Technology

Ads

Most Popular

Saturday, 2 June 2018

پاکستان تحریک انصاف سے نکالے جانے کے بعد فاروق بندیال کس سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابات میں حصہ لیں گے؟ ناقابل یقین خبر آگئی

 

جوہرآباد(ویب ڈیسک)تحریک انصاف میں شمولیت کے ایک ہفتہ بعد پارٹی سے نکالے جانیوالے معروف ٹرانسپورٹر ملک فاروق بندیال نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 93خوشا ب سے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ پی ٹی آئی کے نظریات ، پالیسیوں اور

پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی شخصیت سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے لیکن انہیں 80 کی دہائی کے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر مہم جوئی کے نتیجہ میں پارٹی سے الگ کردیا گیا حالانکہ تقریبا ً40سال قبل کا وہ واقعہ ان کے طالبعلمی کے دور کا تھا جس میں گینگ ریپ کا الزام بھی جھوٹا تھا۔ اس واقعہ کے بعد میں اپنی ساری زندگی خدمت خلق میں گزاری ہے ، میرے حلقہ کے عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،ان کے مسائل حل کرنے کیلئے انتخاب لڑنے کا پروگرام بنایا ہے ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر پارٹی میں شامل ہونے والے فاروق بندیال کو چند گھنٹے بعد ہی پارٹی سے نکال دیا۔سوشل میڈیا پر فاروق بندیال کے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ پنجاب کے ضلع خوشاب سے تعلق رکھنے والے فاروق بندیال کو 1979 میں خصوصی فوجی عدالت نے، لاہور کے علاقے گلبرگ میں فلمی اداکارہ شبنم کے گھر ’مسلح ڈکیتی‘ کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔24اکتوبر 1979 کو شائع ہونے والے نجی اخبار کی خبر میں کہا گیا کہ ’شبنم کے گھر ڈکیتی کے جرم

میں 5 مجرمان کو سزائے موت سنائی گئی۔‘ ان مجرمان میں سے ایک نام فاروق بندیال کا بھی تھا۔ فاروق بندیال نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس موقع پر کھینچی جانے والی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی جس میں فاروق بندیال کو عمران خان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔فاروق بندیال کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کو ’مجرم ثابت ہونے والے شخص‘ کو پارٹی میں شامل کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ چند رپورٹس کے مطابق فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کو سنائی گئی سزائے موت بعد ازاں جنرل ضیاالحق نے، مجرم کی جانب سے شبنم اور ان کے خاندان پر معافی کے لیے دباؤ ڈالنے کے بعد تبدیل کردی تھی، تاہم ان رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔1970 کی دہائی میں لولی وڈ کی پوسٹر گرل شبنم 1990 کے آخر میں اپنے آبائی ملک بنگلہ دیش چلی گئی تھیں۔دوسری جانب چند سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ فاروق بندیال ان 5 ملزمان میں شامل تھا جنہوں نے مبینہ طور پر اداکارہ کو 1978 میں ان کے گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2LQzTbO
via IFTTT

No comments:
Write komentar