Technology

Ads

Most Popular

Friday, 2 March 2018

مشرقی غوطہ اور عفرین ۔۔دی رئیل اسٹوری

 

(تحریر: صابر ابو مریم)

(دوسرا حصہ)
مقالہ کے پہلے حصہ میں کوشش کی گئی تھی کہ مشرقی غوطہ اورشمال میں عفرین کے بارے میں مختصر تعارف سمیت وہاں پر موجود دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور ان کے آلہ کاروں کو بے نقاب کرنااور ساتھ ہی ساتھ حالیہ صورتحال کا پس منظر بیان کرنا تھا کہ آخر ایسے کیا حالات اور واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جس کے باعث شام سے متعلق ایک مرتبہ پھر شور شرابہ اور واویلا کیا جا رہاہے۔مقالہ کے اس حصہ میں کوشش کی جائے گی کہ موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے والی قوتوں امریکا اورا سرائیل کے ناپاک عزائم پر روشنی ڈالی جائے ۔

امریکا جو کہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں پے در پے سیاسی و عسکری محازوں پر شکست کھا چکا ہے، سیاسی محاذ پر اس طرح سے شکست کہ شام کے مذاکرات جنیوا سے نکل کر آستانہ چلے گئے اور پھر حالیہ دنوں میں ہی سوچی میں مذاکرات کا دور شروع ہونے جا رہاتھا جویقیناًامریکا کے لئے روز اول سے کسی طور پر بھی قابل قبول نہ تھا، کیونکہ امریکا یہ چاہتا تھا کہ شام سے متعلق مذاکرات اور کوئی بھی فیصلہ امریکی زیر اثر سیاستدانوں کے ہاتھوں انجام پائے جس کے نتیجہ میں امریکا شام میں مزید اپنا قیام باقی رکھ پائے، کیونکہ سنہ2011ء سے شروع ہونے والی صورتحال سے اب تک امریکا شام میں اپنا بمشکل ایک فوجی اڈا قائم کر سکا ہے جبکہ امریکی خواہش ہے کہ وہ مزید دو سے تین فوجی اڈوں کو رمیلان اور کوبانی کے علاقوں میں قائم کر کے شام کی تقسیم کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے، یہ وہی منصوبہ ہے جسے امریکا و اسرائیل نے داعش کی حکومت قائم کروا کر حاصل کرنا تھا لیکن داعش کی نابودی کے بعد اب امریکا کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہاہے۔بہر عسکری طور پر امریکا کی کوشش یہی ہے کہ شام میں زیادہ سے زیادہ فوجی اڈے بنائے جائیں اور شام کی تقسیم کے منصوبہ کے تحت شام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان حکومتوں کو براہ راست اور بالواسطہ کنٹرول کیا جائے۔

دوسری طرف اسرائیل ہے کہ جس نے پہلے ہی شام کی گولان کی پہاڑیوں پر غاصبانہ تسلط قائم کر رکھا ہے اور اب چونکہ ایران شام کی درخواست پر فوجی مدد کرنے شام میں موجود ہے تو یقیناًیہ بات اسرائیل کے لئے شدید خطر ناک سے خطرناک ہوتی چلی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل ہمیشہ ایران کو دھمکی دیتا آیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے لیکن ایران کی اب شامی حکومت کی درخواست پر شام میں مسلسل موجودگی اسرائیل کی سلامتی کے لئے خود خطرہ بن چکی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایرانی افواج نے شامی افواج کو جدید طرز پر تربیت یافتہ کرنے کا عمل بھی تیز کر رکھا ہے جس کی واضح مثال حالیہ دنوں میں اسرائیلی جدید ایف سولہ طیارے کا شامی طیارہ شکن بندوقوں نے شکار کر ڈالا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی ایک بڑی پریشانی کی وجہ یہی ہے کہ ایران مسلسل شام کی مدد نہ کرے ، حالانکہ ایران زبردستی تو شام میں نہیں آیا ہے ، جیسا کہ امریکا اور ترکی کی جانب سے مداخلت کی گئی ہے، جبکہ ایران اور روس کا معاملہ شامی حکومت کی درخواست سے متعلق ہے ،۔ اگر آج شامی حکومت ایران اور روس کو کہہ دے کہ وہ واپس چلے جائیں اور شام کی مدد نہ کریں تو یقیناًدونوں کو واپس جانا ہوگا، جبکہ امریکا اور ترکی سمیت اسرائیل مسلسل شامی حدود کی خلاف ورزیاں کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔حالیہ دنوں پاکستان میں نام نہاد سوشل میڈیا کے مجاہدین بھی در اصل ایران اور روس کے خلاف جعلی اور من گھڑت منفی پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں تو یقیناًیہ امریکی لائن کو ہی چلا رہے ہیں جو امریکا چاہتا ہے وہ یہاں پاکستان میں موجود چند ایک ناعاقبت اندیش امریکی مفادات کی خاطر مسلمانوں میں تفرقہ کی آگ کو بھڑکانے کا کام انجام دے رہے ہیں ۔

خلاصہ یہی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی داعش کے خاتمہ کے بعد سے خطے میں پریشانی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اب اس تمام صورتحال کا آغاز کر وا کر جہاں امریکا شام کی تقسیم کو مکمل کرنے کے در پے ہے وہاں ساتھ ساتھ ترکی کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ امریکا نے مشرقی غوطہ میں موجود دہشت گرد گروہوں کے لئے چار بلین ڈالر کا بجٹ بھی مختص کیا ہے جو انہیں دیا جائے گا۔شام کی تقسیم سے متعلق امریکی پلان اور شام میں مزید امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے عنوان سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی چند ماہ قبل اشارہ کیا تھا۔اب غوطہ کی تمام تر صورتحال سے امریکا بھرپور انداز میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

غوطہ کی صورتحال سے امریکا کا تعلق اس لئے بھی زیادہ بن جاتا ہے کیونکہ امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے منصوبوں میں مشرقی علاقوں بالخصوص نہر فرات ،رقہ، دیر الزور وغیرہ کے علاقے ہیں جو کہ اسٹریٹجک عنوان سے اہم ترین علاقے ہیں اور یہاں تمام مقامات پر اب داعش کی موجودگی نہ ہونے کے باعث امریکا کی خواہش یہی ہے کہ داعش کا کوئی نعم البدل فراہم کیا جائے یا پھر امریکی فوجی اڈوں کا قیام عمل میں لا کر شام کو تقسیم کرنے کے امریکی ناپاک منصوبہ کوعملی جامہ پہنایا جائے۔واضح رہے کہ امریکا کے شام سے متعلق تقسیم منصوبے میں برطانیہ، اسرائیل، فرانس، سعودی عرب، مصر،اردن ،قطر اور دیگر ایسے خلیجی ممالک کہ جنہوں نے اپنی عزت و حمیت امریکی شیطان کے ہاتھوں فروخت کر رکھی ہے وہ سب کے سب شامل ہیں، چہ جائیکہ امریکی اتحاد میں موجود متعدد عربو خلیجی ممالک کے ہاتھ یمن کے دسیوں ہزار معصوم انسانوں کے خون سے رنگین ہو چکے ہیں جہاں پر اسرائیلی پائلٹ تک عرب طیاروں میں بیٹھ کر یمن پر بمباری کرتے پھرتے ہیں۔

بہر حال موضو ع پر رہتے ہوئے ہی گفتگو پیش کرنے کی کوشش کریں گے، چونکہ شام میں امریکی موجودگی ، شام کی تقسیم کا منصوبہ، اورشام میں موجود ایران و روس کی موجودگی یہ تمام عوامل یقیناًامریکا و اسرائیل اور اسی طرح ان کے اتحادی عرب وغیر عرب ممالک کے لئے نا پسندیدہ ہیں، دنیا یقیناًاس حقیقت سے بھی منہ نہیں پھیر سکتی کہ شام و عراق میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں النصرۃ وغیرہ کو اگر کسی نے شکست دی ہے تو وہ شام، ایران، روس اور عراق ہیں کہ جن کی مشترکہ کوششوں سے شام و عراق سے داعش کا فتنہ نابود ہواہے۔مقالہ کے دوسرے (اس) حصہ میں امریکا اور اسرائیل سمیت عرب و یورپی ممالک کے شام میں مفادات اور ان کے شام سے متعلق وہ منصوبے بیان کئے گئے ہیں کہ جن کے لئے گذشتہ کئی برس سے ان قوتوں نے داعش، النصرۃ ، القاعدہ اور نہ جانے کس کس نام سے دہشت گرد گروہوں کے ناجائز اور دہشت گردانہ افعال کی حمایت کی ہے جبکہ ان کے خلاف مزاحمت کرنے والی شامی افواج اور دیگر اتحادیوں کی مذمت مغربی و عربی ممالک کا ہمیشہ سے وتیرہ رہاہے، دراصل مشرق وسطیٰ کے وہ تمام عرب و غیر عرب ممالک جو شام کی سنگین صورتحال کو پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں شاید اس بات سے واقف نہیں کہ امریکا و اسرائیل کل کو ان ممالک کو بھی ایسے ہی دہشت گرد گروہوں کے ذریعہ نشانہ بنائیں گے اور پھر ان کا کوئی بھی مدد گار نہ ہو گا۔اب مقالہ کے تیسرے حصہ میں مشرقی غوطہ میں جاری صورتحال اور حقائق سے متعلق گفتگو پیش کی جائے گی اور اس سے منسلک بالخصوص پاکستان میں جو کچھ جھوٹ اور منفی پراپیگنڈا کیا جارہاہے اس کے بارے میں بھی بات کی جائے گی۔(جاری ہے)

The post مشرقی غوطہ اور عفرین ۔۔دی رئیل اسٹوری appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ http://ift.tt/2t7pJ1j
via IFTTT

No comments:
Write komentar