نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)ہندوستان کے ایک معروف سیاسی مبصر نے عراق وشام میں اسلامی جمہوریہ ایران کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک کامیاب قوت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف جہاں سعودی عرب کی غلط پالیسیوں کے باعث مشرق وسطیٰ علاقے کے ہزاروں لوگ موت کی بھینٹ چڑے ہیں وہیں دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے اصولی پالیسی اپنا ئی ہے۔
’’جاوید اقبال خان‘‘نے عراق وشام میں اسلامی جمہوریہ ایران کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک کامیاب قوت قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف جہاں سعودی عرب کی غلط پالیسیوں کے باعث مشرق وسطیٰ علاقے کے ہزاروں لوگ موت کی بھینٹ چڑے ہیں وہاںدوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے اصولی پالیسی اپنا ئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دیگر ممالک میں امن واستحکام قائم کرنے میں اہم کرداراداکیا ہے اورہمیشہ اسلامی ممالک کی حمایت کرنے میں سب سے آگے رہا ہے۔سعودی حکام کی گمراہ کن پالیسیوں کے بارے میں انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اوراسکے بعض علاقائی اتحادی دہشتگرد گروہوں پر بے تحاشہ سرمایہ لگاتے رہے ہیں ۔
انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایران اورامریکہ کے کردار کا موازانہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مخلص نہیں ہے اوراس نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں کبھی پوری نہیں کی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت امریکہ کو ایران کو ماڈل بناکرنیک نیتی کےساتھ دہشتگردی کے چلینج کو قبول کرنا چاہئے۔
موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام ادیان کے درمیان امن اوربھائی چارے کا حامی ہے تمام ممالک کو دہشتگردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے تجربے سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ امن ،انسانیت اور مختلف اقوام کے درمیان بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے ۔
ہندوستانی تجزیہ نگار نے دنیا بھر کے ممالک میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایران کی کردارکے بارے میں کہاکہ آج دنیا کے مختلف ممالک دہشتگردی سے متاثر ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کے باعث یورپ سمیت دیگر براعظموں میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہوسکا ہے ۔
The post آل سعود کے اعمال مشرق وسطیٰ کے عوام کے قتل عام کا باعث:ہندوستانی مبصر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2Gj64Sc
via IFTTT


No comments:
Write komentar