کراچی(ویب ڈسک)بھارتی برآمد کنندگان کی جانب سے غیر میعاری روئی دینے پر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے درآمدی روئی کی بھارت میں پری انسپکشن کرانے اورکچھ نے انڈین ایکسپورٹرز کے خلاف انٹرنیشنل کاٹن ایسوسی ایشن(آئی سی اے) میں اپیل داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آئندہ ملزروئی لینے سے پہلے معائنہ
کاری کیلیے نمائندہ بھی بھارت بھیجاجائیگا،کاٹن۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ چند ماہ قبل حکومت پاکستان کے بھارت سے ڈیوٹی فری روئی کی درآمد کی اجازت دیے جانے کے باعث کئی پاکستانی ٹیکسٹائل ملزنے بھارت سے بڑے پیمانے پر روئی درآمدی معاہدے کیے تھے تاہم درآمد شروع ہونے سے قبل ہی روئی کی قیمتوں میں 5 سے 10 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے باعث کئی بھارتی برآمد کنندگان نے پاکستانی ٹیکسٹائل ملزکے ساتھ کیے گئے سودے غیراعلانیہ طور پر منسوخ کردیے تاہم بھارت سے پاکستان آنے والی روئی کا معیارکچھ عرصے سے کافی خراب دیکھا جا رہا ہے۔جس پر پاکستانی ٹیکسٹائل نے فیصلہ کیا ہے کہ روئی کی درآمد سے قبل ان کے نمائندے بھارت جا کر روئی کی پری انسپکشن کریں گے تاکہ غیرمعیاری روئی درآمد ہی نہ کیا جائے جبکہ اطلاعات کے مطابق بعض پاکستانی ٹیکسٹائل ملزنے غیرمعیاری روئی برآمد کرنے والے ایسے بھارتی روئی برآمد کنندگان جو کلیم بھی قبول نہیں کر رہے کے خلاف آئی سی اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں بلیک لسٹ کرایا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی بھارتی روئی برآمد کنندگان روئی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کئی مرتبہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کے ساتھ
کیے گئے روئی برآمدی معاہدے منسوخ کر چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا پاکستان کا اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا پاکستان پر سیاسی پابندیاں لگاسکتا ہے جبکہ عارضی طور پر روکی گئی فوجی امداد بھی مستقل بند کی جاسکتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے بعض پاکستانی سرکاری اہل کاروں پر ویزے کی پابندیاں لگانے پر بھی غور شروع کردیا۔فارن پالیسی نے سینیئر امریکی اہل کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ دو ماہ پہلے فوجی امداد روکے جانے کے باوجود پاکستان اپنی سرزمین پر افغان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا ہے۔اہلکاروں کے مطابق امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اہل کاروں کے تحفظ کے لیے جو ضروری سمجھتا ہے وہ کرنے کے لیے تیار ہے۔پاک-امریکا تعلقات میں تناؤ۔رواں سال یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹ کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2uwQFZa
via IFTTT

No comments:
Write komentar