Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 28 March 2018

عالمی برادری نے بے حسی کی ایک مثال قائم کردی

 

(تسنیم خیالی)
گزشتہ پیر کے روز یمن کے مزاحمت کاروں نے سعودی عرب پر 7بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے 3 سعودی دارالحکومت ریاض، ایک خمیس مشیط نامی علاقہ، 3نجران اور 2میزائل جیزان پر داغے گئے، عرب ممالک، اقوام متحدہ حتیٰ کہ اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ نے ان حملوں کی شدید مذحمت کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی سالمیت خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے حملوں کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا جو کہ انتہائی شرمناک موقف ہونے کے ساتھ ساتھ بے حسی کا فقیدالمثال مظاہرہ ہے، سعودی عرب اور اس کے اتحادی گزشتہ 3 سالوں سے یمن کے مختلف شہروں پر بم برسائے ہیں شہریوں کا قتل عام کرتے آرہے ہیں، یمن کو ’’نو فلائی زون‘‘ قرار دے رکھا ہے، یمن بندرگاہوں کو بند کررکھا ، یمن تک انسانی امداد کی رسائی ناممکن بنارکھا ہے، کیا یہ سب یمن کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ نہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ سب عالمی برادری کے نزدیک کیا ہے؟

تین سالہ جارحیت میں اب تک 14291یمنی شہری مارے جاچکے ہیں اور مارے جانے والوں میں بچوں کی تعداد 3057 ہے، اس قتل وغارت گری پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی کوئی مذمت نہیں کی گئی کسی نے بھی مطالبہ نہیں کیا کہ یمن پر جاری حملوں کو فی الفور روکا جائے، سب سے زیادہ حیرانگی ’او آئی سی‘‘ پر ہوتی ہے جس پر شروع سے ہی یہ ذمہ داری عائد تھی کہ وہ کسی نا کسی طرح یمن جنگ کو شروع نہ ہونے دے اور اگر وہ شروع ہوگئی تھی تو اسے فی الفور بند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی مگر اس نے ایسا کرنے کی زحمت نہیں کی ، او آئی سی کی ذمہ داریوں میں ایک یہ ہے کہ وہ اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات، تنازعات اور کشیدگیوں کو دور کرتے اسلامی ممالک کے درمیان امن قائم کرے، مگر او آئی سی اپنی اس ذمہ داری کو ترک کرتے ہوئے یمن جنگ میں سعودیوں کی حمایت کرتا ہو ا نظر آرہا ہے گویا یمن مسلم ملک نہیں اور یمنی مسلمان نہیں۔

یمنیوں نے سعودی عرب پر ایک دم سے 7میزائل کیا داغے برادری کو اچانک انسانی حقوق اور عالمی قوانین یاد آگئے، گزشتہ 3سالوں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر ہزاروں میزائل اور بم مارے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اس وقت کیا عالمی برادری کو انسانی حقوق اور عالمی قوانین یاد نہیں تھے، مغرب سے لیکر مشرق ، شمال سے لیکر جنوب تک دنیا کے سبھی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کا کیا حال کیا ہے اور یمنی کس طرح اپنا دفاع کررہے ہیں، کیا دشمنوں کےخلاف اپنے ملک کا دفاع کرنا انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؟

عالمی برادری کو اگر بے حس برادری کہا جائے تو میرے خیال میں زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ یہ برادری ہمیشہ ظالم کی نصرت اور مظلوم کی مذمت کرتی آرہی ہے، آپ خود غور کریں مسئلہ فلسطین میں یہ برادری بھارت کی نصرت اور کشمیریوں کی مذمت میں آواز بلند کرتی ہے، شام کے معاملے میں بھی یہ برادری شام کی تباہی کا ذمہ دار بشارالاسد اور ان کی حکومت کو ٹھہراتی ہے جبکہ اصل ذمہ دار دہشت گرد تنظیمیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک ہیں، یہی عالمی برادری روہنگیا مسلمانوں کی نصرت نہیں کرتی اور یہی عالمی برادری بحرینی عوام کی مدد نہیں کررہی، اس عالمی برادری کی نظر میں لبنان پر اسرائیل کا حملہ درست جبکہ لبنان کے دفاع میں حزب اللہ کی اسرائیل فوج کے خلاف مزاحمت اور اس فوج کے خلاف کارروائی غلط اور دہشت گردی ہے، دنیا میں اس وقت عالمی برادری کا کردار صرف اور صرف منافقت پر مبنی ہے، لہٰذا یمنی مزاحمت کاروں کے لیے بہترین آپشن یہی ہے کہ وہ دشمنوں کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں ان کی یہ مزاحمت آج نہیں تو کل دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گی، رہی عالمی برادری کی بات تو اس دفع کرنے میں ہی عافیت ہے۔

The post عالمی برادری نے بے حسی کی ایک مثال قائم کردی appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2Gjp1A6
via IFTTT

No comments:
Write komentar