لاہور(ویب ڈیسک )عائشہ احد نے کہا ہے کہ رب کا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے،آج ساڑھے سات سال بعد پرچے کا آرڈر ہوا ہے ۔عائشہ احد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سے کہا گیا کہ پرچہ دو گھنٹے کے اندر کٹے ،انشاءاللہ
سب گناہ گاروں کو سزا ہوگی ،انہوں نے کہا کہ جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے وہ چیف جسٹس کے پاس پہنچیں،چاہے دیر لگے انصاف ملے گا ،مجھ پر جو جھوٹے مقدمے کرائے گئے،فزیکل ٹارچر کرایا گیاتھا،میں نے سب کے نام دیے ہیں ،ان کا کہناتھا کہ حمزہ شہباز ،علی عمران یوسف ،رانا مقبول ،عتیق ڈوگر ،ذوالفقار چیمہ کے نام دیے ہیں،جتنے بھی لوگ ہیں ، پرچے کےساتھ انویسٹی گیشن ہوگی،میں اورمیری ٹیم بھی پیش ہوگی، ان کا کہناہے کہ انشاءاللہ ، اللہ بہتر کرے گا دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق ان کا کہناتھا کہ حمزہ شہباز ،علی عمران یوسف ،رانا مقبول ،عتیق ڈوگر ،ذوالفقار چیمہ کے نام دیے ہیں،جتنے بھی لوگ ہیں ، پرچے کےساتھ انویسٹی گیشن ہوگی،میں اورمیری ٹیم بھی پیش ہوگی، ان کا کہناہے کہ انشاءاللہ ، اللہ بہتر کرے گا ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عائشہ احد کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر حمزہ شہبازکو دوپہر ایک بجے طلب کر لیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی جان کو خطرے میں نہیں دیکھ سکتے ،حمزہ شہبازشریف جہاں کہیں بھی ہیں عدالت میں پیش ہوں ۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سماعت میں 2 رکنی بنچ نے عائشہ احد کو دھمکیاں دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی ،عائشہ احد نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیا کہ مجھے اورمیری بیٹی کوحمزہ شہبازسے جان کاخطرہ ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو کہاکہ شہبازشریف کوفون کرکے حمزہ شہبازکی پیشی یقینی بنائیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی جان خطرے میں نہیں دیکھ سکتے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئی جی صاحب ! میرے حکم پرگھبراکیوں جاتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ خواجہ سلمان بتائیں حمزہ شہبازکہاں ہیں؟،اس پر خواجہ سلمان نے جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ سارادن حمزہ کے ساتھ گھومتے ہیں اور کہتے ہیں مجھے پتہ نہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ حمزہ شہباز جہاں کہیں بھی ہیں،دوپہر ایک بجے حاضرہوں(ز،ط)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2sxjaBH
via IFTTT

No comments:
Write komentar