Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 20 June 2018

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے عمران خان کیا کچھ کرتے رہے؟ نگران وزیر داخلہ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان سے رابطہ ہوا۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ اعظم خان کا کہنا تھا کہ

یہ خبر پڑھیں۔ : نثار صاحب! پلز خاموش رہںی۔۔۔۔۔ چودھری نثار علی خان کی طرف سے بولنے کا اشارہ ملنے پر سابق وزیرداخلہ کے پاس کونسے رہنما منت سماجت کے لےا پہنچ گئے؟ ناقابل ینہ خبر آگئی

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے مجھے کسی نے فون نہیں کیا اور اس حوالے سے عمران خان یا زلفی بخاری سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو انڈرٹیکنگ بھیجی گئی جس میں عمرے کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کی اجازت مانگی گئی تھی، سیکرٹری داخلہ نے مجھے ایک ماہ کی درخواست دی تاہم میں نے 6 دن کی اجازت دی۔نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست نیب نے کی جب کہ وزارت داخلہ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا، کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنا طویل مرحلہ ہے اور کابینہ سے منظوری لینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بہت ساری رپورٹس غلط آئیں، وزیراعظم نے پوچھا میڈیا میں کیا چل رہا ہے مجھے بھی بتائیں لہذا وزیراعظم کو معاملے پر اپ ڈیٹ کر دیا تھا۔دوسری جانب نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ نے مجھے ایک ماہ کی درخواست دی تاہم میں نے 6 دن کی اجازت دی۔(ف،م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2K5P0A7
via IFTTT

No comments:
Write komentar