اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سری لنکااورتھائی لینڈمیں قید پاکستانیوں کوواپس لانے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سری لنکااورتھائی لینڈمیں قیدپاکستانیوں سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ
میں کی۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ سری لنکا سے قیدیوں کی واپسی کیلئے بات چیت چل رہی ہے جبکہ تھائی لینڈنے 19 قیدیوں کی منتقلی کیلئے35 ہزارڈالرمانگے ہیں۔چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ 35 ہزارڈالرکابندوبست کریں اورقیدیوں کوواپس لائیں ،دونوں ممالک میں پاکستانی قیدی انتہائی بری حالت میں ہیں۔سپریم کورٹ نے دونوں ممالک میں قید پاکستانیوں کوواپس لانے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔دوسری جانب یکا خبر کے مطابق محکمہ نظم و نسق بلوچستان نے سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والے سابق صوبائی وزرا، مشیروں اور معاونین پر آج سے ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے رات تک بلوچستان کے 7 سابق وزراء کو اپنی گاڑیاں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گاڑیاں جمع نہ کرانے پر ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہوگا اور ایک ہفتے کے بعد جرمانہ 2 لاکھ روپے روزانہ ہوجائے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں حکومت کی تحلیل کے بعد سابق وزراء، مشیروں اور معاونین سے سرکاری گاڑیوں کی واپسی کا عمل جاری ہے
اور اب تک محکمہ نظم ونسق کو 50 گاڑیاں وصول ہو چکی ہیں جبکہ 20 سے زائد گاڑیاں تاحال محکمے کو موصول نہیں ہوئی ہیں۔سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے لیے دو روز قبل کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی تھی، اس سلسلے میں متعلقہ افراد کو حتمی نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔محکمہ نظم ونسق کے ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان میں سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں کو بدھ سے یومیہ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابقاسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ضبط کی گئی گاڑیوں سے متعلق بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی سیاستدان کو سرکاری گاڑیوں پر انتخابی مہم نہیں چلانے دیں گے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے 2 جون کو سماعت کے دوران غیر استحقاق شدہ گاڑیوں کو ضبط کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزرا اور سرکاری افسران کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کا تمام ریکارڈ 5 جون کوطلب کیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آج مذکورہ کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران حکومت نے سپریم کورٹ میں لگژری گاڑیوں کے استعمال
سے متعلق رپورٹ پیش کی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ ‘کس قانون کے تحت سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کو بلٹ پروف گاڑی دی گئی؟’چیف سیکرٹری پنجاب نے آگاہ کیا کہ ‘سابق وزیراعلیٰ کو سیکیورٹی خدشات ہیں’۔جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘ہمیں بتائیں کس جگہ لکھا ہے کہ سیکیورٹی خدشات پر بلٹ پروف گاڑی دی جاتی ہے؟’ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ‘سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کے باہر بچوں کے کھیلنے کے پارک کی جگہ مورچے لگا دیئے گئے ہیں’۔چیف سیکریٹری نے جواب دیا کہ ‘پارک کی جگہ اب پارکنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور مورچے اور رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں’۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘مجھے شہباز شریف کے ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ کے باہر کی ویڈیو بنا کر دکھائیں’۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آج رات تک بلوچستان کے 7 سابق وزرا کو اپنی گاڑیاں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گاڑیاں جمع نہ کرانے پر ایک لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہوگا اور ایک ہفتے کے بعد جرمانہ 2 لاکھ روپے روزانہ ہوجائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ بلوچستان کی کُل 56 گاڑیاں ہیں، جن میں سے 49 ریکور ہوچکی ہیں۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2LqgUDZ
via IFTTT

No comments:
Write komentar