لاہور(ویب ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے زینب کی زندگی پربننے والی فلم پرازخودنوٹس لے لیا ،عدالت نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے وکیل سے رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس زینب کے والدحاجی امین کی درخواست پرلیا،جس میں کہا گیا ہے کہ میری
بیٹی کی زندگی پر اجازت کے بغیر فلم بنائی جا رہی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا کااس معاملے میں کیا کردار ہے،اس حوالے سے رپورٹ دی جائے،عدالت نے صوبائی اوروفاقی حکومتوں کے وکیل سے رپورٹ طلب کرلی،چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیا کہ ایسی فلمیں نہیں بننی چاہئیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کردی۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے قصور کی زینب قتل کیس میں ملزم عمران کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کی۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ آئندہ ہفتے اپیل پر سماعت کرے گا۔اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے زینب کےوالد حاجی امین سے سکیورٹی واپس لینے کاحکم دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اب سکیورٹی کی کوئی ضرورت نہیں جس سے خطرہ تھا وہ جیل میں ہے۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے زیادتی کی شکار کائنات کے علاج اور معاوضے سے متعلق بھی آج اتوار کے روز رپورٹ طلب کرلی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) زاہد سعید نے بتایا کہ کائنات کا علاج
پاکستان سمیت پوری دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ کائنات علاج کی اسٹیج سے گزر چکی ہے لہٰذااس کی دیکھ بھال ہو سکتی ہے علاج ممکن نہیں۔واضح رہے لاہور ہائیکورٹ نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی۔لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 17 فروری کو زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو 4 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف اس نے اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔نجی نیوز کےمطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور نے درخواست کی سماعت کی۔دوران سماعت مجرم عمران کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مجرم عمران اصل مجرم نہیں، ٹرائل کورٹ نے عجلت میں فیصلہ سنایا۔وکیل کے دلائل پر جسٹس صداقت علی نے کہا کہ عدالتوں کے بروقت فیصلے پر آپ کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے، مجرم نےسزا میں کمی کی اپیل کی اور آپ بریت کی بات کررہے ہیں؟جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیئے کہ مجرم عمران کو ڈی این اے میچ ہونے پر پکڑا گیا، 1187 افراد میں سے صرف عمران کا ڈی این اے میچ ہوا، تفتیش میں ثابت ہوچکا ہے کہ عمران ہی اصل مجرم ہے۔عدالت نے سماعت مکمل ہونے کےبعد مجرم عمران علی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی۔واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں کمسن زینب کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2HgycB8
via IFTTT

No comments:
Write komentar