Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 29 March 2018

محمود عباس سعودیوں کے ہاتھ نہیں آرہے

 

(تسنیم خیالی)
امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے میں بلاشبہ متعددعرب ممالک شامل تھے جن میںسعودی عرب اور مصر شامل ہیں اور فلسطینی صدر محمود عباس جواس سے نالاں ہیں ،عرب ممالک کی خیانت کا بخوبی ادرا ک رکھتے ہیں،سعودی عرب کو بھی بخوبی اندازہ ہے کہ محمود عباس’’صدی کی ڈیل‘‘ پر راضی نہیں اور اس کوفلسطینیوں کی پیٹھ پر وار کی مانند جانتے ہیں اس لئے سعودیوں نے حال ہی میں محمود عباس کے غصے کو ٹھنڈا کر نے کےلیے سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی جسے محمود عباس نے ٹھکراتے ہوئے صدی کی ڈیل میں ملوث سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے منہ پر زور دار طمانچہ دے مارا، ویسے تو سعودی عرب کو’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے محمود عباس کا موقف پسند نہیں، جس کے بعد سعودیوں نے کافی کوشش کی تھی کہ محمود عباس کو ’’صدی کی ڈیل‘‘ پر قائل کریں البتہ عباس اپنے موقف پر مصر ہیںاور سعودی فلسطینی صدر سے ملاقات کر کے انھیں ڈرا دھمکا کے امریکی ڈیل کو قبول کروانا چاہتے ہیں۔

اب محمود عباس غیر معمولی جرأت دکھاتے ہوئے واضح طور پر سعودی عرب جانے کی سعودی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ فلسطینیوں کوبھی ’’صدی کی ڈیل ‘‘ قبول نہیں، عباس کہتے ہیں کہ وہ اس ڈیل کے معاملے میں کسی بھی ملک کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے خواہ وہ ملک سعودی عرب ہی کیوںنہ ہو۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلسطین اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اس وقت کافی کشیدہ ہیں کیوںکہ سعودی عرب ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے امریکہ کا ساتھی ہے، اور ایسی صورت حال میں سعودی فلسطین کشیدگی لمبے عرصے تک جاری رہنے کے قوی امکان ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب کو اب متبادل فلسطینی قیادت کی تلاش ہے جو ’’صدی کی ڈیل‘‘ قبول کرے، محمود عباس اور سعودی عرب کے درمیان اختلاف کی اصل وجہ محمود عباس کے جانشین پر تھی، کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب، مصر اور امارات محمود عباس کی جگہ فلسطین کی حکمران جماعت ’’فتح‘‘ کے برطرف رکن محمد دحلان یا پھر موجود فلسطینی انٹیلی جنس چیف ماجد فرج کو لانا چاہتے ہیں جس کا علم محمود عباس کو بھی ہے، مگر ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا معاملہ اور اس میں سعودی عرب کے کلیدی کردار نے محمود عباس اور سعودی عرب کے درمیان اختلاف کو اس قدر بڑھادیا ہے کہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کرتا تھا، فلسطینیوں کو صدی کی ڈیل قبول کروانے کے لیے اس وقت محمد بن سلمان اپنی پوری کوشش کررہے ہیں اور اس ضمن میں وہ ہر قسم کا حربہ استعمال کرسکتے ہیں اور کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اس نوبت پر فلسطین اور فلسطینیوں کو پہنچانے میں خود محمود عباس کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، محمود عباس دہائیوں سے سعودی رحم وکرم پر چلتے رہے، انہوں نے وہ ہر حکم مانا جو ریاض کے محلوں سے نکلتاتھا، محمود عباس کو جان لینا چاہیے تھاکہ سعودی عرب یہ سب کچھ بلا وجہ نہیں کرررہا اور ایک دن اس نے اپنی کرم نوازی کا بدلہ ضرور وصول کرنا ہے جو کہ آج صدی کی ڈیل کی صورت میں نظر آیا ہے، محمود عباس نے اپنے ذاتی مفادات کو فلسطین اور فلسطینیوں کے مفادات پر ترجیح دی جس کا خمیازہ انھیں اس وقت بھگتنا پڑرہا ہے، محمود عباس کی ایک اور غلطی یہ بھی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی نصرت کے لئے آل سعود جیسے ظالموں کے پاس چلے گئے۔

The post محمود عباس سعودیوں کے ہاتھ نہیں آرہے appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2pPeoxR
via IFTTT

No comments:
Write komentar