Technology

Ads

Most Popular

Friday, 2 March 2018

ایک رلا دینے والی خبر : خاک وخون میں ڈوبے شام سے تن تنہا اردن کی طرف ہجرت کرنے والے اس بچے کے ہاتھ میں موجود لفافے سے ایسی چیز برآمد ہو گئی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں نم ہو گئیں

 

لاہور (ویب ڈیسک) لیجیے شام سے ایک دل چیر دینے والی خبر ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔ یہ ایک چار سالہ بچہ ہے جو شام سے اکیلے ریگستان سے گزر کر ھجرت کرکے اردن کی طرف گامزن پایا گیا ۔ اس بچے کے پاس نہ کھانا تھا اور نہ پیسے بلکہ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا

جس میں اس کی ماں اور بہن کے کپڑے تھے ۔۔ یہ بچہ یو این او کی ٹیم کو دوسرے لوگوں کے ساتھ قافلے میں سب سے پیچھے اکیلا ہی چلتا ھوا نظر آیا ۔ ٹیم کے کارکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اتنے بڑے صحرا میں صفر کرنے والے اس بچے کے پاس نہ پانی تھا نہ کھانا اور نہ ہی زاد راہ کے طور پر نقدی بلکہ شاید خود سے بچھڑ جانیوالی مان اور بہن کی نشانیاں انکے کپڑے ہی تھے اور انہیں انتہائی ضروری سامان سمجھ کر یہ بچہ اکیلا اس صحرا میں سفر کرتا رہا ۔ملا دنیا بھر میں جہاں کہیں شامی مہاجرین آباد ہیں ،انہیں کسی حدتک پھر بھی ضروریات زندگی پہنچ رہی ہیں۔جب کہ شام میں پھنسے اب بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں نہ صرف غذائی قلت کا سامنا ہے،بلکہ سردی اور بارش سے بچاؤ کے لیے مناسب سہولیات بھی درکار ہیں۔یونسیف کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سالہ شامی خانہ جنگی کےدوران ایک لاکھ اکیاون ہزار سے زیادہ شامی بچے پیدا ہوئے۔تقریبا8.4ملین شامی بچوں میں سے ہرشامی بچہ خانہ جنگی سےمتاثر ہورہاہے۔ان میں زیادہ مشکلات ان مہاجرین بچوں کو ہے جو کیمپوں میں پیدا ہوئے۔مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سےیہ بچےکئی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ان بچوں کی مدد کے لیے یونیسف ادارہ اپنے طور پرکام کررہاہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ کاادارہ یو این ایچ سی آر بھی شامی مہاجرین کے لیے متحرک نظرآتاہے۔لیکن اقوام متحدہ جب شامی خانہ جنگی کےحل کے لیے پچھلے چھ سالوں سے کچھ نہیں کرسکا تو لاکھوں مہاجرین کے لیے بھلا کتنی سنجیدہ کوشش کرسکتاہے؟۔اس لیے اصل کام مسلمانوں کا ہےکہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ترکی،قطر اور سعودی عرب نے شامی مہاجرین کی مدد کے لیے جوکوششیں کیں وہ قابل ستائش ہیں۔لیکن چند ممالک کی تنہاجدوجہد سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ساٹھ لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی مد د کے لیے پورے عالم اسلام کو متحرک ہونا ہوگا۔ بالخصوص پاکستان کو اپنے شامی مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔کیوں کہ یہی وہ واحد ملک ہے جواسلام اور مسلمانوں پر آئے مشکل وقت میں اپنا اہم کرداراداکرتاہے۔اس لیےحکومت پاکستان اور ہرپاکستانی اور ہرمسلمان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنےشامی مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے حسب وسعت مالی مدد کرے،ورنہ کم ازکم دعاؤں میں ضرور اپنے مظلوم بھائیوں کو یادرکھے۔تاکہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان”انصرأخاك ظالما اومظلوما”(اپنےمظلوم بھائی اور ظالم کی مددکرو،ظالم کو ظلم سے روک کر اور مظلوم کو ظلم سے بچا کر)پر عمل ہوجائے اورشامی مظلوموں کے دکھوں کا مداواکرکے دین اسلام سے دور کرنے والے عناصر سے انہیں بچایاجاسکے۔(ش س م)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://ift.tt/2FLVeRd
via IFTTT

No comments:
Write komentar