہاہے سیمینا رسے ریاض یوسفزئی تھیلی سیمیا کی شکار ڈینٹل سرجن ڈاکٹر طاہرہ احسان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی اختتام پر واک بھی کی گئی۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2LSYlt6
via IFTTT

No comments:
Write komentar