Technology

Ads

Most Popular

Friday, 2 March 2018

شام کے خلاف پروپیگنڈے کی حقیقت اور اسکے پیچھے چھپے امریکی مقاصد

 

آج کل شام میں حقوق بشر یعنی ہیومن رائٹس واچ کے لئے سوشل میڈیا پر ایک زبردست تحریک چل رہی ہے جس میں خون سے لت پت معصوم بچوں ،تباہ حال عمارتوں ،ویران مساجد اور خواتین کے حق میں زیادتی وغیرہ کے ساتھ کارٹون یا گرافک کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر واٹس ایپ اور فیس بک وغیرہ پر کثرت کے ساتھ شائع کی جارہی ہیں۔

دیکھنے میں ایسی پوسٹیں انسانیت اور شامی عوام کی حمایت اور تحفظ کے جذبہ سے سرشار لگتی ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک شیطانی اور سامراجی سیاست کا حصہ ہیں اور اس کے ذریعہ شامی عوام کی حمایت نہیں بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمنوں اور استعماری طاقتوں کے پروپپگنڈہ مشینری کی مدد کی جارہی ہے چونکہ استعماری طاقتوں کا کا درپردہ مقصد ایران، شام اور حزب اللہ نیز دیگر مقاومتی لشکر پر بین الاقوامی دباؤ بنا کر انہیں دہشتگردوں کا صفایا کرنے سے روکنا اور دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرکے کسی نئے محاذ پر منتقل کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یقیناً شام میں مسلسل پانچ برس تک انسانوں کا خون پانی سے بھی سستا تھا اور جب داعشی درندوں نے اپنے آقاؤں کے نمک کا حق ادا کرتے ہوئے اس سرزمین پر وہ سب کام کئے جن سے قیامت تک انسانیت شرمندہ ہوتی رہے گی لیکن اب تو شام کا ۹۲ فیصد سے بھی زیادہ علاقہ شامی فوج کے زیر نظارت ہے اور امریکہ اپنے داعشی گروہوں کو کسی اور محاذ پر لگانے کے لئے ہر روز دہشتگردوں کے خلاف نام نہاد اتحاد کا بہانہ بنا کر عام لوگوں پر بم برسا رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دہشتگردوں نے شام کا بہت نقصان کیا چونکہ وہ تو تھے ہی اس ملک کے جانی دشمن لیکن امریکہ نے بھی بنام حمایت کم مظالم نہیں ڈھائے بلکہ امریکی اتحاد کے حملوں میں مرنے والے شامی عوام کی کل تعداد 7000 سے بھی زیادہ بتلائی جاتی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پردکھائی جانے والی تصویریں کہ جنہیں شامی منتخب حکومت اور ان کے اتحادیوں کی تصویر مسخ کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ان میں سے ایک تصویر جو سب سے زیادہ دل دکھا دینے والی ہے وہ شام کی نہیں بلکہ فلسطین کی ہے اور یہ تصویر اس وقت کی ہے جب اسرائیل نے فلسطین پر جم کر بمباری کی تھی 3 برس پہلے لکھے اس بلاگ میں آپ اس تصویر کو دیکھ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی دوسری تصویر اس وقت پہلی بار وائرل ہونا شروع ہوئی تھی جب شامی فوج حلب سے دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں مشغول تھی اور 2016 کے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں اس تصویر کو دیکھا جاسکتا ہےاورتیسری تصویر عراق کی ہے جو رائٹر کے فوٹو گرافر نے لی ہے اس تصویر میں ایک شخص روتا ہوا عراقی فوج کی طرف دوڑ رہا ہے اور یہ تصویر اس وقت کی ہے جب عراقی فوج نے داعش کے اہم مرکز موصل پر حملہ کیا تھا جبکہ چوتھی تصویر جو نئی ہے یہ صرف شام کی ہے مگر اس بارے میں قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ امریکی حملے کا نتیجہ ہے یا عفرین کے علاقہ میں جاری ترکی آپریشن کی دین ہے۔

رپورٹ کے مطابق شام کے مسئلہ میں آج کل میڈیا الگ ایجنڈے پر کام کررہا ہے اور اسی لئے کئی دن سے مسلسل افواہیں اور فرضی تصویروں کا استعمال کرکے بشارالاسد کو ایک خطرناک ڈکٹیٹر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ رائے عامہ کے میدان کو استعمار کی خدمت کے لئے ہموار کیا جاسکےکیونکہ جن لوگوں کو حقیقت حال کا علم نہیں ہوتا وہ اسطرح کی افواہوں سے زیادہ متأثر ہوکر بنا سوچے سمجھے تنقید کرنے لگتے ہیں اور جن تصاویر کو آج کل سوشل میڈیا پر بنام شام پیش کیا جارہا ہے ان کا مقصد یہی ہے کہ امریکہ پراکسی دہشتگردوں جو کہ شام میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہیں کو بچایا جاسکے اور اسکےلئے امریکہ آج کل شام میں بچے کھچے دہشتگردوں کو افغانستان منتقل کرنا چاہتاہے تاکہ وہ اس ملک کے مزید سرمائے کو لوٹنے کا جواز فراہم کرتا رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اسے یہ کام کرنے کے لئے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔بشکریہ نیوز نور

The post شام کے خلاف پروپیگنڈے کی حقیقت اور اسکے پیچھے چھپے امریکی مقاصد appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ http://ift.tt/2GWrDno
via IFTTT

No comments:
Write komentar